بھارت کے ساتھ سرکریک سمیت تمام تصفیہ طلب معاملات پر مذاکرات کیلئے تیار، پر امن ہمسائیگی پر یقین رکھتے ہیں، مسئلہ کشمیر پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا

افغان تنازعہ کے سیاسی حل سے متعلق پاکستان کے موقف کو امریکا سمیت دنیا نے تسلیم کر لیا، زلمے خلیل زاد نے کے دورے میں کوئی شرط نہیں رکھی گئی ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کی ہفتہ وار پریس بریفنگ

جمعرات دسمبر 17:29

بھارت کے ساتھ سرکریک سمیت تمام تصفیہ طلب معاملات پر مذاکرات کیلئے تیار، ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 دسمبر2018ء) پاکستان نے ایک پھر واضح کیا ہے کہ مسئلہ کشمیر پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، بھارت کے ساتھ سرکریک سمیت تمام تصفیہ طلب معاملات پر مذاکرات کیلئے تیاراور پر امن ہمسائیگی پر یقین رکھتے ہیں۔پاکستان افغان تنازعہ کے سیاسی تصفیہ کیلئے امریکا کا کوئی مطالبہ تسلیم نہیں کریگا، افغان تنازعہ کے سیاسی حل سے متعلق پاکستان کے موقف کو امریکا سمیت دنیا نے تسلیم کر لیا۔

کرتار پورہ راہداری اگلے سال بابا گرو نانک کے 550 ویں یوم ولادت کی تقریبات سے قبل مکمل ہو گی۔مسئلہ کشمیر سے معلق چین کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئیگی۔جمعرات کو ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے ایک سوال کاجواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ اگر کسی کا یہ خیال ہے کہ کرتار پورہ راہداری کی وجہ کشمیر کا معاملہ پیچھے جائے گا تو یہ اس کی خام خیالی ہے۔

(جاری ہے)

ترجمان نے کہا کہ مسلہ کشمیر پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، کشمیر کا تنازعہ بھارت کے ساتھ بنیادی مسئلہ ہے۔ترجمان نے چینی سرکاری ٹی وی پرمقبوضہ کشمیرکو بھارت کا حصہ دکھانے سے متعلق رپورٹ کو مسترد کیا اور کہا کہ چین نے اس معاملے پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ نقشے میں مقبوضہ کشمیر کو سفید رنگ میں متنازعہ علاقہ ظاہرکیا گیا ہے۔چین کا کہنا ہے کہ مسلہ کشمیر سے معلق ان کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان سرکریک سمیت تمام تصفیہ طلب معاملات پر بھارت کے ساتھ مذاکرات کیلئے تیار ہے لیکن نئی دہلی کا آگے نہ بڑھنا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔بھارت ایک دن مان جاتا ہے تو دوسرے دن اپنی ہی بات سے مکر جاتا ہے۔انہوں نے ہے کہ ہم پر امن ہمسائیگی ہر یقین رکھتے ہیں۔امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کے دورہ پاکستان سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ افغان تنازعہ کے سیاسی تصفیہ سے متعلق پاکستان کے موقف کو امریکا سمیت دنیا نے تسلیم کر لیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ہمیشہ سے ایک ہی موقف رہا ہے کہ افغانستان کے تنازعہ کا فوجی حل ممکن نہیں اور یہ معاملہ صرف پر امن بات چیت سے حل کیا جا سکتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ آج افغان تنازعہ کے پر امن حل کیلئے امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل ذاد اور قطر سمیت دیگر سطح پر سرگرمیاں جاری ہیں اور ہمارے موقف کو ہی اپنایا جا رہا ہے۔ترجمان نے کہا زلمے خلیل زاد نے کے دورے میں کوئی شرط نہیں رکھی گئی۔

کشمیر کی تازہ صورتحال سے متعلق ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی افواج کے مظالم کا سلسلہ آج بھی جاری ہے، سیکڑوں معصوم اورنہتے کشمیری پیلٹ گنز کے استعمال سے زخمی کئے گئے۔انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ مسئلہ کشمیر پر بین الاقوامی برادری کو گمراہ کرنا چھوڑ دے۔ ممبئی کیس سے متعلق ترجمان نے کہا کہ کیس عدالت میں ہے، حملہ کیس میں قانون کے مطابق انصاف ہوگا۔گلگت بلتستان صوبہ سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ جتنے بھی اقدامات کئے جائیں گے وہ گلگت بلتستان کے عوام کو بااختیار بنانے کیلئے اٹھائے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم انسانی ترقی چاہتے ہیں ۔