پاکستانی شہریوں کا اسپین میں چائلڈ پونوگرافی میں ملوث ہونے کا انکشاف

ڈائریکٹر جنرل (ایف آئی اے) سائبرکریم سیل کیپٹن ریٹائرڈ محمد شعیب نے اہم انکشافات کر دئیے

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان جمعرات دسمبر 17:20

پاکستانی شہریوں  کا اسپین میں چائلڈ پونوگرافی میں ملوث ہونے کا انکشاف
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔06 دسمبر 2018ء) پاکستانیوں کا اسپین میں چائلڈ پونوگرافی میں ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ڈائریکٹر جنرل (ایف آئی اے) سائبرکریم سیل کیپٹن ریٹائرڈ محمد شعیب نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں اسپین میں جاری چائلڈ پونوگرافی رنگ میں پاکستانیوں کے ملوث ہونے کے بارے میں معلومات ملی ہیں۔

انہوں نے ایک مقامی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے یہ انکشاف کیا اور کہا کہ ہسپانوی حکام نے اس متعلق پاکستان میں ایف آئی اے سے بھی رابطہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر بچوں کی فحش فلمیں بنانے میں  پاکستانیوں کے ملوث ہونے کا ثبوت ملا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایجنسی کو دو قسم کے مجرموں کے بارے میں شکایات مل رہی ہے، ایک وہ جو مقامی سطح پر فحش عکاسی میں ملوث ہیں اور دوسرا وہ جو بین الاقوامی سطح پر ایسے عناصر کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے مزید کہا کہ کراچی میں حالیہ گرفتاری بھی انہی شکایات کے سلسلے میں کی گئیں تھیں۔ایف آئی نے ہفتہ کے روز کراچی سے حماد نامی نوجوان کو گرفتار کیا جو کہ14 روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے ہے۔جہاں تک حالیہ کیس کی بات ہے تو اس حوالے سے یہ خبر بھی سامنے آئی ہے کہ ملزمان نے واٹس ایپ پر ایک گروپ بنا رکھا تھا جس میں 1600 پاکستانی شہری ایڈ تھے جن میں بچے اور خواتین شامل ہیں۔

کیپٹن ریٹائرڈ محمد شعیب کا کہنا تھا کہ اس گروپ میں کچھ غیر ملکی افراد بھی شامل تھے جو پاکستان کے ساتھ دیگر ممالک میں بھی چائلڈ پونوگرافی میں ملوث ہیں۔جب کہ گروپ میں شامل کچھ ارکان امریکی شہری تھے، جن کی سفارت خانے کی طرف سے تصدیق کی گئی تھی.ایف آئی اے کے اہلکار نے انکشاف کیا ہے کہ ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا گیا جس کے پاس بچوں کی 1000 سے زائد ویڈیوز تھیں جب کہ اس حوالے سے مزید گرفتاریاں بھی کی جا رہی ہیں۔

واضح رہے اس سے قبل بھی چائلڈ پورنوگرافی یا بچوں کی فحش فلمیں اور تصاویر پھیلانے کے الزام میں ہسپانوی پولیس نے 24 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا تھا،۔ گرفتار شدگان میں کئی دیگر ممالک کے شہریوں کے علاوہ پاکستانی شہری بھی شامل تھے۔پولیسنے جب برطانوی شہری کو گرفتار کیا تو اس کے قبضے سے بچوں کے جنسی استحصال پر مبنی ہزاروں تصاویر برآمد ہوئیں۔

متعلقہ عنوان :