عوام کو صحت کی بہترین سہولیات کی فراہمی ، ٹی بی سمیت دیگر امراض کا خاتمہ موجودہ حکومت کی اولین ترجیحات ہیں، آئندہ سال صحت کے بجٹ میں اضافہ کیا جائے گا،وفا قی وزیر عامر محمود کیانی

جمعرات دسمبر 18:28

عوام کو صحت کی بہترین سہولیات کی فراہمی ، ٹی بی سمیت دیگر امراض کا خاتمہ ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 دسمبر2018ء) وفا قی وزیر برائے قومی صحت سروسز عامر محمود کیانی نے کہا ہے کہ عوام کو صحت کی بہترین سہولیات کی فراہمی اور خاص طور پر ٹی بی سمیت دیگر امراض کا خاتمہ موجودہ حکومت کی اولین ترجیحات ہیں جس کے لیے آئندہ سال صحت کے بجٹ میں اضافہ کیا جائے گا جبکہ ٹی بی کے مرض کے خاتمہ کے لئے آگاہی پیدا کرنے سمیت شراکت داروں کے ساتھ ملکر پورے عزم سے کام کریں گے۔

انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے عالمی اداروں صحت کے مشرقی بحیرہ روم خطہ کے دفتر کے اعلی ترین حکام کے ساتھ اجلاس میں کہی۔ یہ وفد 5 سے 8 دسمبر تک پاکستان کے دورے پر ہے ۔اس اجلاس کا بڑا مقصد پاکستان سے ٹی بی (تپ دق) کی بیماری کا خاتمہ سیاسی ایجنڈا کی اولین ترجیحات میں شامل کرنا ہے ۔

(جاری ہے)

اجلاس میں ٹی بی (تپ دق) کے مریضوں سے امتیازی سلوک پر قابو پانے ،عوام میں آگاہی پیدا کرنے او ر 2030 تک ٹی بی کے مکمل خاتمہ کے بھرپور عزم کے لئے اقدامات پر غور کیا گیا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت عامر محمود کیانی نے ٹی بی کی روک تھام کے لئے صوبائی حکومت کے تعاون سے کی گئی کوششوں اور اقدامات کے بارے میں بتایا اور کہا کہ موجودہ حکومت نے جن امراض کی روک تھام کو اپنی اولین ترجیحات میں رکھا ہے ان میں ٹی بی کے خاتمہ کی حکمت عملی کے اہداف کے حصول کے لیے پختہ عزم سے کام کر رہی ہے اور ہمیں بیماریوں سمیت ٹی بی کی روک تھام کے مشکل ترین کام اور اپنی ذمہ داریوں کا بھرپور احساس ہے جبکہ اس صمن میں ہم ابتدائی سیکنڈری اور صحت کی خدمات کی فراہمی کے لئے اقدامات کئے ہیں جن میں لیڈی ہیلتھ ورکر پروگرامز کو کمیونٹی کی سطح پر بہتر انسانی وسائل کی ترقی اور استعداد سازی شامل ہے اس کے علاوہ صحت کارڈز کا پورے پاکستان میں اجرا کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے اجلاس کے دوران عالمی اور صحت کے اعلی ترین حکام کو ٹی بی کنٹرول سمیت کئی شعبہ جات میں اشتراک کا ریگولیٹر لی اقدامات اور مختلف بیماریوں کی نگرانی اور فوری تدارکت اقدامات کو مربوط بنائے جانے اور ٹی بی سمیت دیگر بیماریوں بارے تحقیق کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات اور حکومتی کوششوں کے بارے میں بھی بتایا ۔

متعلقہ عنوان :