قومی احتساب بیورو بلا امتیاز احتساب پر یقین رکھتاہے ، کرپشن کا خاتمہ موجودہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے

کرپشن کے خلاف ون پوائنٹ ایجنڈا وزیر اعظم عمران خان کی الیکشن میں کامیابی کی وجہ بنا، کرپشن کے مرتکب کرپٹ عناصر اور عوام کے حقوق غصب کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں ضرور لایا جائیگا گورنر ، ڈائر یکٹر جنرل نیب بلوچستان ودیگر کا انسدادِ بد عنوانی کے عالمی دن کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب

جمعرات دسمبر 19:03

قومی احتساب بیورو بلا امتیاز احتساب پر یقین رکھتاہے ، کرپشن کا خاتمہ ..
کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 دسمبر2018ء) قومی احتساب بیورو بلا امتیاز احتساب پر یقین رکھتاہے ، کرپشن کے خلاف ون پوائنٹ ایجنڈا وزیر اعظم عمران خان کی الیکشن میں کامیابی کی وجہ بنا، کرپشن کا خاتمہ موجودہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے کرپشن کے مرتکب کرپٹ عناصر اور عوام کے حقوق غصب کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں ضرور لایا جائیگا،بد عنوانی کے ناسور نے ہماری خوبصورت روایات کو گہنا دیا ہے ۔

اسلامی اقدار کی صورت ہمارے پاس زندگی گزارنے کا خوبصورت طریقہ موجود ہے ۔ ہم اپنی اعلیٰ روایات اور اقدار کا سبق بھول چکے ہیں جسکی وجہ سے برائی اور بھلائی کی جنگ میں برائی کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے، سچ بولنے سے ہماری زندگی کے بیشتر مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے،کرپشن کی وجہ سے ایک ایسا طبقہ معرضِ وجود میں آیا جس نے عام لوگوں کا استحصال کیا،آج جہاں ہم کھڑے ہیں وہ انحطاط کی حد ہے، خود احتسابی کے خوبصورت فلسفے کو اپنانا ہو گا، بد عنوانی معاشی دہشت گردی ہے ، حکومت قومی وسائل کے درست استعمال کی خواہاں ہے ، کرپشن معاشرے کا ناسور ہے ، اسلام میں رشوت لینے اور دینے والے کا ٹھکانا جہنم ہے ۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہارگورنر بلوچستان امان اللہ یاسین زئی ، ڈائر یکٹر جنرل نیب بلوچستان محمد عابد جاوید اور ڈاکٹر عطا الرحمن نے انسداد ِ بد عنوانی کی مناسبت سے مقامی ہوٹل میں منعقدہ تقریب سے خطاب کے دوران کیا ۔ تقریب میں صوبے بھر کے اسکولز، کالجز اور یونیورسٹیز کے سینکڑوں طلباء و طالبات نے بھی شرکت کی۔ گورنر بلوچستان امان اللہ یاسین زئی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کرپشن کا خاتمہ، نظم و نسق کا قیام اور میرٹ کی پالیسی موجودہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے حکومت قومی وسائل کے درست استعمال کے ساتھ ساتھ کرپشن کی بیخ کنی کے لئے تمام وسائل بر وُئے کار لا رہی ہے، نیب کی بد عنوانی کے خلاف کار کردگی قابلِ ستائش ہے ۔

انہوں نے کہا کر پشن معاشرے میں اس حد تک سرائیت کر چکی ہے کہ ہم اچھے اور برے اور صحیح اور غلط کا فرق بھول چکے ہیں ہمیں اس ناسور سے نجات حاصل کرنے کے لئے مشترکہ جنگ لڑنا ہو گی ، ورنہ بد حالی ہمارا مقدر ہو گی۔ بد عنوانی معاشی دہشت گردی ہے جس نے ہماری معیشت کی جڑیں کھوکھلی کر دی ہیں معاشرے کے تمام مکاتبِ فکر کرپشن سمیت تمام معاشرتی و معاشی برائیوں کے قلع قمع کے لئے ہر سطح پر اپنا کردار ادا کریں۔

انہوں نے طلباء کو اثاثہ قرار دیتے ہوئے اُنکی کرپشن کے خلاف ذہن سازی کی ضرورت پر زور دیا ۔ انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ نے ہمیں کہیں اختیار ات دے کر آزمائش میں ڈال رکھا ہے اور کہیں ذمہ داریاں دے کر ہمیں آزمایا جا رہا ہے، اختیارات اور طاقت اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا امتحان ہے، اگر ہم نے آج ان اختیارات کا استعمال عوام الناس کی فلاح کے لئے نہ کیا تو مجھ سمیت ہر صاحب اختیار اللہ تعالیٰ کی عدالت میں جواب دہ ہو گا۔

ڈائر یکٹر جنرل نیب بلوچستان محمد عابد جاویدنے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنی اعلیٰ روایات اور اقدار کا سبق بھول چکے ہیں جسکی وجہ سے برائی اور بھلائی کی جنگ میں برائی کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے ، دل احتساب کے خوف اور احساس زیاں سے عاری ہوتے جا رہے ہیں،بد عنوانی برائی کا وہ آلودہ اظہار ہے جس کے بطن سے ہمیشہ غربت معاشی نا انصافی اور اجتماعی بے یقینی نے جنم لیاوہ قومیں جنھیں بد عنوانی کے بھیانک نتائج کا ادراک تھا انھوں نے اپنی تمام تر توانائیاں اسکے خاتمے پر لگا ئیں اور سر خرو ہوئیں جبکہ وہ اقوام جنھوں نے بد عنوانی کے تدارک سے تغافل برتا، انھیں ذلت کی دھول چاٹنا پڑی۔

وطن عزیز پاکستان میں بھی اس بد عنوانی کے عفریت نے اپنے پنجے گاڑ رکھے ہیں، معاشرے کے تمام طبقات میں کرپشن کا زہراس قدر سر ایت کر چکا ہے کہ اصلاح احوال کی راہیں مسدود ہو چکی ہیں۔انہوں نے کہا خوش آئند امر یہ ہے کہ کرپشن کا خاتمہ موجودہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے یہی وجہ ہے کرپشن کے خلاف ون پوائنٹ ایجنڈا وزیر اعظم عمران خان کی الیکشن میں کامیابی کی وجہ بنا۔

انہوں نے بد عنوانی کو معاشرے کا ناسور قرار دیتے ہوئے کہا کہ بد عنوانی سے معاشرے کا حُسن گہنا گیا ہے ۔اسلامی اقدر کی صورت ہمارے پاس زندگی گزارنے کا خوبصورت طریقہ موجود ہے ۔ ہماری بھولی اقدار کا سبق دوبارہ دہرانے کے لئے اساتذہ اہم کردار ادا کر سکتے ہیں اساتذہ کرام بچوں کو تعلیم کے زیور سے بہرہ مند کرتے ہوئے انکی تربیت کا بھی اہتمام کریں اورایسی نسل تیار کریں جسکی بنیاد یقین، اتحاد محکم کے زریں اصولوں پر استوار ہو۔

ہمیں اپنے روئے بھی تبدیل کرنا ہو نگے، ویلیو سسٹم کو سمجھ کر خود کو ضمیر کی عدالت میں روزانہ احتساب کے لئے پیش کرنا ہوگا، اس عدالت کا نتیجہ ہمارے لئے زندگی گزارنے کی نئی راہیں متعین کرے گاانہوں نے کہا کہ احتسا ب اور انصاف کسی بھی معاشرے کے وہ بنیادی ستون ہیں جن پر تعمیر و ترقی کی عمارت کھڑی ہوتی ہے، مجھے انتہائی افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ سخت گیر احتسابی نظام کے فقدان کی وجہ سے ہم آج بھی ترقی کی وہ منازل طے نہیں کر پائے جو ہمیں بہت پہلے طے کر لینی چاہئیے تھیں۔

انہوں نے کہا انسدادِ بد عنوانی کا عالمی دن کرپشن کے تدارک کے لئے یو این کنونشن کی روشنی میں اقوامِ عالم میں منایا جاتا ہے۔تاہم کرپشن کے خلاف یو این کی قرار داد ماضی قریب کی بات ہے جب کہ ہمارے نبی ؐنے کئی سو سال پہلے اسے برائی کی جڑ قرار دیا۔ڈاکٹر عطاء الرحمن نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ، کرپشن معاشرے کا ناسور ہے اسلام میں رشوت لینے اور دینے والے کا ٹھکانا جہنم ہے بحیثیت قوم ہمیں معاشرے کو کرپشن سے پاک بنانے کے لئے اسلامی اقدار کی پاسداری کرنا ہو گی ، ملک سے محبت کے لئے ضروری ہے کہ کرپشن کے ناسور کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکا جائے ، بد عنوانی کا خاتمے کے لئے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا معاشرے کے تمام مکاتبِ فکر کو اس عفریت سے لڑنے کے لئے مشترکہ کاوشیں کرنی ہو نگی۔