احتساب عدالتوں میں نیب کے بدعنوانی کے 1210ریفرنس زیر سماعت ہیں، وائٹ کالر مقدمات کی سائنسی بنیادوں پر تحقیقات کیلئے 10ماہ کا وقت مقرر کیا ہے

چیئرمین نیب کا سیمینار سے خطاب

جمعرات دسمبر 19:24

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 دسمبر2018ء) چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ اس وقت معزز احتساب عدالتوں میں نیب کے بدعنوانی کے 1210ریفرنس زیر سماعت ہیں، ادارے نے وائٹ کالر مقدمات کی شواہد، دستاویزی ثبوت اور قانون کے مطابق سائنسی بنیادوں پر تحقیقات کیلئے 10ماہ کا وقت مقرر کیا ہے جو کہ دنیا کی کسی اینٹی کرپشن ایجنسی نے مختص نہیں کیا، ان خیالات کا اظہار چئیرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے نیب راولپنڈی بیورو کے زیر اہتمام نیب ہیڈکوارٹرز میں منعقدہ قومی سیمینار بعنوان ’’کرپشن اقتصادی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ۔

سرکاری عہدہ عوامی امانت‘‘ سے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ میگا کرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا نیب کی اولین ترجیح ہے، میگا کرپشن کے 179 مقدمات میں سے 105 مقدمات میں ریفرنس دائر کئے ہیں جبکہ 15 مقدمات انکوائری اور 19 مقدمات انویسٹی گیشن کے مراحل میں ہیں جن پر قانون کے مطابق کارروائی جاری ہے اور 40مقدمات کو قانون کے مطابق نمٹادیا گیا ہے، وہ کیس جس میں کرپشن کی رقم کم ہوتی ہے، وہ نیب متعلقہ صوبائی اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ کو قانون کے مطابق کارروائی کیلئے بھیج دیا جاتا ہے ۔

(جاری ہے)

جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ نیب نے گزشتہ ایک سال کے دوران نہ صرف 503 افراد کو گرفتار کیا بلکہ 1713شکایا ت کی جانچ پڑتال،877 انکوائریاں اور 227 انویسٹی گیشن کی منظوری دی جبکہ 440 بدعنوانی کے ریفرنس معزز احتساب عدالتوں میں دائر کئے ۔ نیب مضاربہ/مشارکہ سیکنڈلز کی تحقیقات ترجیح بنیادوں پر کر رہا ہے۔ نیب نے مضاربہ/مشارکہ سیکنڈلزمیں اب تک34 ملزمان کی گرفتاری کے علاوہ بیرون ملک فرار مضاربہ /مشارکہ سیکنڈلزمیں مطلوب ملزمان کو انٹرپول کے ذریعے واپس لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

مفتی احسان مضاربہ کیس میں 10ارب روپے سے زائد کا مقدمہ بہترین پراسیکیوشن کی وجہ سے جیت کر مفتی احسان اور دیگر مجرمان سے 10ارب روپے برآمد کرکے متاثرین کو قانون کے مطابق واپس کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن کی وجہ سے معیشت برباد ہوتی ہے اور معیشت کی بربادی کی وجہ سے ملک کی ترقی اور خوشحالی کا پہیہ رک جاتا ہے۔ نیب کرپشن کے خاتمہ کیلئے مربوط اینٹی کرپشن پالیسی اور عملی اقدامات کی بدولت ملک سے بلاامتیاز قانون کے مطابق بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے سنجیدہ کاوشیں کر رہا ہے، ہمارا ایمان کرپشن فری پاکستان ہے۔

انہوں نے نیب کی وجہ سے معاشی سرگرمیاں متاثر ہونے کے تاثرکی نفی کرتے ہوئے کہا کہ نیب نے بزنس کمیونٹی کے مسائل کے حل کے لیے الگ سیل قائم کیا ہے۔ انہوں نے جعلی ہاؤسنگ/کواپریٹو سوسائٹیوں کے خلاف نیب کی تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچانے اورعوام کی لوٹی گئی رقم جلد از جلد برآمد کرنے کیلئے اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی۔ تقریب سے امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر اشرف جہانگیرقاضی اور سابق وفاقی سیکرٹری شکیل درانی نے بھی خطاب کیا۔