جب تک احتساب کا عمل شفاف نہیں ہو گا تب تک ہم بدعنوا نیوں پر قابو نہیں پاسکتے، مشتاق احمد غنی

جمعرات دسمبر 19:33

جب تک احتساب کا عمل شفاف نہیں ہو گا تب تک ہم بدعنوا نیوں پر قابو نہیں ..
پشاور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 دسمبر2018ء) سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی اور چیئرمین پبلک اکائونٹس کمیٹی مشتاق احمد غنی نے کہا ہے کہ جب تک احتساب کا عمل شفاف نہیں ہو گا تب تک ہم بدعنوا نیوں پر قابو نہیں پا سکتے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پبلک اکائونٹس کمیٹی کے تیسرے اجلاس سے خطاب کر تے ہوئے کیا۔اجلاس میں محکمہ صحت کے سال15-2014 کی آڈٹ رپورٹ کے بقیہ پیرا اورمحکمہ توانائی و برقیات کے حوالے سے آڈٹ رپورٹ پیش کی گئی۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق سرحد ہسپتال پشاور میں رقوم کی ادائیگیوں میں بے قائدگیوں کا جائزہ لیا گیا اور ان سوالات پر محکمے کی طرف سے کوئی تسلی بخش جواب نہ ملنے پر پی اے سی نے اس معاملے کو ذیلی کمیٹی کے ممبر عنایت اللہ خان اور بابر سلیم سواتی کی زیر سرپرستی تحقیق کیلئے دیدیا ، اسکے علاوہ ہسپتال نے مہنگے نرخوں میں ادوایات خریدی جس کے باعث حکومت کو مالی نقصان ہوا اس کوتاہی پر پی اے سی نے متعلقہ افسران سے ریکوری کر کے رپورٹ اگلے 30 دنوں میں جمع کرنے کی ہدایت جاری کی۔

(جاری ہے)

لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور میںاو پی ڈی کی داخلی پرچیوں میں بے قائدگیوں کی وجہ سے سرکاری خزانے کو 11 لاکھ 91 ہزار کا نقصان ہواپی اے سی نے اس معاملے میں ملوث اہلکاروں سے رقوم کی ریکوری اور محکمانہ کاروائی کا حکم جاری کیا گیا۔سال 2005 میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے گردوں کے شعبے میں مریضوں سے غیر قانونی رسیدوں کی عوض فیس وصول کر کے استعمال شدہ آلات کو دوبارہ استعمال کیا گیا جس کے باعث سینکڑوں مریضوں کی اموات واقع ہوئی،اس معاملے پر پہلے بھی دو بار انکوائری کی گئی لیکن ثبوت ناکافی ہونے کے باعث کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا لحاظہ پی اے سی نے ذیلی کمیٹی کے ممبران ڈاکٹر سمیرا شمس، فخرجہان اور خوش دل خان کی زیر سرپرستی ان انکوائری رپورٹس کی جانچ پڑتال کر کے اگلے 30 دنوں میں پی اے سی کو جمع کروانے کی ہدایت جاری کی۔

اجلاس میں محکمہ ِ توانائی و برقیات کے حوالے سے آڈٹ رپورٹ کا جائزہ بھی لیا گیا جس کی روشنی میںدرال خوڑپن بجلی منصوبے کیلئے پی ای ڈی او نے قبل از وقت پشاور میںدفتری عمارت لے رکھی تھی جس کا بوجھ حکومتی خزانے پر پڑا ، اس معاملے پر محکمے نے اپنا جواب پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے پراجیکٹ کی ضروریات کو مدِنظر رکھتے ہوئے پشاور میں دفتر قائم کیا جس کے تمام تحریری ثبوت کمیٹی کو پیش کیے گے جس پر پی اے سی نے اطمینان کا اظہار کیا۔

آڈٹ رپورٹ کی روشنی میں پی ای ڈی او بجلی کی سپلائی پر واپڈسے حکومتِ خیبر پختونخوا کی رقم کی ریکوری میں ناکام ہوا جس کے باعث آڈٹ میں 1,312.265 ملین کافرق آیا جس پر پی اے سی نے ہدایت جاری کی کہ اس مسئلے پربین اصوبائی رابطہ کمیٹی کی رائے لیتے ہوئے صوبائی حکومت وفاقی حکومت کے ساتھ معاملات کو حل کرے۔