حکومت سمیت معاشرے کے تمام طبقات بچوں سے زیادتی کی روک تھام کیلئے موثر کردار ادا کریں ،ڈاکٹر عارف علوی

یکساں مواقع کی فراہمی کے ذریعے یتیم ،نادار بچوں کی بہبود کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے،نئے پاکستان کا مقصد ایسے معاشرے کی تشکیل ہے جہاں ہر بچے کو تعلیم، صحت اور روزگار سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی میں مساوی مواقع حاصل ہوں، شادی سے قبل جوڑے کے تھیلیسیمیاسے متعلق میڈیکل ٹیسٹ کیلئے قانون سازی پر عملدرآمد سے بیماری کی روک تھام میں مدد مل سکتی ہے، اچھے معاشرے کی تعمیر کیلئے آگاہی پروگراموں کا انعقاد اہم ہے، صدر مملکت کا پاکستان بیت المال کے زیر اہتمام تھیلیسیمیا سنٹر میں بچوں کے عالمی دن کے موقع پر تقریب سے خطاب

جمعرات دسمبر 19:38

حکومت سمیت معاشرے کے تمام طبقات بچوں سے زیادتی کی روک تھام کیلئے موثر ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 دسمبر2018ء) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ حکومت سمیت معاشرے کے تمام طبقات بچوں سے زیادتی کی روک تھام کیلئے موثر کردار ادا کریں ،یکساں مواقع کی فراہمی کے ذریعے یتیم ،نادار بچوں کی بہبود کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے،نئے پاکستان کا مقصد ایسے معاشرے کی تشکیل ہے جہاں ہر بچے کو تعلیم، صحت اور روزگار سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی میں مساوی مواقع حاصل ہوں، شادی سے قبل جوڑے کے اس بیماری سے متعلق میڈیکل ٹیسٹ کیلئے قانون سازی پر عملدرآمد کے ذریعے تھلیسیمیا کی روک تھام میں مدد مل سکتی ہے، اچھے معاشرے کی تعمیر کیلئے آگاہی پروگراموں کا انعقاد اہم ہے۔

صدر مملکت نے یہ بات جمعرات کو پاکستان بیت المال کے زیر اہتمام تھیلیسیمیا سنٹر میں بچوں کے عالمی دن کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔

(جاری ہے)

تقریب میں خاتون اول ثمینہ علوی، ایم ڈی بیت المال عون عباس، سپیشل سیکرٹری کابینہ ڈویژن شائستہ سہیل اور مختلف شہروں کے سویٹ ہومز سے آنیوالے بچوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ تقریب میں بچوں نے صدر مملکت کو سلامی پریڈ پیش کی جبکہ بچوں سے زیادتی، چائلڈ لیبر کے موضوعات پر پرفارمنس کا مظاہرہ بھی کیاگیا۔

صدرمملکت نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نے کہا کہ نیا پاکستان کا مقصد ایک ایسے معاشرے کی تشکیل ہے جہاں ہر بچے کو تعلیم، صحت اور روزگار سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی میں مساوی مواقع حاصل ہوں۔ انہوں نے کہا کہ تھیلی سیمیا کی روک تھام کیلئے تدارکی اقدامات بھی ضروری ہیں، شادی سے قبل جوڑے کے اس بیماری سے متعلق میڈیکل ٹیسٹ کے لئے قانون سازی پر عملدرآمد کے ذریعے بھی اس بیماری کی روک تھام میں مدد مل سکتی ہے۔

انہوں نے تجویز کیا کہ علماء دین کو نکاح نامے میں اس شق کو شامل کرنے پر بھی غور و خوض کرنا چاہئے کہ آیا جوڑے کا تھیلیسیمیا ٹیسٹ کرایا جا چکا ہے یا نہیں۔ صدر نے بچوں خاص طور پر یتیم اور نادار بچوں کی دیکھ بھال اور کفالت کی اہمیت کے حوالے سے قرآن پاک اور احادیث مبارکہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کائنات کے سب سے بڑے رہنما حضور پاک ؐ بھی یتیم پیدا ہوئے تھے۔

قرآن پاک میں متعدد مرتبہ یتیموں اور ان کے حقوق کا ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یتیم بچوں کی کفالت پر خصوصی زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضور پاک ؐ بچوں سے خصوصی شفقت اور محبت کا سلوک کرتے تھے ۔ یتیم بچوں کی کفالت نہ صرف ہماری ذمہ داری ہے بلکہ اس کا آخرت میں بھی بہت اجر ہے ۔ صدر نے کہا کہ کوئی فرد یا ادارہ اس ضمن میں اکیلے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرسکتا ،یتیموں کی کفالت ریاست کے ساتھ معاشرے کی بھی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے چائلڈ لیبر ، گھریلو ملازمین سے سلوک اور بچوں سے زیادتی کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس ضمن میں ہر فرد کو احساس ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے اور بچوں کی دیکھ بھال اور ان کے حقوق کا تحفظ کرنا چاہئے اس حوالے سے والدین پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور میڈیا کا بھی اہم کردار ہے۔ بچوں سے زیادتی کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ معاشرے کے افراد بالخصوص والدین کو احساس ہونا چاہئے کہ کس طرح بچوں کو تحفظ اور صحتمند ماحول فراہم کرنا ہے اچھے معاشرے کی تشکیل کیلئے مسائل کی نشاندہی اور ان سے آگاہی بہت ضروری ہے اس بارے میں میڈیا کا کردار بھی اہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان بیت المال یتیم بچوں اور زیادتی کا شکار ہونیوالے تمام بچوں کی دیکھ بھال تن تنہا انجام نہیں دے سکتا بلکہ پورے معاشرے کو اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا اور چائلڈ لیبر کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے، اس کیساتھ ساتھ نادار بچوں کی کفالت میں معاونت کرنی چاہیے تاکہ وہ باعزت زندگی بسر کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کی فراہمی میں معاونت کے بعد معاشرہ انہیں روزگار کی فراہمی کے یکساں مواقع فراہم کرے۔

انہوں نے کہا کہ اچھے معاشرے کی تعمیر کیلئے آگاہی پروگراموں کا انعقاد اہم ہے، معاشرے میں یکساں تعلیم کے نظام کو عام کرنا ہو گا۔ عارف علوی نے کہا کہ بچوں کو اہمیت دے کر معاشرے کا مفید حصہ بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچے چھوٹے چھوٹے پھول ہوتے ہیں، ان کا بھرپور خیال رکھنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اے پی ایس پشاور میں دہشت گردی کے ہولناک واقعہ کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نیا عزم پیدا ہوا،کیونکہ بچوں سے محبت انسان کی فطرت میں ہے۔

تھیلیسیمیا کا شکار بچوں کا ذکر کرتے ہوئے صدرمملکت نے کہا کہ یہ بچے ہماری خصوصی توجہ کے حق دار ہیں، تھیلیسیمیا سے متاثرہ بچوں کیلئے بیت المال کی بہترین خدمات ہیں، تھیلیسیمیا کے مرض سے آگاہی کیلئے اقدامات کرنا ہوں گے، بیماری سے آگاہی کیلئے میڈیا، سول سوسائٹی اور والدین اپنا کردار ادا کریں۔ صدر نے ایم ڈی بیت المال عون عباس کو کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ دیانتدار نوجوان ہیں،وہ بچوں کا درد رکھنے والے نوجوان ہیں،مجھے ان کی اہلیت پر اعتماد ہے۔

صدر نے بچوں سے زیادتی اور اس کی روک تھام کے موضوع پر پیش کی جانے والی پرفارمنس سراہتے ہوئے کہا کہ ذرائع ابلاغ کو عوام تک اس پیغام کو عام کرنا چاہیے، اس ضمن میں والدین کا بھی اہم کردار ہے جنہیں ہر وقت چوکس رہنا چاہیے۔ انہوں نے بچوں کے ہمراہ خاتون اول اور وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ کی طرف سے ایوان صدر میں منعقدہ حالیہ محفل میلاد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ننھے منے بچوں کے ساتھ ملنے جلنے سے خوشگوار اور پرسکون احساسات پیدا ہوتے ہیں۔

اس موقع پر ایم ڈی بیت المال عون عباس نے کہا کہ ان کا ادارہ سویٹ ہومز میں 12 سال تک کی عمر کے بچوں کی کفالت کر رہا ہے جس کے بعد انہیں کراچی میں سویٹ ولا میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں 12 لاکھ سٹریٹ چلڈرن اور 37 لاکھ چائلڈ لیبررز ہیں جبکہ 1400 بچے غذائی کمی کی وجہ سے تھر میں گزشتہ تین برسوں کے دوران اپنی جان کھو بیٹھے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان بیت المال 160 سکولز، 150 وومن ٹریننگ سنٹرز اور 3600 بچوں کیلئے 38 سویٹ ہومز چلا رہا ہے اور گزشتہ برس غریبوں کے علاج معالجے پر 2 ارب روپے خرچ کئے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بیت المال چھوٹے شہروں میں سویٹ ہومز اور کیش گرانٹ نیٹ ورک کا دائرہ کار بڑھا رہا ہے اور چھ نئے تھیلیسیمیا سنٹرز قائم کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ادارہ آئندہ پانچ سال کے دوران خصوصی بچوں کی بہبود پر 45 کروڑ روپے خرچ کرے گا۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان بیت المال درخواست گزاروں کو ان کی درخواست کے بارے میں تازہ ترین صورتحال سے آگاہی کے لئے موبائل ایپ کا اجراء کرنے بھی جا رہا ہے۔ قبل ازیں صدر مملکت نے تھیلیسیمیا سنٹر کے مختلف شعبوں کا بھی دورہ کیا اور تھیلیسیمیا کے مریضوں کو علاج معالجے کے لئے فنڈز کی فراہمی کے لئے بیت المال کی کاوشوں کو سراہا۔