سی پیک منصوبہ کے فوائد صرف متعلقہ ممالک تک محدود نہیں بلکہ پورے خطے اور اس سے باہر کے لوگوں کیلئے بھی ہیں،ڈاکٹر ملیحہ لودھی

عالمی جی ڈی پی میں متوسط آ مدنی والے ممالک کا حصہ نصف ہے لیکن 73 فیصد غریب لوگ انہی ممالک میں مقیم ہیں،پاکستان آئندہ سال ارجنٹائن میں ہونیوالی سائوتھ سائوتھ کانفرنس سے مثبت توقعات رکھتا ہے، پاکستانی مندوب کا جنرل اسمبلی میں مباحثے کے دوران اظہار خیال

جمعرات دسمبر 20:40

سی پیک منصوبہ کے فوائد صرف متعلقہ ممالک تک محدود نہیں بلکہ پورے خطے ..
نیو یارک (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 دسمبر2018ء) اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ سی پیک منصوبہ کے فوائد صرف متعلقہ ممالک تک محدود نہیں بلکہ پورے خطے اور اس سے باہر کے لوگوں کیلئے بھی ہیں،عالمی جی ڈی پی میں متوسط آ مدنی والے ممالک کا حصہ نصف ہے لیکن 73 فیصد غریب لوگ انہی ممالک میں مقیم ہیں،پاکستان آئندہ سال ارجنٹائن میں ہونیوالی سائوتھ سائوتھ کانفرنس سے مثبت توقعات رکھتا ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ’پائیدار ترقی کے اہداف کے ایجنڈہ پر عملدرآمد میں متوسط آمدنی والے ممالک کو درپیش رکاوٹوں ‘پر مباحثے کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستانی مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا کہ پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں متوسط آمدنی والے ممالک کے قائدانہ کردار کو اجاگر کیا ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقی کے اہداف میں سے خاص طور سے غربت میں کمی کے اہداف کو حاصل کرنے میں متوسط آمدنی والے ممالک کو قائدانہ کردار دینے کیساتھ ساتھ ان پر قرضوں کا بوجھ پائیدار بنیادوں پر کم کرنے کیلئے ان کی معاونت بھی کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی جی ڈی پی میں متوسط آ مدنی والے ممالک کا حصہ تقریباً نصف ہے لیکن 73 فیصد غریب لوگ انہی ممالک میں مقیم ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ متوسط آمدنی والے ممالک کو درپیش چیلنجز مشترک ہیں لیکن غربت کی شرح، قدرتی وسائل، ترقی کی استعداد اور اقتصادی و سماجی کارکردگی کے لحاظ سے ان میں واضح فرق بھی موجود ہیں اس لئے ان سب کی ترقی کی حکمت عملی یکساں نہیں ہو سکتی۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی طرف سے ایسے ممالک کی مدد ان کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آفیشل ڈویلپمنٹ اسسٹنس اس حوالے سے اپنا کردار جاری رکھے گا تاہم اس وقت اس ادارے کا کردار متوسط آمدنی والے ممالک کے جی ڈی پی کے حوالے سے محدود ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان آئندہ سال مارچ میں ارجنٹائن میں ہونیوالی سائوتھ سائوتھ کانفرنس سے مثبت توقعات رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک سائوتھ سائوتھ کوآپریشن کی شاندار مثال ہے ،اس منصوبہ کے فوائد صرف متعلقہ ممالک تک محدود نہیں بلکہ پورے خطے اور اس سے باہر کے لوگوں کیلئے بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سائوتھ سائوتھ کواپریشن کو نارتھ سائوتھ کواپریشن کا متبادل نہیں بلکہ اس کا جزو تصور کرتا ہے۔