سپریم کورٹ کا نیب کو تھرکول گیسی فیکیشن پاور پراجیکٹ سے متعلق کیس میں ڈاکٹر ثمر مبارک مند اور دیگر کے خلاف تحقیقات کرنے کا حکم

جمعرات دسمبر 23:09

سپریم کورٹ کا نیب کو تھرکول گیسی فیکیشن پاور پراجیکٹ سے متعلق کیس میں ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 دسمبر2018ء) سپریم کورٹ نے نیب کو تھرکول گیسی فیکیشن پاور پراجیکٹ سے متعلق کیس میں ڈاکٹر ثمر مبارک مند سمیت دیگر افراد کے خلاف تحقیقات کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈاکٹر ثمر مبارک نے دعویٰ کیا تھاکہ اس پراجیکٹ سے پاکستان کو مفت بجلی ملے گی لیکن4 ارب روپے ضائع ہوگئے، پاکستانی قوم کوکچھ نہیں ملا جس کے ذمہ دار ثمر مبارک مند ہیں۔

جمعرات کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پرعدالت کوآڈیٹر جنرل کی جانب سے تھرکول گیسی فیکیشن پاور پراجیکٹ کے بارے میں حتمی آڈٹ رپورٹ پیش کی گئی، عدالت کے استفسار پر ڈپٹی اٹارنی جنرل ساجد الیاس بھٹی نے پیش ہوکر بتایا کہ اس منصوبے کو چلانا سندھ حکومت کی ذمہ داری تھی، جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ نئی گج ڈیم کے تعمیر سے متعلق کیس میںسندھ حکومت نے کہا کہ نئی گج ڈیم نہیں بننا چاہیئے، حالانکہ نئی گج ڈیم پر اب تک 8سے 10ارب روپے خرچ ہوئے ہیں اور اب جب تھرکول منصوبے پر4 ارب روپے سے زائد رقم خرچ ہو چکی ہے، توسب کہتے ہیںکہ ہمیںیہ منصوبہ نہیں چاہیے، ڈاکٹرثمرمبارک مند نے بہت بلند و بانگ دعوے کیے تھے، وہ کہتے تھے کہ اس منصوبے سے پاکستان کو مفت بجلی ملے گی لیکن ہوا یہ کہ 4.6 ارب روپے خرچ کر کے منصوبہ بند کردیا گیا۔

(جاری ہے)

سماعت کے دوران ڈاکٹرثمر مبارک مند نے عدالت کو استفسار پر بتایا کہ ایک ارب روپے فزیبیلٹی پر لگ چکے ہیں،حکومت نے جاکر پراجیکٹ دیکھ لیا تھا کہ پراجیکٹ چل رہا ہے تب یہ منصوبہ منظور ہوا تھا، جس پرچیف جسٹس ثاقب نثارنے کہا کہ سیدھی بات یہ ہے کہ قوم کے 4 ارب سے زیادہ رقم ضائع ہوگئی ہے، جس کے ذمہ دار ثمر مبارک مند ہیں، اب وہ 20 بہانے کریں گے کہ یہ ہوا وہ ہوا۔ سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے پیش ہوکرعدالت سے کہا کہ سندھ حکومت منصوبے کی تمام چیزیں اپنی تحویل میں لینا چاہتی ہے، اس حوالے سے ہمیں اجازت دی جائے جس پر چیف جسٹس نے ان سے کہا کہ اس بارے میںوفاقی حکومت سے رجوع کیا جائے، وہی فیصلہ کرے گی۔