وزیر اعظم عمران خان نے چارماہ میں جتنی سفارتی بالیدگی کا مظاہرہ کیا متعدد رہنما ایسی بالیدگی کئی عشروں میں بھی نہیں دکھاپاتے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے ساتھ امریکی تعلقات کو خطرے میں ڈالنے کی بجائے عمران خان سے براہ راست بات کرنے کے موقع کا فائدہ اٹھایا کیونکہ واضح ہو گیا تھا عمران خان امریکی دبائو کو خاطر میں نہیں لائیں گے، عمران خان کی قیادت میں پاکستان کے ساتھ اب دھونس کی سفارت کاری نہیں چلے گی اس لئے ٹرمپ نے راستہ بدلا اور پاکستان سے درخواست کی صورت میں رابط کیا: عالمی جریدے ’’یورو ایشیا فیوچر‘‘میں شائع ہونے والاایڈم گیری کا آرٹیکل

جمعرات دسمبر 23:09

وزیر اعظم عمران خان نے چارماہ میں جتنی سفارتی بالیدگی کا مظاہرہ کیا ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 دسمبر2018ء) پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے چارماہ میں جتنی سفارتی بالید گی کا مظاہرہ کیا متعدد رہنما ایسی بالیدگی کئی عشروں میں بھی نہیں دکھاپاتے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے ساتھ امریکی تعلقات کو خطرے میں ڈالنے کی بجائے عمران خان سے براہ راست بات کرنے کے موقع کا فائدہ اٹھایا کیونکہ واضح ہو گیا تھا کہ عمران خان امریکی دبائو کو خاطر میں نہیں لائیں گے، عمران خان کی قیادت میں پاکستان کے ساتھ اب دھونس کی سفارت کاری نہیں چلے گی اس لئے ٹرمپ نے راستہ بدلا اور پاکستان سے درخواست کا باوقار انداز اختیار کیا۔

ان خیالات کا اظہار عالمی جریدے ’’یورو ایشیا فیوچر‘‘ میں شائع ہونے والے ایڈم گیری کے آرٹیکل میں کیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

انھوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان اور اس پر وزیراعظم عمران خان کے جواب میں ٹویٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیر اعظم عمران خان کو خط لکھا جس میں انہوںنے پاکستان سے مسئلہ افغانستان کے حل کیلئے افغان طالبان کے ساتھ مذاکراتی عمل میں مدد کرنے کی درخواست کی اور اس بات کو تسلیم کیا کہ اس جنگ میں پاکستان اور امریکہ دونوں کو نقصان اٹھانا پڑا، انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور امریکہ کو مل کر کام کرنے کیلئے نئے مواقع تلاش کرنے چاہیں۔

آرٹیکل کے مطابق امریکی صدر ڈونڈ ٹرمپ نے یہ خط عمران خان کے ٹویٹ کے بعد لکھا ، ان کا خط یہ بات بالکل واضح کرتا ہے کہ پاکستان افغان امن عمل میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔امریکی صدر نے پاکستان کے ساتھ امریکی تعلقات کو خطرے میں ڈالنے کی بجائے عمران خان سے براہ راست بات کرنے کے موقع کا فائدہ اٹھایا کیونکہ واضح ہو گیا تھا کہ عمران خان امریکی دبائو کو خاطر میں نہیں لائیں گے، دوسرے لفظوں میں عمران خان کی قیادت میں پاکستان کے ساتھ اب دھونس کی سفارت کاری نہیں چلے گی اس لئے ٹرمپ نے راستہ بدلا اور پاکستان سے درخواست کی صورت میں رابطہ کیا ۔

آرٹیکل میں کہاگیا کہ امریکی صدر نے اس بات کو تسلیم کیا کہ پاکستان کی شرکت اور مثبت تعاون کے بغیر افغان امن عمل ممکن نہیں ہے۔ عمران خان کی نئے سٹائل کی سیاست کو اس بات کا کریڈٹ جاتا ہے کہ امریکہ نے بروقت اس خاص نقطہ پر اس طرح کی حقیقت کا احساس کیا۔عمران خان سابق حکمرانوں کے مقابلہ میں زیادہ بڑے عالمی رہنما ہیں، شاید اس لئے ڈونلڈ ٹرمپ کو عمران خان کا بطور حقیقی رہنما کے احترام کرنا ہوگا۔