ہم نے دہشتگردوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی ، آمریت کا سامنا کیا، ہمیں پاکستانی ہونے پر فخر ہے، ہم اپنی تمام ثقافت ، زبانوں، روایات کے امین ہیں

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا زیبسٹ یونیورسٹی میں سندھی ٹوپی اجرک کے دن کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب

جمعرات دسمبر 23:16

ہم نے دہشتگردوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی ، آمریت کا سامنا ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 دسمبر2018ء) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ہم نے دہشتگردوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی ، آمریت کا سامنا کیا ، ہمیں پاکستانی ہونے پر فخر ہے، اپنے اس عظیم ملک پر فخر ہے، ہم اپنی تمام ثقافت ، زبانوں، روایات کے امین ہیں، سندھ پاکستان کا ایک تاریخی حصہ ہے، موہنجوداڑو سے پتہ چلتا ہے یہ دنیا کی قدیم ترین تہذیب ہے، سندھ وہ خطہ ہے جہاں تہذیب تھی اور لاقانونیت کی کوئی جگہ نہیں تھی، سندھ کو باب الاسلام کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

ان خیالات کااظہار انہوں نے جمعرات کے روز ذوالفقارعلی بھٹو شہیدانسٹیوٹ آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجیز (زیبسٹ) یونیورسٹی میں سندھی ٹوپی اجرک کے دن کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

تقریب میں ان کے ہمراہ پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل نیئر حسین بخاری، سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر، سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف اور سینیٹرشیری رحمان نے شرکت کی۔

یونیورسٹی سربراہ خسرو پرویز نے تمام مہمانوں کو سندھی ٹوپی اور اجرک پہنائی، بلاول بھٹو کا زیبسٹ یونیورسٹی کا یہ پہلا دورہ تھا، یونیورسٹی کے طلباء نے بلاول بھٹو زرداری کا پرجوش استقبال کیا اور جیئے بھٹو کے نعرے لگائے۔ اپنے خطاب میں بلاول بھٹو نے کہا کہ مجھے یہاں مدعو کرنے پر زیبسٹ یونیورسٹی کے طلباء کا مشکو ر ہوں، کسی بھی معاشرے میں کلچر کی بڑی اہمیت ہوتی ہے، پیپلز پارٹی کی کوشش رہی ہے کہ آئین و قانون تمام لوگوں کے لئے برابر ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ پاکستان کا تاریخی حصہ ہے اور یہ قدیم تہذیب ہے موہنجو داڑو سے پتہ چلتا ہے یہ دنیا کی قدیم ترین تہذیب ہے سندھ وہ خطہ ہے جہاں تہذیب تھی اور لاقانونیت کی کوئی جگہ نہیں تھی سندھ کو باب الاسلام کے نام سے بھی یاد کیاجاتا ہے اور ہمیں پاکستانی ہونے پر فخر ہے پیپلز پارٹی ہمیشہ اپنے اصولوں پرکھڑی رہی آمروںکے سامنے سر نہیں جھکایا دہشتگردوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی، پھانسی کا پھندا چوما مگر یوٹرن نہیں لیا۔ بلاول نے ’’ مرسو مرسوسندھ نہ ڈیسوں‘‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے کہا کہ ہم اپنی تمام ثقافتوں ، زبانوں اور روایات کے امین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی زبانیں اور ثقافتوں اور روایات کے امین ہیں، ہم آزادی اظہار رائے پر یقین رکھتے ہیں۔