پنجاب اسمبلی کا اجلاس، حکومت نے 30جولائی 2019ء تک اورنج لائن ٹرین منصوبہ مکمل کرنے کا اعلان کردیا،

غیر قانونی ٹرانسپورٹ اڈوں کیخلاف کارروائی کا فیصلہ

جمعرات دسمبر 23:23

لاہور۔6 دسمبر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 دسمبر2018ء) پنجاب اسمبلی کے ایوان میں احتساب عدالت لاہور کے باہر پولیس کی جانب سے لیگی کارکنوں پر تشدد کیخلاف اپوزیشن کاواک آئوٹ، سپیکرپنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کی زیر صدارت ہونے والا پنجاب اسمبلی کا اجلاس (آج) جمعہ صبح9بجے تک ملتوی کر دیاگیا۔ گزشتہ روزیہاں پنجاب اسمبلی کا اجلاس دو گھنٹے 15منٹ تاخیر سے سپیکر چوہدری پرویز الٰہی کی زیر صدارت شروع ہوا۔

پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں حکومت نے 30 جولائی 2019 تک اورنج لائن ٹرین منصوبہ مکمل کرنے کا اعلان کردیا، غیر قانونی ٹرانسپورٹ اڈوں کیخلاف کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا گیا، سپیکر نے محکمہ ریونیو کو لیز پر دی گئی کسانوں کی زمینوں پر آپریشن سے روکنے کا حکم جاری کر دیا،سپیکر نے وزیر قانون کی سربراہی میں معاملے کے حل کیلئے پارلیمانی کمیٹی بنانے کا حکم بھی دے دیا،اسمبلی کے ایجنڈے پر محکمہ اوقاف و مذہبی امور اور ٹرانسپورٹ سے متعلق سوالوں کے جواب دیئے گئے ،ارکان اسمبلی کی طرف سے پوچھے گئے سوالوں کے جوابات وزیر مذہبی امور صاحبزادہ سعید الحسن اور چوہدری ظہیر الدین نے دیئے۔

(جاری ہے)

مسلم لیگ (ن) کی رکن حنا پرویز بٹ کے سوال کے جواب میں حکومت نے ایوان کو بتایا کہ حکومت پنجاب 30جولائی 2019تک اورنج لائن ٹرین منصوبے کو ہر صورت مکمل کرے گی اور اس کو عوام کیلئے مکمل طور پر کھول دیا جائے گا، سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم کے مطابق منصوبے پر تیزی سے کام جاری ہے ۔فنڈز کی کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ہے۔اورنج لائن پراجیکٹ کو فنڈز کی ادائیگیاں باقاعدگی سے ہورہی ہیں ۔

رکن اسمبلی وارث کلو نے نقطہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا محکمہ ریونیو چھوٹے کسانوں کے زمینوں پر ہل چلا رہا ہے اور ان کی کھڑی فصلیں تباہ کررہا ہے ان لوگوں نے باقاعدہ لیز پر زمین لی ہے، کھڑی فصلیں تباہ کرنا غریب کسانوں کے ساتھ زیادتی ہے۔اس کا سپیکر نے نوٹس لیتے ہوئے حکم دیا کہ محکمہ ریونیو کسی کسان کی کھڑی فصل کو نہ گرائے۔ انہوں نے وزیر قانون کی سربراہی میں فوری اس معاملے پر کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دے دیا، حکومت تمام متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنر ز کو آپریشن سے روک دے۔

شیخ علائو الدین نے زراعت وخوراک پر عام بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ چکوٹی سے سبزیاں پاکستان آتی ہیں، اپنی وزارت میں کئی من ٹماٹر اور سبزیاں پکڑیں، بھارتی ساٹھ روپے والا ڈھائی سو روپے کلو میں ٹماٹر بکتا ہے تو کوئی آواز نہیں اٹھاتا۔بھارت نے پاکستانی آلو لینے سے انکار کر دیا۔بیاس ستلج دریائوں کے علاقوں میں ویرانے جیسی حالت ہے کوئی سبزی نہیں اگ رہی۔

درآمدکیلئے نیگیٹو پالیسی کوئی نہیں ہے جو افسوسناک ہے۔ احمد علی اولکھ نے کہا کہ شوگر ملوں والے کاشتکار کے مسائل کا حل فرسودہ طریقہ کار پر کررہے ہیں۔ مل مالکان اور کسان مل کر بیٹھیں تاکہ مسائل اور تنائوختم ہو اور انہیں بروقت گنے یا فصلوں کی قیمتیں مل سکیں ً۔حکومت کو خود کسانوں کے مسائل کو حل کرناہوگا۔کھاد کی قیمت بارہ سے اٹھارہ سو ڈی اے پی کی قیمت اڑتیس سو روپے کر دی گئی کسی نے نہیں پوچھا قیمتیں کیوں بڑھیں ۔

پوری دنیا میں زراعت پر سبسڈی دی جاتی ہے لیکن پاکستان میں گنے کے کاشتکاروں پر سولہ سے سترہ فیصد ٹیکس لگایاگیاہے ۔ملک میں کھاد پر پانچ فیصد ڈیوٹی ٹیکس لگاہواہے، زراعت پر لگائے گئے تمام ٹیکسز ختم کر دئیے جائیں۔محمد ارشدجاویدنے کہا کہ زمیندار اور کسان کی درد بھری کہانی نہیں سناناچاہتا ۔کپاس کے بجائے ٹیکسٹائل کو سبسڈی دی جاتی تو پاکستان کی حالت بہتر ہوتی ۔

رحیم یار خان میں ملیں شفٹ کی گئیں لیکن ہم پر دہشت گردی کے مقدمات ہوئے، جہانگیر ترین کی ملیں رحیم یار خان میں سب سے زیادہ گنے کی کرشنگ کر رہی ہیں ۔وزیر زراعت کے ریمارکس پر اپوزیشن کا ایوان میں احتجاج،اپوزیشن اراکین نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں،نعمان لنگڑیال وزیر زراعت نے کہا کہ ہمیں زراعت پر کسی کمیشن کی ضرورت نہیں،ہمیں اپوزیشن کی کسی تجویز کی ضرورت نہیں، گزشتہ دس سالوں میں ملک بجری لوہے والا رہا ، اب اپوزیشن کو زراعتی ملک یاد آگیا ہے۔

وزیر زراعت کے بیان پر ن لیگی اراکین نشستوں پر کھڑے ہوگئے۔ڈپٹی سپیکر نے وزیرزراعت کو اپنے مستقبل کے منصوبوں پر رہنے کی ہدایت کر دی۔ وزیر خوراک نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ کاشتکاروں کی محنت کا تحفظ کریں گے،کاشتکاروں کو گنے کے پورے پیسے دلائیں گے،شوگر ملوں میں کٹوتی مافیا کے خلاف کاروائی کریں گے،ملاوٹ پر ہم نے زیرو پالیسی رکھی ہے،ملاوٹ پر کوئی مافیا نہیں، پنجاب میں ملاوٹ مافیا رہے گا یا ہم رہیں گے، ملاوٹ مافیا کے خلاف سخت کارروائی کریں گے،ایجنڈا مکمل ہونے پر ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری نے اجلاس صبح نو بجے تک ملتوی کردیا۔