سپریم کورٹ نے ایف 14، ایف 15سمیت ہائوسنگ فائونڈیشن کے منصوبوں پر پابندی سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قراردے دیا،رکے کام دوبارہ شروع کرنے کی ہدایت

جمعرات دسمبر 23:33

سپریم کورٹ نے ایف 14، ایف 15سمیت ہائوسنگ فائونڈیشن کے منصوبوں پر پابندی ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 دسمبر2018ء) سپریم کورٹ نے ایف 14، ایف 15سمیت ہائوسنگ فائونڈیشن کے منصوبوں پر پابندی سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قراردے دیا ہے اور ہدایت کی ہے کہ رکے ہوئے کام دوبارہ شروع کئے جائیں۔جمعرات کو سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ہائوسنگ فائونڈیشن کی طرف سے دائر کردہ اپیل سمیت پانچ مختلف اپیلوں پر سماعت کا آغاز کیا تو چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ہائیکورٹ کا یہ فیصلہ ٹھیک نہیں۔

اس فیصلے نے تو ایف جی ای ایچ ایف کی جڑیں اکھاڑ دی ہیں۔ یہ غلط فیصلہ ہے۔ ہائوسنگ فائونڈیشن کی ڈائریکٹر لاء رابعہ اورنگزیب نے اس حوالے سے’’آن لائن‘‘کو بتایا کہ عدالت میں بہت مختصر سی سماعت ہوئی ۔ چیف جسٹس نے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اسے فوری طور پر معطل کردیا ۔

(جاری ہے)

اس موقع پر انہوں نے ہائوسنگ فائونڈیشن کو ’’لیو ٹو اپیل‘‘ کی بھی اجازت دے دی ۔

رابعہ اوورنگزیب نے مزید بتایا کہ عدالت نے فائونڈیشن کو دوبارہ کوم شروع کرنے کی اجازت دی ہے ۔ اب ہم عدالتی ڈائریکشن کے تحت لینڈ ایکوزیشن ، ڈویلپمنٹ اور الاٹمنٹ کا عمل جلد شروع کردیں گے۔ واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس اطہر من اللہ نے پانچ مختلف درخواستوں پر ہائوسنگ فائونڈیشن کو کام کرنے سے نہ صرف روک دیا تھا بلکہ فائونڈیشن کو اسلام آباد کی حدود میں کام کرنے کیلئے نا اہل قراردیا تھا۔

اس فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل کی گئی جسے ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس عامر فاروق نے سنا تاہم انہوںنے فیصلہ برقرار رکھا ۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے فیصلے کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے ادارے کی جڑیں کھوکھلی ہوگئی ہیں لہذا یہ فیصلہ معطل کیا جاتا ہے۔