پاکستان کی معیشت بہتر ہو رہی ہے، برآمدات اور ترسیلات زر میں اضافہ جبکہ درآمدات میں کمی اور استحکام واپس آرہا ہے، ایکسپورٹ انڈسٹری کے فروغ کے لئے پالیسی پر عملدرآمد جاری ہے ، قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جا رہا ہے، طاقتور اور کمزور قانون کے نزدیک برابر ہیں

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین کی لندن میں میڈیا سے بات چیت

جمعہ دسمبر 01:20

لندن ۔ 6 دسمبر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 دسمبر2018ء) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت بہتر ہو رہی ہے، برآمدات اور ترسیلات زر میں اضافہ جبکہ درآمدات میں کمی اور استحکام واپس آرہا ہے،ایکسپورٹ انڈسٹری کے فروغ کے لئے پالیسی پر عملدرآمد جاری ہے اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جا رہا ہے، طاقتور اور کمزور قانون کے نزدیک برابر ہیں۔

وہ جمعرات کو یہاں میڈیا سے بات چیت کر رہے تھے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ حکومت کی موثر پالیسیوں کی وجہ سے برآمدات بڑھ رہی ہیں، معیشت بہتری کی طرف گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی اعشاریے مستحکم ہو رہے ہیںاور وزیرخزانہ اپنی تمام توانائیاں اقتصادی بہتری پر صرف کیے ہوئے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ڈالر کا اتار چڑھائو درحقیقت سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی طرف سے ماضی میں ڈالر کی قدر کم کرنے کے لئے 6سے 7ارب ڈالر خرچ کرنے کی وجہ سے ہے۔

انہوں نے کہا کہ 26ممالک میں پاکستانیوں کے 11ارب ڈالر گئے ہیں اور ان میں سے ایک بڑا حصہ برطانیہ اور متحدہ عرب امارات میں ہے، پاکستان فارن ممالک کو غیرقانونی بہائو روکنے کے لئے اپنے قوانین کو مستحکم کر رہا ہے اور برطانوی پارلیمنٹرینز کے ساتھ اپنی بات چیت میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی تعاون بڑھنا چاہیے اور غیرقانونی پیسوں سے سرمایہ کاری روکنے کے لئے قانون بنائے جانے چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹ انڈسٹری کے فروغ کے لئے پالیسی پر عملدرآمد جاری ہے اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جا رہا ہے، طاقتور اور کمزور قانون کے نزدیک برابر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ قانون اپنے ہاتھوں میں لے رہے تھے ان کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اسحاق ڈار کو بھی پاکستان واپس لایا جائے گا۔ چوہدری فواد نے کہا کہ پاکستان مشرق وسطی کے تمام فریقین کے ساتھ رابطے میں ہے اور اگر تمام فریقین رضامند ہوئے تو پاکستان امن عمل کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں غیرمسلح شہریوں بالخصوص خواتین کے خلاف بھارتی مظالم میں اضافہ ہو رہا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے بھارتی صحافیوں کے ساتھ بات چیت کے دوران واضح کیا کہ بھارت کو کشمیر بالخصوص سویلین پر اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے۔