نائن الیون کے معاملے میں پاکستان کا کوئی عمل دخل نہیں تھا،نہ ہی اس میں کوئی پاکستانی ملوث تھا

اُسامہ بن لادن کا قتل صرف قتل نہیں بلکہ پاکستان پر عدم اعتماد کا اظہار تھا۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان کا امریکی اخبار کو انٹرویو

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعہ دسمبر 11:37

نائن الیون کے معاملے میں پاکستان کا کوئی عمل دخل نہیں تھا،نہ ہی اس میں ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 07 دسمبر 2018ء) : وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ نائن الیون میں پاکستان کا کوئی عمل دخل نہیں تھا ، نہ ہی اس واقعہ میں کوئی پاکستانی ملوث تھا۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اگر ہم نائن الیون کے بعد غیر جانبدار ہوتے تو بڑی تباہی سے بچے رہتے۔ امریکہ کی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کوفرنٹ لائن اسٹیٹ بناکرملک کو جہنم بنا لیا۔

اس جنگ میں پاکستان کی معیشت کو150ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔پاکستان سرمایہ کاراور اسپورٹس ٹیمز کے آنے سے بھی محروم ہوا،امریکہ کی جنگ کے سبب پاکستان کا شمار دنیا کے خطرناک ترین ملکوں میں ہونے لگا۔ ابھی تک پاکستان سے کہا جاتا ہے کہ وہ امریکہ کی جنگ میں حصہ لے۔

(جاری ہے)

مجھ سمیت پاکستان میں بہت سے لوگوں نے اس جنگ کی مخالفت کی۔ طالبان پر دباؤ ڈالنے کی بات کرنا آسان ہے لیکن عملاً ایسا ممکن نہیں ہے۔

جب میں نےکہا افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں تو مجھے طالبان خان کہا گیا،اگر آپ امریکی پالیسی سے اتفاق نہیں کرتے تو امریکہ مخالف قرار دے دئے جاتے ہیں۔ میں خوش ہوں کہ اب ہر کوئی تسلیم کرتا ہے کہ افغان مسئلے کا صرف سیاسی حل ہے،افغانستان میں افراتفری ہے، ہم چاہتے ہیں اس بار تصفیہ ہوتوماضی کی طرح افراتفری نہ ہو۔ 1989ء میں افراتفری کے نتیجے میں ہی طالبان سامنے آئے تھے۔

طالبان نے واضح طورپرکہا تھا کہ افغانستان کی تعمیرنومیں امریکی امداد کی ضرورت ہوگی،ہم افغانستان سے مناسب تعلقات چاہتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ چین سے ہمارےتعلقات صرف ایک سمت میں نہیں ہیں۔ پاکستان سےچین کےتجارتی تعلقات ہیں اور ایسےہی تعلقات ہم امریکا سے بھی چاہتے ہیں۔ امریکہ نے پاکستان کو خود سے دور کیا ہے۔امریکی پالیسی سے اتفاق نہیں کرنےکا مطلب امریکہ مخالف ہونا نہیں ہے۔

آپ ہمارے ساتھ ہو یا نہیں،یہ ایک استعماری رویہ ہے۔ کون ڈرون حملوں کا مخالف نہیں ہوگا، کون اپنے ملک میں ڈرون حملوں کی اجازت دے گا؟امریکی جنگ میں شامل ہونے پر پاکستان کے فوجی اور شہری بم حملوں کانشانہ بنے۔امریکی اتحادی ہونے کے باوجود اُسامہ کی ہلاکت میں پاکستان پراعتماد نہ کرنا تضحیک آمیزتھا۔ انہوں نے کہا کہ اُسامہ بن لادن کا قتل صرف قتل نہیں بلکہ پاکستان پر عدم اعتماد کا اظہار تھا۔

ایک ڈرون حملے میں ایک دہشتگرد کیساتھ 10 ہمسایوں،دوستوں کو بھی ماردیتے ہیں۔ ملکی معیشت پر بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ آئی ایم ایف سے بات کر رہے ہیں لیکن ایسی شرائط قبول نہیں جو بے روزگاری اورافراط زربڑھائیں۔کرپشن کے سبب ملک تباہی سے دوچار تھا، اسی وجہ سے میں سیاست میں آیا۔ بھارت سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ بھارتی برسراقتدارجماعت پاکستان مخالف اور مسلم دشمن ہے۔

بھارت میں عام انتخابات آرہے ہیں،اسی لیے ہماری دوستانہ کاوشوں کو رد کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوستانہ کاوشوں کے تحت ہی ہم نے کرتارپور پر ویزا فری کوریڈور کھولا ہے اور اُمید کرتے ہیں بھارتی انتخابات کے بعد ان سے دوبارہ مذاکرات شروع کرسکیں۔ امریکی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم پاکستان عمران خان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان اب کرائے پر لی ہوئی بندوق نہیں رہا ، ہم نے امریکہ کی جنگ میں زیادہ نقصان اُٹھایا ہے اسی لیے اب ہم وہی کریں گے جو ہمارے مفاد میں بہتر ہو گا۔

پاکستان امریکہ کے ساتھ برابری کی سطح پر باقاعدہ تعلقات چاہتا ہے۔ سپر پاور کے ساتھ اچھے تعلقات کون نہیں چاہے گا۔ واشنگٹن پوسٹ کو دئے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے پاکستان میں طالبان کی پناہ گاہوں کا الزام عائد کیا تھا لیکن میں جب حکومت میں آیا تو میں نے سکیورٹی فورسز سےاس معاملے پر مکمل بریفنگ لی اور وقتاً فوقتاً امریکہ سےکہا کہ بتائیں پاکستان میں پناہ گاہیں کہاں ہیں تاکہ ان علاقہ جات اور مبینہ پناہ گاہوں کو چیک کیا جا سکے۔

لیکن پاکستان میں طالبان کی کوئی پناہ گاہیں نہیں ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ ٹویٹ سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ٹویٹر پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جواب دینے کا مقصد ریکارڈ درست کرنا تھا۔ میں نے اپنے جواب میں لکھا تھا کہ امریکی صدر کو تاریخی حقائق پتہ ہونے چاہئیں ، انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ہرزہ سرائی کا سوشل میڈیا پر جواب ٹویٹر جنگ نہیں تھی۔

عمران خان نے پاک افغان تعلقات سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ پاک افغان سرحد کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے جہاں سے دہشت گردوں کی آمدو رفت مشکل ہے۔ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا سے متعلق سوال کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ 1989ء میں جب سویت یونین افغانستان سے نکلا تو امریکہ نے پاکستان کو تنہا چھوڑ دیا تھا۔ ہم چاہتے ہیں کہ امریکہ افغانستان کے معاملے پر جلد بازی نہ کرے ، افغانستان میں پہلے حالات ٹھیک ہونے چاہئیں اس کے بعد ہی تعمیر نو کے لیے حسب ضرورت اقدامات کیے جائیں ۔ انٹرویو کے دوران عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں 27 لاکھ افغان مہاجرین اب بھی کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔