حویلیاں طیارہ حادثہ کو 2 سال بیت گئے ، جنید جمشید کو ہم سے بچھڑے دو سال ہو گئے

حویلیاں طیارہ حادثے کی تحقیقات میں پیش رفت ''صفر'' ، ذمہ دار کون ہے؟

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعہ دسمبر 11:58

حویلیاں طیارہ حادثہ کو 2 سال بیت گئے ، جنید جمشید کو ہم سے بچھڑے دو سال ..
راولپنڈی (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 07 دسمبر 2018ء) : معروف مذہبی اسکالر اور نعت خواں جنید جمشید کو ہم سے بچھڑے دو سال ہو گئے۔ حویلیاں طیارہ حادثے کو دو سال کا عرصہ بیت چکا ہے لیکن اس حادثے کی تحقیقات میں کوئی خاطر خواہ پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی۔ دو سال اس کے طویل عرصہ میں طیارہ حادثے کی کوئی تحقیقات منظر عام پر نہیں آئیں۔ پاکستان کی قومی ائیر لائن پی آئی اے نے اس حادثے کی اندرونی تحقیقات یا تو کروائی ہی نہیں یا پھر اگر کروائی بھی گئی تو تحقیقات کو منظر عام پر نہیں لایا گیا۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بھی اس معاملے میں کوئی اقدامات نہیں کیے البتہ سول ایوی ایشن کے سربراہ نے سینیٹ کی کمیٹی کے سامنے جو کچھ تفصیلات پیش کی تھیں اُس میں یہ بتایا گیا تھا کہ 2014ء میں اسی طیارے کا ایک انجن فیل ہو گیا تھا جس کو تبدیل کر دیا گیا۔

(جاری ہے)

اس کے علاوہ اقبال کاظمی نامی ایک شہری نے اس واقعہ سے متعلق عدالت سے رجوع کیا، عدالت کی جانب سے پی آئی اے اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کو نوٹسز جاری کیے گئے ہیں،۔

اقبال کاظمی کا کہنا ہے کہ گذشتہ ڈیڑھ دو سال سے یہ مقدمہ چل رہا ہے اور ہر سماعت پر پی آئی اے یا سول ایوی ایشن کی جانب سے کوئی پیش ہی نہیں ہوتا اور سماعت ملتوی کر دی جاتی ہے۔ فروری 2018ء میں شہدا کے دو خاندانوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا اور انکوائری کمیشن بنانے کی استدعا کی۔ اکتوبر 2018ء میں اس حوالے سے پی آئی اے کو نوٹس جاری کیا گیا، 27 نومبر 2018ء کو پی آئی اے نے جواب جمع کروانے کی بجائے عدالت سے مزید وقت مانگ لیا۔

سابق ایم این اے چترال شہزادہ افتخار الدین نے اس واقعہ سے متعلق پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کیا اور انکوائری کی استدعا کی کیونکہ اس حادثے میں ان کے بھائی بھی شہید ہوئے تھے لیکن مارچ 2018ء تک اس میں بھی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔یاد رہے کہ پی آئی اے کی پرواز پی کے 661 چترال سے اسلام آباد جاتے ہوئے طیارہ حویلیاں کے مقام پر 13 ہزار 375 فٹ کی بلندی پر پرواز کر رہا تھا تو سول ایوی ایشن کے مطابق اس کا بایاں انجن پھٹ گیا، جس نے اس طیارے کے ونگ کو بھی متاثر کیا اور چار بج کر 12 منٹ پر پائلٹ نے رپورٹ کیا کہ ایک انجن پھٹ گیا ہے ، 4 بجکر 14 منٹ پر پائلٹ نے ''مے ڈے ، مے ڈے'' کی کال دی، ائیرلائن کی زبان میں مے ڈے تب کہا جاتا ہے جب پائلٹ کے پاس کوئی راستہ نہیں رہتا۔

لیکن 4 بج کر 17 منٹ پر جہاز کا ریڈار سے رابطہ منقطع ہو گیا۔ سول ایوی ایشن کے مطابق جہاز پہلے 2 ہزار فٹ نیچے گرا ، پھر جہاز فری فال کے ایریا میں چلا گیا اور پھر 18 سو فٹ سے نیچے گرا جس کے کچھ لمحے کے بعد جہاز کے کریش ہونے کی خبر آئی۔حادثے کے نتیجے میں جہاز کے عملے اور معروف مبلغ جنید جمشید سمیت 47 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔