ملکی خزانے کو اربوں روپے کا ٹیکہ

آئل مافیا کا ایک اور وار۔۔۔۔فرنس آئل کا جواز پیدا کرنے کے لیے گیس کی قلت کا منصوبہ تیار کر لیا

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان جمعہ دسمبر 12:59

ملکی خزانے کو اربوں روپے کا ٹیکہ
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 07 دسمبر 2018ء) : ایل این جی کمپنی ایل این جی امپورٹ جہاز کینسل کر دیا۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ آئل مافیا کا ایک اور وار سامنے آ گیا ہے۔فرنس آئل کا جواز پیدا کرنے کے لیے گیس کی قلت کا منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے۔حکومت نے فرنس آئل پر پابندی لگائی تھی کہ پاور سیکٹر کے لیے فرنس آئل درآمد نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی ان کو آئل ترسیل کیا جائے گا کیونکہ ایل این جی در آمد کی جا رہی ہے اور ایل این جی سے ہی بجلی پیدا کی جائے گی تاہم اب یہ خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ وزارت پٹرولیم نے ایل این جی امپورٹ جہاز کینسل کر دیا ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ جہاز جون میں بھیجا جائے۔

ذرائع پٹرولیم کے مطابق اس جہاز سے ایک لاکھ 30 ہزار میٹرک ٹن ایل این جی در آمد کی جا رہی تھی۔

(جاری ہے)

جہاز منسوخ ہونے سے 12 روپے کا نقصان ہو گا۔ایل این جی کمپنی کو ایک ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو چارجز پڑیں گے۔ذرائع نے مزید بتایا ہے کہ جون میں ایل این جی مہنگی ہو جائے گی جس سے ترسیلی فیس بڑھ جائے گی۔یہ سب کام ۔فرنس آئل کا جواز پیدا کرنے کے لیے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

واضح رہے فرنس آئل کی بجائے مائع قدرتیگیس سے بجلی کی پیداوار سے قومی خزانے کو 2.6 ارب ڈالر کی بچت ہوئی تھی۔۔ جولائی 2018ء کے دوران مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی مدد سے پیدا کی جانے والی بجلی کی قیمت 9.72 روپے فی یونٹ جبکہ فرنس آئل سے پیدا کی جانے والی بجلی کی قیمت 13.55 روپے فی یونٹ رہی ہے۔ مائع قدرتی گیس سے بجلی پیدا کرنے والے شعبہ کے حکام کے مطابق فرنس آئل کے مقابلہ میں گیس سے سستی بجلی پیدا ہوئی ہے جس سے صارفین کے اخراجات میں کمی کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جولائی 2017ء کے دوران مائع قدرتی گیس سے بجلی کی پیداوار 7.52 روپے فی یونٹ جبکہ فرنس آئل سے بجلی کی پیداواری قیمت 9.306 روپے فی یونٹ رہی تھی۔ اس طرح جولائی 2017ء کے مقابلہ میں جولائی 2018ء کے دوران فرنس آئل سے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 45 فیصد جبکہ مائع قدرتی گیس کی قیمت میں 29 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرنس آئل کی بجائے گیس سے بجلی کی پیداوار کی مد میں ملک کو 2.6 ارب ڈالر کی بچت ہوئی ہے۔