قومی اسمبلی کے پہلے 100 دن، 5 اجلاس، اہم قومی امور پر 10 قراردادوں کی منظوری،

فنانس بل میں ترمیم ،تمباکو نوشی کے امتناع کا بل 2018ء پیش کیا گیا

جمعہ دسمبر 13:24

قومی اسمبلی کے پہلے 100 دن، 5 اجلاس، اہم قومی امور پر 10 قراردادوں کی منظوری،
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 دسمبر2018ء) قومی پارلیمانی تاریخ کی 15 ویں قومی اسمبلی کے پہلے 100 دنوں میں اب تک 5 اجلاس منعقد ہو چکے ہیں جن میں اہم قومی امور پر 10 قراردادوں کی منظوری سمیت فنانس بل 2018ء میں ترمیم کی گئی۔ تفصیلات کے مطابق 25 جولائی کے عام انتخابات کے بعد وجود میں آنے والی 15 ویں قومی اسمبلی کے اب تک 5 اجلاس منعقد ہو چکے ہیں جن میں دو اجلاس اپوزیشن کی ریکوزیشن پر منعقد ہوئے۔

موجودہ قومی اسمبلی میں حکومت کی طرف سے قومی معیشت کو درپیش مشکلات کے ازالہ کیلئے فنانس بل 2018ء میں ترمیم کی گئی جس میں پی ایس ڈی پی میں کمی سمیت ریونیو کی صورتحال بہتر بنانے کیلئے ٹیکسوں کی شرح میں ردوبدل کی گئی۔ اس کے علاوہ حکومت کی طرف سے تمباکو نوشی کے امتناع کا بل 2018ء پیش کیا گیا۔

(جاری ہے)

پبلک اکائونٹس کمیٹی کے معاملہ پر اپوزیشن اور حکومت میں اتفاق رائے نہ ہونے کی بناء پر قومی اسمبلی کی 29 قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل بھی ابھی تک التوا کا شکار ہے جس کی وجہ سے قانون سازی کے عمل میں اب تک قابل ذکر پیش رفت نہیں ہو سکی تاہم اب تک اتفاق رائے سے منظور ہونے والی 10 متفقہ قراردادوں میں سے 5 حکومت کی طرف سے اور 5 پرائیویٹ ممبر ڈے کے موقع پر پیش کی گئیں۔

قومی اسمبلی نے حضور نبی پاکﷺ کے توہین آمیز خاکوں کے حوالہ سے مذمتی قرارداد منظور کر کے ساری دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان کے عوام نبی پاکﷺ کی شان میں کسی قسم کی گستاخی برداشت نہیں کریں گے، جمعیت علماء اسلام (س) کے امیر مولانا سمیع الحق کے قتل پر بھی مذمتی قرارداد منظور کی گئی۔ اس کے علاوہ یوم سیاہ کے موقع پر بھارت کی طرف سے کشمیریوں پر مظالم کی مذمت اور پوری پاکستانی قوم کی طرف سے کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کی قرارداد منظور کی گئی۔

قومی اسمبلی کے دو ریکوزیشن اجلاسوں میں اپوزیشن کا ایجنڈا زیربحث لایا گیا جس میں ملک کی مجموعی معاشی و اقتصادی صورتحال اور نیب میں جاری احتسابی سرگرمیوں کی صورتحال پر تفصیلی بحث کی گئی۔ قاعدہ 259 کے تحت عام انتخابات 2018ء پر تفصیلی بحث سمیت خارجہ پالیسی، امن و امان کی صورتحال سمیت اہم قومی امور بھی زیرغور لائے گئے۔ قومی اسمبلی نے عام انتخابات 2018ء کی تحقیقات کیلئے پارلیمنٹ میں حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کے ارکان قومی اسمبلی اور سینیٹرز پر مشتمل خصوصی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی گئی جس کے تواتر کے ساتھ اجلاس جاری ہیں۔