کراچی میں چینی قونصلیٹ پر حملہ ، دہشتگردوں نے بائیو میٹرک سسٹم کا بھی توڑ نکال لیا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعہ دسمبر 13:32

کراچی میں چینی قونصلیٹ پر حملہ ، دہشتگردوں نے بائیو میٹرک سسٹم کا بھی ..
کراچی (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 07 دسمبر 2018ء) : کراچی میں گذشتہ ماہ چینی قونصلیٹ پر دہشتگردوں نے حملے کی کوشش کی جسے پولیس اور رینجرز کی بروقت کارروائی نے ناکام بنا دیا۔ چینی قونصلیٹ پر حملہ کرنے والے دہشتگردوں اور واقعہ سے متعلق تحقیقات کا آغاز کیا گیا جس میں انکشاف ہوا ہے کہ قونصلیٹ پر حملہ کرنے کی کوشش کرنے والے دہشتگردوں نے بائیومیٹرک سسٹم کا توڑ بھی نکال لیا۔

تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ چینی قونصلیٹ پر حملے کی کوشش میں مارا گیا ایک دہشتگرد بائیومیٹرک رجسٹرڈ پاکستانی سم استعمال کر رہا تھا۔ کاؤنٹر ٹیرارزم ڈیپارٹمنٹ کے انچارج راجہ عمر خطاب نے اس حوالے سے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردوں نے بائیو میٹرک سسٹم کا بھی توڑ نکال لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں پاکستانی سمیں فروخت ہو رہی ہیں۔

(جاری ہے)

وہاں باقاعدہ آوازیں لگا کر پاکستانی سم کارڈز فروخت کیے جا رہے ہیں۔ راجہ عمر خطاب نے بتایا کہ اس حوالے سے سی ٹی ڈی لائحہ عمل طے کر رہی ہے۔ اس ضمن میں نہ صرف فرنچائز بلکہ ڈیلر سمیت موبائل فون کمپنی پر بھی سہولت کاری کا مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے ایک خط لکھا جائے گا جس میں تمام موبائل فون کمپنیز کو اس بات کا پابند کیا جائے گا کہ جس کسی کی بھی بائیومیٹرک سم ہے وہ اُس کے علاوہ کسی اور شخص کو نہ دی جائے۔

عمومی طور پر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ موبائل فون کمپنیز سم فروخت کرنے کے لیے اپنے ملازمین کو ایک ٹاسک سونپ دیتی ہیں جس کے بعد وہ ٹاسک پورا کرنے کے لیے سمیں ڈیلرز کو دی جاتی ہیں، اسی طرح موبائل سمز رجسٹرڈ تو ہو جاتی ہیں لیکن صارفین کو نہیں دی جاتیں، اسی وجہ سے موبائل سمیں مختلف راستوں سے ہوتے ہوئے دہشتگردوں تک جا پہنچتی ہیں۔ راجہ عمر خطاب کا کہنا ہے کہ اس مقصد کے لیے زیادہ تر دیہات کی خواتین اور اسپتالوں میں موجود لاچار لوگوں کو استعمال کیا جاتا ہے جن کے پاس ڈیلرز بائیومیٹرک تصدیق والی ڈیوائس لے کر جاتے ہیں، ان کے انگوٹھے کا پرنٹ لیتے ہیں اور باہر جا کر انہیں کہہ دیتے ہیں کہ آپ کا پرنٹ صحیح نہیں آتا اور انہیں سم نہیں دیتے۔

یہ سمیں جب افغانستان پہنچتی ہیں تو یہاں موجود ان کے سہولت کار ان کو لوڈ بھجواتے رہتے ہیں۔ انہوں نے تنبیہہ کی کہ آئندہ کسی دہشتگردی کے واقعہ میں ایسی کوئی سم سامنے آئی تو ڈیلرز اور موبائل کمپنی کے خلاف بھی مقدمہ درج کر کے ان کو سہولت کار قرار دے کر کارروائی کی جائے گی۔