میرے دور حکومت میں ڈالر پوچھے بغیر 10پیسے بھی اوپر نہیں جاتا تھا، روپے کی قدر میں توازن رہا ،ْنوازشرزیف

جمعہ دسمبر 15:06

میرے دور حکومت میں ڈالر پوچھے بغیر 10پیسے بھی اوپر نہیں جاتا تھا، روپے ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 دسمبر2018ء) پاکستان مسلم لیگ (ن)کے قائد ،ْسابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ میرے دور حکومت میں ڈالر پوچھے بغیر 10پیسے بھی اوپر نہیں جاتا تھا، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں توازن رہا ،ْیہ کہتے ہیں کہ ہم نے ڈالر کو مصنوعی طریقے سے برقرار رکھا تو یہ بھی رکھ لیں ،ْ2017ء میں جب میں گھر گیا تو دہشت گری ختم ہوگئی تھی ،ْشہباز شریف کو کس جرم میں اندر رکھا ہوا ہی پوچھتے ہیں کہ 1999ء کے بعد باہر کیوں گئی مشرف نے جلاوطن کیا خود مرضی سے نہیں گئے ،ْنیب جس طرح ہے اسی طرح رہنا چاہیے ہم بھگت چکے ہیں باقی بھی بھگتیں ،ْنیب عمران خان کے ہیلی کاپٹر کا بھی احتساب کرے،عمران کے باقی خاندان کے ذرائع آمدن کا بھی احتساب کرے۔

جمعرات کو احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر وقفے کے دوران نواز شریف نے کمرہ عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ دنیا 2013 ء سے 2017ء تک ہماری معیشت کو مضبوط اور متوازن کہتی تھی،2017ء میں جب میں گھر گیا تو دہشت گری ختم ہوگئی تھی ،ْ کراچی شہر کو پر امن بنایا تھا۔

(جاری ہے)

نواز شریف نے کہا کہ اگر یہ کہتے ہیں کہ ہم نے ڈالر کو مصنوعی طریقے سے برقرار رکھا تو یہ بھی رکھ لیں، ڈالر کی قیمت برقرار رکھنے کا مصنوعی طریقہ ہے کیا ۔

نواز شریف نے کہاکہ19 ہزار سے اسٹاک ایکسچینج کو بڑھا کر 53 ہزار پر لے گئے، ہمارے 4 سال میں ڈالراتنا نہیں بڑھا جتنا اس حکومت کے چند ماہ میں بڑھ گیا، ملکی معیشت کے لیے کرنسی مستحکم ہونی چاہیے، 2013 سے 2017 تک اسٹاک ایکسچینج بہت اچھا رہا۔انہوںنے کہاکہ ہماری معیشت موجودہ دور حکومت کی متحمل نہیں ہوسکتی، ہمارے دور میں سی این جی اسٹیشن پر قطاریں ہوتی تھیں ۔

نوازشریف نے کہا کہ پوچھتے ہیں کہ 1999ء کے بعد باہر کیوں گئی مشرف نے جلاوطن کیا خود مرضی سے نہیں گئے۔انہوں نے کہا کہ کوئی تو پوچھے احتساب کس طرح ہو رہا ہے، نیب جس طرح ہے اسی طرح رہنا چاہیے، ہم تو بھگت چکے ہیں، اب باقی بھگتیں۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ نیب عمران خان کے ہیلی کاپٹر کا بھی احتساب کرے،عمران کے باقی خاندان کے ذرائع آمدن کا بھی احتساب کرے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا تو ذرائع آمدن کا ریکارڈ 1937ء سے موجود ہے ،ْہم سیاست میں آنے سے پہلے زیادہ خوش حال تھے۔میاں نواز شریف نے کہا کہ سیاست میں آنے کے بعد پریشانیوں میں اضافہ ہوا، ملکی معیشت ہر چیز کی متحمل ہو سکتی ہے ماسوائے موجودہ حکومت کے۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق ہمارے دور میں معیشت کی گروتھ 6.6 فیصد رہی۔

سابق وزیر اعظم ہمارے دور میں ٹماٹر 20 روپے کلو تھا اور اب 200 سے زیادہ ہے، گیس اور کھاد کی قیمتوں میں دوگنا اضافہ ہو گیا ہے، دنیا میں پیٹرول کی قیمتوں میں کمی ہوتی ہے یہاں بڑھ جاتی ہے۔ایک سوال کے جواب میں سابق وزیراعظم نے کہاکہ ذاتی وجوہات کی بنا پر دل نہیں کرتا کہ کچھ بولوں، شہباز شریف کے خلاف تفتیش میں کیا نکلا، آج نہیں تو کل قوم اس کا جواب مانگے گی، شہبازشریف کو ڈھائی مہینے کیوں بند رکھا۔

سابق وزیر اعظم صاف پانی سے کچھ نکلا نہ آشیانہ سے کچھ نکلا، جس شخص نے دن رات محنت کی اس کو یہ صلہ دیا، شہبازشریف کے کام کا میں گواہ ہوں کیونکہ 60 سال سے ہم ساتھ ہیں۔نواز شریف نے کہا کہ بہت ساری چیزوں کو میں بھی محسوس کرتا ہوں، کیا میں اور شہباز شریف اس سزا کے مستحق تھے جو دی گئی، بیرون ملک موجود تھا تو سزا دی گئی، بیوی کو بستر مرگ پر چھوڑ کر آیا اورایئرپورٹ سے گرفتار کر کے جیل بھیج دیاگیا۔انہوں نے کہاکہ شہباز شریف نے پہلی بار کراچی سے الیکشن لڑا، فیصل واوڈا صرف چار،پانچ سو ووٹوں سے جیتے، وہ بھی آپ کو پتہ ہے کہ فیصل واوڈا کیسے جیتے، فافن رپورٹ دیکھ لیں۔انہوں نے سوال کیا کہ شہباز شریف کو کس جرم میں اندر رکھا ہوا ہی ۔