پاکستان کا امریکی صدر کی جانب سے لکھے گئے خط کا جواب دینے کا فیصلہ

وزیر اعظم کی امریکی صدر کا خط وزارت خارجہ کو دے کر جواب تیار کرنے کی ہدایت جوابی خط میں افغان مفاہمتی عمل میں کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی جائے گی ،ْذرائع

جمعہ دسمبر 15:18

پاکستان کا امریکی صدر کی جانب سے لکھے گئے خط کا جواب دینے کا فیصلہ
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 دسمبر2018ء) پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کو لکھے گئے خط کا جواب دینے کا فیصلہ کرلیااس سلسلے میں وزیراعظم نے امریکی صدر کا خط وزارت خارجہ کو دے کر جواب تیار کرنے کی ہدایت کردی۔سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان نے امریکی درخواست پر مثبت ردعمل دینے کا فیصلہ کیا ہے اور جوابی خط میں افغان مفاہمتی عمل میں کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی جائے گی۔

جوابی خط میں پاک ،ْامریکہ اسٹریٹجک مذاکرات کی بحالی کی تجویز بھی دیئے جانے کا امکان ہے۔سفارتی ذرائع کے مطابق خط میں دو طرفہ تجارتی اور معاشی روابط بہتر بنانے پر بھی زور دیا جائے گا۔واضح رہے کہ گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان نے ٹی وی اینکرز اور سینئر صحافیوں سے ملاقات کے دوران اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں خط لکھا جس میں پاکستان سے افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے تعاون مانگا گیا ہے۔

(جاری ہے)

دفتر خارجہ کی جانب سے بھی اس بات کی تصدیق کی گئی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان مل کر کام کرنے کے مواقع تلاش کرنے اور نئی شراکت داری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے مسئلہ افغان کے مذاکراتی تصفیے کے لیے پاکستان سے تعاون طلب کیا ہے۔بعدازاں وائٹ ہاؤس نے بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کو خط بھیجے جانے کی تصدیق کردی۔

ترجمان نیشنل سیکیورٹی کونسل نے خط کی تفصیل بتائے بغیر کہا کہ پاکستان سے افغان امن عمل کے لیے مکمل حمایت کی درخواست کی گئی ہے۔دوسری جانب پاکستان سے افغان مصالحت کیلئے امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کے ساتھ تعاون پر بھی زور دیا گیا ہے۔ترجمان کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے خط میں واضح کیا گیا کہ افغان امن عمل میں پاکستان کی مدد پاک امریکہ شراکت کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے اور پاکستان میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر طالبان کے ٹھکانے نہ بننے دے۔