مجیب الرحمن شامی بھی ڈاکٹرثمرمبارک مند کے حق میں بول پڑے

ڈاکٹرثمر مبارک کی خدمات کے سامنے اربوں کی رقم کیا چیز ہے؟ 4 ارب روپے کی رقم توان پر وار کرپھینک دینی چاہیے، دنیا میں ریسرچ پروگراموں پر اربوں ڈالرکے منصوبے پہلے مرحلے میں ہی کامیاب نہیں ہوجاتے۔ سینئر تجزیہ کارمجیب الرحمن شامی کا ٹویٹ

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعہ دسمبر 15:11

مجیب الرحمن شامی بھی ڈاکٹرثمرمبارک مند کے حق میں بول پڑے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔07 دسمبر 2018ء) سینئر تجزیہ کار اور صحافی مجیب الرحمن شامی بھی معروف سائنسدان ڈاکٹر ثمر مبارک مند کے حق میں بول پڑے۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر ثمر مبارک کی خدمات کے سامنے اربوں کی رقم کیا چیز ہے؟ 4ارب روپے کی رقم توان پر وار کرپھینک دینی چاہیے۔انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے ٹویٹ میں معروف ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر ثمر مبارک مند کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ان کا نام نیب کو بھیجنے کی مخالفت کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا میں ریسرچ پروگراموں پر اربوں ڈالر خرچ ہوتے لیکن ضروری نہیں وہ پہلے مرحلے میں ہی کامیاب ہوجائیں۔ انہوں نے کہا کہ فرض کرلیں کہ 4 ارب روپے کا تھرکول گیسی فیکیشن منصوبہ ناکام ہو گیا پھر بھی یہ رقم ڈاکٹر ثمرمبارک مند کی ایٹمی پروگرام میں خدمات کے آگے کیا چیزہے؟ اتنی رقم توان پروارکرپھینک دینی چاہیے۔

(جاری ہے)


واضح رہے سپریم کورٹ نے نیب کو تھرکول گیسی فیکیشن پاور پراجیکٹ سے متعلق کیس میں ڈاکٹر ثمر مبارک مند سمیت دیگر افراد کے خلاف تحقیقات کرنے کا حکم جاری کردیا ہے۔

ڈاکٹر ثمر مبارک نے دعویٰ کیا تھا کہ اس پراجیکٹ سے پاکستان کو مفت بجلی ملے گی لیکن4 ارب روپے ضائع ہوگئے۔ گزشتہ روزجمعرات کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پرعدالت کوآڈیٹر جنرل کی جانب سے تھرکول گیسی فیکیشن پاور پراجیکٹ کے بارے میں حتمی آڈٹ رپورٹ پیش کی گئی، عدالت کے استفسار پر ڈپٹی اٹارنی جنرل ساجد الیاس بھٹی نے پیش ہوکر بتایا کہ اس منصوبے کو چلانا سندھ حکومت کی ذمہ داری تھی، جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ نئی گج ڈیم کے تعمیر سے متعلق کیس میں سندھ حکومت نے کہا کہ نئی گج ڈیم نہیں بننا چاہیئے، حالانکہ نئی گج ڈیم پر اب تک 8سے 10ارب روپے خرچ ہوئے ہیں اور اب جب تھرکول منصوبے پر4 ارب روپے سے زائد رقم خرچ ہو چکی ہے، توسب کہتے ہیں کہ ہمیں یہ منصوبہ نہیں چاہیے، ڈاکٹرثمرمبارک مند نے بہت بلند و بانگ دعوے کیے تھے۔

وہ کہتے تھے کہ اس منصوبے سے پاکستان کو مفت بجلی ملے گی لیکن ہوا یہ کہ 4.6 ارب روپے خرچ کر کے منصوبہ بند کردیا گیا۔ سماعت کے دوران ڈاکٹرثمر مبارک مند نے عدالت کو استفسار پر بتایا کہ ایک ارب روپے فزیبیلٹی پر لگ چکے ہیں۔ حکومت نے جا کر پراجیکٹ دیکھ لیا تھا کہ پراجیکٹ چل رہا ہے تب یہ منصوبہ منظور ہوا تھا۔، جس پرچیف جسٹس ثاقب نثارنے کہا کہ سیدھی بات یہ ہے کہ قوم کے 4 ارب سے زیادہ رقم ضائع ہوگئی ہے، جس کے ذمہ دار ثمر مبارک مند ہیں، اب وہ 20 بہانے کریں گے کہ یہ ہوا وہ ہوا۔

سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے پیش ہوکرعدالت سے کہا کہ سندھ حکومت منصوبے کی تمام چیزیں اپنی تحویل میں لینا چاہتی ہے، اس حوالے سے ہمیں اجازت دی جائے جس پر چیف جسٹس نے ان سے کہا کہ اس بارے میںوفاقی حکومت سے رجوع کیا جائے، وہی فیصلہ کرے گی۔