وزیراعظم سے چیئرمین نیب کی ملاقات،نیب کی کارکردگی پر تبادلہ خیال

ملاقات میں نئے ڈپٹی چیئرمین کی تعیناتی پر بھی غور، وزیراعظم کی ہرممکن تعاون کی یقین دہانی،کرپٹ عناصر کیخلاف بلاتفریق کاروائی کی جائے۔ وزیراعظم عمران خان کی چیئرمین نیب سے گفتگو

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعہ دسمبر 15:54

وزیراعظم سے چیئرمین نیب کی ملاقات،نیب کی کارکردگی پر تبادلہ خیال
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔07 دسمبر 2018ء) وزیراعظم عمران خان سے چیئرمین نیب جسٹس (ر)جاوید اقبال نے ملاقات کی، جس میں قومی احتساب بیوروکی کارکردگی بہتربنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا، نئے ڈپٹی چیئرمین کی تعیناتی پر بھی غور کیا گیا، وزیراعظم عمران خان نے نیب کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے پر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے آج چیئرمین نیب جسٹس (ر)جاوید اقبال نے ملاقات کی۔

ملاقات میں نیب کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ جبکہ نیب کی کارکردگی کوبہتربنانے کی تجاویز کا جائزہ بھی لیا گیا۔ ملاقات میں بدعنوانی کے کیخلاف ٹھوس اقدامات پر بات چیت بھی کی گئی۔ عمران خان نے نیب کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی۔

(جاری ہے)

ملاقات میں نئے ڈپٹی چیئرمین کی تعیناتی پر بھی غور کیا گیا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ملک میں کرپشن کا خاتمہ ترجیحات میں سرفہرست ہے۔

کرپٹ عناصر کیخلاف بلاتفریق کاروائی کی جائے۔کرپشن کے خاتمے کیلئے نیب کا کردار انتہائی اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ بدعنوان اور کرپٹ عناصر کا احتساب حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ واضح رہے نیب کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے گزشتہ روز ہیڈکوارٹرز میں ایک سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے شکوہ کیا تھا کہ حکومتی شخص کیخلاف کاروائی کی تونیب بجٹ میں کٹ لگا دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ مجھے بے شک برابھلا کہتے رہیں جواب نہیں دوں گا۔ ادارے کو برابھلا کہا گیا توجواب دیتا رہوں گا۔ جسٹس ر جاوید اقبال نے کہا کہ کہا گیا کہ نیب میں سزا دلوانے کی شرح 7فیصد ہے۔ نیب میں سزا دلوانے کی شرح 70فیصد ہے۔اگر یہ بات غلط ثابت ہوگئی توگھر چلا جاؤں گا۔ نیب کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ 50لاکھ کی کرپشن کو ریکور کرنے کیلئے 5 لاکھ لگ جائیں تو کوئی بات نہیں۔

انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ نیب نے گزشتہ ایک سال کے دوران نہ صرف 503 افراد کو گرفتار کیا بلکہ 1713شکایا ت کی جانچ پڑتال ،877 انکوائریاں اور 227 انویسٹی گیشن کی منظوری دی جبکہ 440 بدعنوانی کے ریفرنس معزز احتساب عدالتوں میں دائر کئے جو پہلے کسی ایک سال میں نیب نے اتنے بد عنوانی کے ریفرنس منطقی انجام تک پہنچائے اور نہ ہی نیب نے متعلقہ معزز احتساب عدالتوں میں ایک سال کے اندر اتنی کثیر تعداد میں بدعنوانی کے ریفرنس دائر کئے گئے۔