اراکینِ اسمبلی کو 31 دسمبر تک اثاثوں کی تفصیلات جمع کروانے کا حکم

اثاثوں کی تفصیلات نہ جمع کروانے کی صورت میں رکِن اسمبلی معطل ہوجائے گا،الیکشن کمیشن

جمعہ دسمبر 16:32

اراکینِ اسمبلی کو 31 دسمبر تک اثاثوں کی تفصیلات جمع کروانے کا حکم
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 دسمبر2018ء) الیکشن کمیشن پاکستان (ای سی پی) نے سالانہ روایت کے طور پر جون 2018 کو ختم ہونے والے مالی سال کے سلسلے میں اراکینِ اسمبلی کو اثاثہ جات کی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔اس ضمن میں ای سی پی نے ایک نوٹِفکیشن جاری کیا جس میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے اراکین کو اپنے، اپنے شریک حیات اور انحصار کرنے والے بچوں کے اثاثے اور اخراجات کی سالانہ تفصیلات فائل کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

عوام کی نمائندگی کے ایکٹ برائے سال 1976، اور سینیٹ الیکشنز ایکٹ برائے 1975 کے تحت اثاثے جمع کروانے کی آخری تاریخ 30 ستمبر تھی لیکن الیکشن ایکٹ برائے سال 2017 میں اسے 31دسمبر کردیا گیا تھا۔الیکشن ایکٹ کی دفعہ 137 کے مطابق ’ہر رکنِ اسمبلی اور سینیٹ اپنے اور اپنے شریک حیات اور زیر کفالت بچوں کے اثاثے اور اخراجات کی تفصیلات 31 دسمبر سے پہلے الیکشن کمیشن میں جمع کروائے گا ‘۔

(جاری ہے)

اسی قانون کے تحت الیکشن کمیشن، دی گئی مدت تک اثاثوں کی تفصیلات نہ جمع کروانے والے اراکین کے نام یکم جنوری کو شائع کرنیکا پابند ہے۔جس کے بعد 15 جنوری تک بھی تفصیلات فراہم نہ کرنے کی صورت میں 16 جنوری کو اس کی رکنیت معطل کا حکم دیا جائے گا اور جب تک تفصیلات فراہم نہیں کردی جائیں گی اسے کام کرنے سے روکا جائے گا۔سیکشن 137 کی ذیلی دفعہ کے مطابق اگر کسی رکن کی جانب سے جمع کروائی گئی اثاثوں کی تفصیلات میں جھوٹا مواد پایا گیا تو 120 دن کے اندر اس کیخلاف بدعنوانی کی کارروائی کی جائے گی۔

خیال رہے کہ ای سی پی نے دسمبر 2016 میں بھی تمام اراکینِ اسمبلی کے اخراجات اور اثاثوں کی جانچ پڑتال کرنے کا اعلان کیا تھا اور اس کے لیے کارروائی کا آغاز بھی کردیا گیا تھا لیکن پھر اسے بغیر کوئی وجہ بتائے سرد خانے میں ڈال دیا گیا۔