لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب کی چھ کمپنیوں اور اس میں شامل اسمبلی ممبران کیخلاف درخواست پر فیصل آباد ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے چیئرمین شکیل شاہد کو تاحکم ثانی کام کرنے سے روکے دیا

جمعہ دسمبر 16:57

لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب کی چھ کمپنیوں اور اس میں شامل اسمبلی ممبران ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 دسمبر2018ء) لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب کی چھ کمپنیوں اور اس میں شامل اسمبلی ممبران کے خلاف درخواست پر فیصل آباد ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے چیئرمین شکیل شاہد کو تاحکم ثانی کام کرنے سے روکے دیا۔ عدالت نے صوبائی وزیر عبدالعلیم خان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔ عدالت نے چیف سیکرٹری پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔

عدالت نے تمام چھ کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ۔ مسٹر جسٹس شاہد کریم شہری محمد احسان کی شیراز ذکا ایڈوکیٹ کی وساطت سے دائر درخواست پر سماعت کی۔ اس درخواست پر مسز جسٹس عائشہ اے ملک نے سماعت سے معذرت کر لی تھی ۔ درخواست میں چیف سیکرٹری پنجاب اور وزرات قانون کو فریق بنایا گیا ہے۔

(جاری ہے)

درخواست گزار میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پنجاب کو چلانے کے لیے آئین پاکستان کے تحت سول سیکرٹریٹ قائم کیا گیا۔

سابق دور حکومت مین 56کمپنیوں کی تشکیل کر دی گئی۔ یہ کمپنیاں 2013کے کمپنی آرڈیننس کی خلاف ورزی تھیں۔ سپریم کورٹ نے اسکا نوٹس لیتے ہوئے معاملہ نیب کو بھجوا دی ۔ اب موجودہ حکومت نے دوبارہ ٹرانسپورٹ کمپنی، ایگریکلچرل ایند ویسٹ کمپنی،صاف پانی کمپنی، فیصل آباد ویسٹ مینجمنٹ کمپنی، پنجاب لینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی اور لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کی تشکیل نو کر دی ہے۔ ان کمپنیوں کو چلانے کے لیے ممبران اسمبلی کو شامل کر لیا گیا ہے ۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت ان کمپنیوں کی تشکیل غیر قانونی قرار دے ۔ ان کمپنیوں میں شامل ممبران اسمبلی کو کام کرنے سے روکا جائے۔