فلاحی ریاست پر یقین رکھتے ہیں،

پاکستان میں طالبان کی خفیہ پناہ گاہیں نہیں، افغانستان میں قیام امن کیلئے اپنی بہترین کوششیں کریں گے، ممبئی حملے کرنے والوں کو انجام تک پہنچانا چاہتے ہیں، آئی ایم ایف کی مہنگائی اوربے روزگاری کو بڑھانے والی شرائط کوقبول نہیں کریں گے امریکا سے کبھی بھی اس طرح کے تعلقات نہیں چاہیں گے کہ جس میں پاکستان کی حیثیت کرائے کے سپاہی کی ہو ، وزیراعظم عمران خان کا امریکی اخبار ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ کو انٹرویو

جمعہ دسمبر 17:16

فلاحی ریاست پر یقین رکھتے ہیں،
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 دسمبر2018ء) وزیراعظم عمران خان نے پاکستان میں مساوات اور انصاف پسند معاشرہ کی تشکیل کیلئے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ فلاحی ریاست پر یقین رکھتے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹویٹ کے جواب میں ٹویٹ ٹویٹر کی جنگ نہیں بلکہ ریکارڈ کی درستگی تھی، پاکستان میں طالبان کی خفیہ پناہ گاہیں نہیں، افغانستان میں قیام امن کیلئے اپنی بہترین کوششیں کریں گے، افغان مسئلے کا فوجی حل نہیں ہے، میرے اس موقف کی وجہ سے مجھے طالبان خان کا بھی خطاب ملا، خوشی ہے کہ اب سبھی لوگ افغان مسئلے کی سیاسی حل کی بات کر رہے ہیں، پاکستانی نقطہ نظر سے میں سمجھتا ہوں کہ امریکا کو افغانستان سے 1989ء کی طرح جلدبازی میں نہیں نکلنا چاہئے، امریکا کو اسامہ کے بارے میں پاکستان کے ساتھ معلومات شیئر کرنی چاہئیں تھی ، ممبئی حملے کرنے والوں کو انجام تک پہنچانا چاہتے ہیں، آئی ایم ایف کے ساتھ بھی چیت کررہے ہیں تاہم مہنگائی اوربے روزگاری کو بڑھانے والی شرائط کوقبول نہیں کریں گے۔

(جاری ہے)

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹویٹ کے جواب میں ان کی ٹویٹ ٹوئٹرکی جنگ نہیں بلکہ ریکارڈ کی درستگی تھی۔ ٹوئٹر پر پیغامات کا تبادلہ امریکا کی جانب سے افغان مسئلہ کے فوجی حل کی غلط پالیسیوں کیلئے پاکستان کوموردالزام ٹھہرانے کا جواب تھا، امریکی صدر الزام لگارہے تھے کہ پاکستان میں طالبان رہنماوں کی پناہ گاہیں ہیں ۔

وزیراعظم نے دوٹوک طورپر کہاکہ پاکستان میں اس طرح کی کوئی خفیہ پناہ گاہیں نہیں ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ جب وہ اقتدار میں آئے تو انہیں سیکورٹی فورسز کی جانب سے مکمل بریفنگ دی گئی، بریفنگ میں مجھے بتایا گیاکہ ہم نے بارہا امریکا سے کہاہے کہ اس طرح کی خفیہ پناہ گاہوں کی نشاندہی کی جائے، ہم ان کے خلاف کارروائی کریں گے، حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں اس طرح کی خفیہ پناہ گاہیں نہیں ہیں۔

وزیراعظم نے کہاکہ اس وقت پاکستان میں 27 لاکھ افغان پناہ گزین مقیم ہیں، یہ پناہ گزین بڑے کیمپوں میں رہ رہے ہیں ۔پاکستان اورافغانستان کے درمیان سرحد کی کڑی نگرانی کی جاتی ہے، امریکا کے سیٹلائٹس اورڈرون موجود ہیں ۔ سرحد پر اس طرح کے لوگوں کی نقل وحرکت کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے، پہلی بات تو ہے کہ پاکستان میں اس طرح کی خفیہ پناہ گاہیں نہیں ہیں، اگر فرض کرلیں کہ 2 یا تین ہزار طالبان افغانستان سے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں تو یہ ان افغان پناہ گزین کیمپوں میں آسانی سے جاسکتے ہیں ۔

امریکی صدر دونلڈ ٹرمپ کے مکتوب پر انہوں نے کہاکہ افغانستان میں امن پاکستان کے مفاد میں ہے، افغانستان میں قیام امن کیلئے پاکستان سے جو کچھ ہوسکا وہ کریگا۔طالبان پر دبائو ڈالنے سے متعلق سوال پروزیراعظم نے کہاکہ ہم افغانستان میں قیام امن کیلئے اپنی بہترین کوششیں کریں گے تاہم طالبان پردبائو ڈالنے کی بات آسان لیکن عمل کرنا مشکل ہے ،یہ بات یادرکھناچاہئیے کہ اس وقت افغانستان کا 40 فیصد حصہ افغان حکومت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔

پاکستان میں طالبان رہنماوں کو پناہ دینے کے سوال پروزیراعظم نے کہا کہ اس طرح کی الزام تراشیاں ان کی سمجھ میں نہیں آسکی ہیں،نائون الیون کے حملوں کا پاکستان سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ القاعدہ افغانستان میں تھی، ان حملوں میں کوئی پاکستانی شہری ملوث نہیں تھا اس کے باوجود پاکستان کو امریکی جنگ میں شامل ہونے کیلئے کہا گیا۔ پاکستان میں مجھ سمیت بہت سارے لوگ تھے جو اس جنگ کی مخالفت کر رہے تھے، افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف جنگ میں پاکستان نے امریکا کا ساتھ دیا تھا، 1989ء میں جب روس افغانستان سے نکل گیا تو امریکا بھی چلا گیا اور پاکستان کو عسکری گروپوں کا سامنا اور 40 لاکھ افغان پناہ گزینوں کا بوجھ اٹھانا پڑا۔

اگر ہم 9/11 کے بعد غیر جانبدار رہتے تو اپنے آپ کو اس تباہی سے بچا پاتے جو جنگ میں شمولیت کی وجہ سے پاکستان میں ہوئی۔ امریکی جنگ میں فرنٹ لائن اسٹیٹ ہونے کی وجہ سے پاکستان مشکلات کا شکار ہوا اور اس جنگ میں ہمارے 80 ہزار سے زائد لوگوں نے اپنی جانیں قربان کیں۔ ہمارا انداز ہے کہ اس جنگ میں پاکستان کی معیشت کو 150 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا۔ پاکستان میں سرمایہ کاری رک گئی اور پاکستان کو دنیا میں خطرناک ملک قرار دیا جانے لگا۔

افغانستان میں قیام امن کیلئے مذاکرات اور امریکی افواج کے انخلاء سے متعلق سوال پر وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ وہ کئی برسوں سے کہہ رہے ہیں کہ افغان مسئلے کا فوجی حل نہیں ہے، میرے اس موقف کی وجہ سے مجھے طالبان خان کا بھی خطاب ملا۔ مجھے خوشی ہے کہ اب سبھی لوگ افغان مسئلے کی سیاسی حل کی بات کر رہے ہیں، پاکستانی نقطہ نظر سے میں سمجھتا ہوں کہ امریکا کو افغانستان سے 1989ء کی طرح جلدبازی میں نہیں نکلنا چاہئے۔

1989ء میں جلد بازی میں نکلنے سے افراتفری پھیلی، اسی افراتفری سے طالبان نے جنم لیا۔ وزیراعظم نے کہا یہ بات درست ہے کہ افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں کمی آئی ہے تاہم افغان آرمی کو امریکا کی جانب سے امداد مل رہی ہے، طالبان بھی اس بات کو سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں قیام امن کیلئے انہیں امریکی مدد کی ضرورت ہوگی۔ پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات کے سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ وہ کبھی بھی اس طرح کے تعلقات نہیں چاہیں گے کہ جس میں پاکستان کی حیثیت کرائے کے سپاہی کی ہو اور پاکستان کو پیسے کے بدلے پرائی جنگ لڑنا پڑے۔

ہم اپنے آپ کو کبھی بھی دوبارہ اس پوزیشن میں نہیں لائیں گے کیونکہ اس سے نہ صرف ہمیں بھاری جانی نقصان پہنچا ہے بلکہ ہمارے قبائلی علاقے تباہی کا شکار ہوئے اور ہماری عزت نفس کو بھی نقصان پہنچا، ہم امریکا کے ساتھ مناسب تعلقات چاہتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ چین کے ساتھ ہمارے تعلقات یک سمتی نہیں ہیں، یہ دو ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات ہیں، امریکا کے ساتھ بھی ہم اسی طرح کے تعلقات چاہتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہاکہ امریکی پالیسیوں سے عدم اتفاق کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ آپ امریکا کے خلاف ہیں، یہ سامراجی طرز فکر ہے کہ یا تو آپ ہمارے ساتھ ہیں یا ہمارے دشمن۔ ڈرون حملوں سے متعلق سوال پر وزیراعظم نے کہاکہ اس طرح کے حملوں کا کون حامی ہو سکتا ہے، کون سا ایسا ملک ہوگا جو ڈرون حملوں کی اجازت دے گا جس میں ایک حملہ میں آپ ایک دہشت گرد کو مارنے کیلئے 10 اور انسانوں کو بھی مار دیتے ہو۔

کیا کوئی ملک ایسا ہے جو اپنے اتحادی کو اپنے ملک پر اس طرح کی بمباری کی اجازت دے، میں نے اس کی مخالفت کی ہے کیونکہ اس سے امریکا کے خلاف نفرت میں اضافہ ہوا ہے۔ اسامہ بن لادن کی ہلاکت سے متعلق سوال پر وزیرعظم عمران خان نے کہاکہ معاملہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کا نہیں بلکہ پاکستان پر عدم اعتماد کا ہے، یہ باعث شرم ہے کہ ہم امریکی جنگ میں اپنے فوجیوں اور شہریوں کی قربانی دے رہے ہیں اور اس کے باوجود اسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے میں ہمارے اتحادی ہم پر اعتماد نہیں کر رہے، امریکا کو اسامہ کے بارے میں پاکستان کے ساتھ معلومات شیئر کرنی چاہئیں تھی کیونکہ ہمیں پتہ نہیں تھا کہ ہم امریکا کے دوست ہیں یا دشمن۔

اس معاملہ پر بیشتر پاکستانی یہی سمجھ رہے تھے کہ ان پر اعتماد نہیں کیا گیا۔ امریکا کے ساتھ تعلقات میں گرمجوشی سے متعلق سوال پروزیراعظم نے کہاکہ ایک سپرپاورکے ساتھ دوستی کون نہیں چاہے گا۔ وزیراعظم نے کہاکہ امریکی رہمناوں کو غلط اطلاعات فراہم کی جاری ہے، کیا ایسا ممکن ہے کہ 1 لاکھ 50 ہزارنیٹو افواج، جدید سازوسامان اورایک ٹریلین ڈالر زائد بجٹ کے حامل انسانی تاریخ کی سب سے بڑی فوجی مشین کی موجودگی میں کہا جائے کہ چند ہزارپاکستانی مزاحمت کار افغانستان میں فتح حاصل نہ کرنے کا باعث بنے ۔

امریکا پاکستان سے توقع رکھتا ہے کہ وہ افغان طالبان کے خلاف کارروائی کریگا لیکن افغان طالبان پاکستان کونشانہ نہیں بنارہے ، تحریک طالبان پاکستان اورالقاعدہ پاکستان کو نشانہ بنا رہے ہیں۔تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ خادم رضوی اورتحریک کے کارکنوں کے خلاف کارروائی سے متعلق سوال پروزیراعظم نے کہاکہ یہ سیدھا معاملہ ہے، انہوں (وزیراعظم ) نے ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب میں انہیں خبردارکیا تھا کہ حکومت عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے ساتھ کھڑی ہے، اگر حکومت سپریم کورٹ کا ساتھ نہیں دیتی تو پھر ریاست باقی نہیں رہتی۔

ٹی ایل پی کے رہنماوں نے عدالت عظمیٰ کے ججزصاحبان کے قتل کے فتویٰ جاری کئے اوراب بھی ججز کو قتل کرنے کی باتیں کررہے ہیں۔ملک کی اقتصادی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ 2013 ء میں جب سابق حکومت برسراقتدارآئی تو حسابات جاریہ کاخساہ 2.5 ارب ڈالر تھا، جب 2018 ء میں تحریک انصاف نے اقتدارسنبھالا تو یہ خسارہ 19 ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا ، یہ ایک ایسے ملک کیلئے بڑا خسارہ تھا جس کی برآمدات کم ہوں، ان حالات میں فوری اوراشد کام معشیت کو مستحکم کرنا تھا۔

سعودی عرب،متحدہ عرب امارات اورچین کے دورے سے متعلق سوال پرانہوں نے کہاکہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھانے کیلئے یہ دورے ہوئے، اوراس میں ہمیں کامیابی بھی ملی۔ہمیں تینوں ممالک سے کچھ مدد ملی ہیں، ہم آئی ایم ایف کے ساتھ بھی بات چیت کررہے ہیں تاہم مہنگائی اوربے روزگاری کو بڑھانے والی شرائط کوقبول نہیں کریں گے۔آئی ایم ایف کے بعض شرائط ایسی ہیں جس سے عام آدمی متاثرہوسکتا ہے ۔

آئی ایم ایف سے مذاکرات کی کامیابی سے متعلق سوال پروزیراعظم نے کہاکہ ہمارے پاس آئی ایم ایف کے ساتھ اورآئی ایم ایف کے بغیر دونوں منظرنامے موجودہیں۔گزشتہ 30 برسوں میں پاکستان نے آئی ایم ایف کے 16 پروگرام حاصل کئے ، اگر ہم آئی ایم ایف کے ساتھ گئے تو ہم اس بات کو یقینی بنائین گے کہ یہ آخری پروگرام ہوگا، پاکستان نے کبھی بھی ڈھانچہ جاتی تبدیلیاں نہیں کیں جو بے حد ضروری تھیں، اب ہم نے ڈھانچہ جاتی اصلاحات کا عمل شروع کردیا ہے جس کے نتیجے میں برآمدات اورترسیلات زر میں اضافے کا آغاز ہوچکا ہے، ہمیں برآمدات میں اضافہ اوردرآمدات میں کی ضرورت ہے، پاکستان میں سرمایہ کار آرہے ہیں ، اسی طرح ٹیکس کے دائرہ کارکووسعت دینے کے ساتھ ساتھ ٹیکس اصلاحات میں بڑی تبدیلیاں لائی جارہی ہیں۔

ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان میں لوگ پیسے کمائے، 1960ء کی دھائی میں پاکستان تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہا تھا، 70 کے عشرے میں سابق وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹو سوشلسٹ پروگرام کے ساتھ اقتدارمیں آئے ، یہ طرزعمل دولت کی پیداوارکے خلاف تھا،بدقسمتی سے یہی سوچ بیوروکریسی اورسیاسی کلاس کی بھی رہی ، ہم پاکستان کو ایسا مقام بنانا چاہتے ہیں جہاں لوگ آسانی کے ساتھ سرمایہ کاری کرسکیں اورسرمایہ کارہمارے نوجوان ، جو آبادی کا ایک بڑا حصہ ہے، کی صلاحیتوں سے استفادہ کرسکے۔

وزیراعظم نے کہاکہ ایگزون 27 سال بعد پاکستان واپس آئی ہے اوربڑے پیمانے پر تیل و گیس کی تلاش کرے گی، پیپسی نے بھی پاکستان میں اضافی سرمایہ کاری کی ہے۔ان کمپنیوں کی طرف سے پاکستان میں سرمایا کاری کی وجہ بارے سوال کے جواب میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ غالباً اس کی وجہ ہماری حکومت کی شفافیت ہے، ہم ان سے پیسے نہیں مانگیں گے۔اس سوال کے جواب میں کہ آپ کو اپنی پارٹی بناکر اقتدار میں آنے کے لئے 22 سال کیوں لگے، وزیر اعظم نے کہا کہ یہ ایک طویل جدوجہد تھی، ابتدائی 15 سال تک تو یہ ایک چھوٹی پارٹی تھی اور پارلیمنٹ میں میری صرف ایک سیٹ تھی۔

پھر سات سال قبل ایک نیا تصور سامنے آیا کہ اب ہمارا وقت ہے۔اس سوال کے جواب میں کہ آپ ایک کرکٹ سٹار تھے اور انگلینڈ میں شاندار زندگی گزار رہے تھے، اس کے باوجود سیاست کی طرف کیوں آئے، وزیر اعظم نے کہا کہ ان کا تعلق اس پہلی پاکستانی نسل سے ہے جسے اپنے ملک پر فخر تھا۔ 1960 ء کے عشرے میں پاکستان ترقی پذیر ممالک کے لئے مثال تھا۔بدقسمتی سے 1971 ء میں یہ دو ٹکڑے ہو گیا۔

1980 کے عشرے کے وسط سے یہاں کرپشن میں اضافہ ہونا شروع ہو گیا، میگا کک بیکس کی وجہ سے کرپشن میگا پراجیکٹس تک پہنچ گئی۔جب ملک کے حکمران ہی دولت جمع کرنا شروع کر دیں تو وہ اسے اپنے ملک میں نہیں رکھ سکتے کیونکہ پھر یہ لوگوں کی نظروں میں آجاتی ہے۔ ماضی کے حکمران یہ دولت ملک سے باہر لے گئے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ملک کے پاس غیر ملکی زر مبادلہ کے زخائر کم ہو گئے۔

جب ملک کے حکمران ہی دولت جمع کرنا شروع کردیں تو رجحان ہر سطح پر سرایت کر جاتا ہے۔اس سوال کے جواب میں کہ آپ اس رجحان کو کس طرح بدلیں گے وزیر اعظم نے کہا کہ ان کی ساری جدوجہد ہی کرپشن کے خلاف ہے، کرپشن کے خاتمے کی جدوجہد اوپر سے شروع ہوتی ہے اور پھر اداروں کو مظبوط کیا جاتا ہے۔اس سوال کے جواب میں کہ بھارت نے ان کی طرف سے حکومت میں آنے کے بعد خیر سگالی کے کئے گئے تمام اقدامات کو نظر انداز کر دیا، وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت میں عام انتخابات قریب ہیں، وہاں کی حکمران جماعت مسلمان مخالف اور پاکستان مخالف اپروچ رکھتی ہے اس لئے انہوں نے ہمارے مثبت اقدامات کونظر انداز کیا۔

اس سوال کے جواب میں کہ بھارت 2008 کے ممبئی حملوں کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی چاہتا ہے، ان حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ زکی الرحمان لکھوی کو پاکستان میں ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے اور دیگر چھ ملزمان کے خلاف نو سال تک مقدمے کے باوجود کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا، وزیراعظم نے کہا کہ ہم بھی ممبئی حملے کرنے والوں کو انجام تک پہنچانا چاہتے ہیں۔

میں نے اپنی حکومت سے اس کیس کی تازہ ترین صورتحال بتانے کو کہا ہے، اس کیس کو اپنے انجام تک پہنچانا ہمارے اپنے مفاد میں ہے کیونکہ یہ دہشت گردی کی کارروائی تھی۔ہم نے بھارت کے ساتھ کرتارپور میں ویزا فری راہداری کھولی، ہمیں امید ہے انتخابات کے بعد بھارت کے ساتھ بات چیت دوبارہ شروع ہو جائے گی۔اس سوال کے جواب میں کہ کیا پاکستان سے غربت کا خاتمہ آپ کا بنیادی مقصد ہے وزیر اعظم نے کہا کہ وہ پاکستان میں مساوات والااور انصاف پسند معاشرہ تشکیل دینا چاہتے ہیں۔

وہ فلاحی ریاست پر یقین رکھتے ہیں۔ اقتصادی پالیسی کے حوالے سے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بالکل برعکس سوچ رکھتا ہوں جو شاید سینیٹر بارنی سینڈرز سے زیادہ قریب ہے۔اس سوال کے جواب میں کہ آپ نے ایسے خیالات کہاں سے لئے وزیر اعظم نے کہاکہ وہ 18 سال کی عمر میں کرکٹ کھیلنے انگلینڈ گئے وہاں انہوں نے پہلی بار ایک فلاحی ریاست کا خود مشاہدہ کیا جہاں ریاست کمزوروں اور زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ جانے والوں کا خیال رکھتی تھی۔