دوسری جنگ عظیم کے بعدپاکستان نے سب سے زیادہ قربانیاںدیں‘ زرتاج گل

یمن اور افغانستان کے بحران کے حل کے لئے ثالث کا کردار ادا کریں‘وفاقی وزیرمملکت برائے ماحولیاتی تبدیلی

جمعہ دسمبر 17:16

دوسری جنگ عظیم کے بعدپاکستان نے سب سے زیادہ قربانیاںدیں‘ زرتاج گل
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 دسمبر2018ء) وفاقی وزیرمملکت برائے ماحولیاتی تبدیلی زرتاج گل نے کہا ہے کہ دوسروں کی جنگ میں شامل ہونے سے پاکستان نے دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے زیادہ نقصان اٹھایا اور قربانیاں دی ہیں اب ہم کسی کی جنگ میں شامل نہیں ہوں گے، بلکہ ہمیں کہا جارہا ہے کہ یمن اور افغانستان کے بحران کے حل کے لئے ثالث کا کردار ادا کریں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پنجاب یونیورسٹی کالج آف ارتھ اینڈ انوائرنمنٹل سائنسز کے زیر اہتمام سنٹر فار ہیلتھ اینڈ جینڈر ایکویلٹی (چینج) کے اشتراک سے الرازی ہال میں ’ امن کے سفیروں‘ کے موضوع پرمنعقدہ افتتاحی سیمینار سے کیا۔اس موقع پر وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر نیا زاحمد اختر، پرنسپل کالج آف ارتھ اینڈ انوائرنمنٹل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر ساجد رشید،معروف دانشور شکیل جاذب، ایگزیکٹیو ڈائریکٹر چینج ممتاز حسین، کالم نگار سلمان عابد ، فیکلٹی ممبران اور طلبائو طالبات نے بڑی تعدد میں شرکت کی۔

(جاری ہے)

اپنے خطاب میں زرتاج گل نے کہا کہ پراکسی وار میں 70 ہزار پاکستانی شہید اور معیشت تباہ ہوئی، انہوں نے کہا کہ نیویارک حملوں میں نہ پاکستان کی مٹی استعمال ہوئی اور نہ ہی وسائل اور نہ ہی حملہ آوروں کا کوئی تعلق پاکستان سے تھا تاہم پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے بھاری نقصان اٹھایا اور ہماری معیشت کو شدید دھچکے لگے۔ انہوں نے کہا کہ آرمی پبلک سکول کے معصوم بچوں پر بزدلانہ حملہ دہشت گردی کی بدترین مثال ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی وجوہات جان کر اس کا خاتمہ کرنا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت بات چیت کے ذریعے مسئلہ کشمیر حل کرنا چاہتی ہے۔ انہو ںنے کہا کہ عمران خان کی نڈر پالیسیوں کے باعث آج گرین پاسپورٹ کی عزت ہو رہی ہے۔ انہو ں نے کہا کہ عوام عدم برداشت کے کلچر کا خاتمہ کر کے امن کو فروغ دیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے نظریات دوسروں پر نہیں تھوپنے چاہئیںبلکہ ایک دوسرے کا احترام اور اپنی ثقافت کی قدر کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو معاشرے میں امن کے قیام کیلئے نئے نظریات کے ساتھ اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں امن کے قیام کے لئے دیگر اداروں کو پنجاب یونیورسٹی کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کا مستبقل ہیں اوران کی ترقی کیلئے والدین،اساتذہ اور حکومتیں اپنے وسائل اور توانائی صرف کر تی ہیں۔

انہوں نے کہا موسم کی بدلتی ہوئی صورتحال پاکستان کو بہت متاثر کر رہی جس کے مضر اثرات سے نمٹنے کیلئے حکومت زیادہ سے زیادہ درخت لگانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر پاکستانی کوچاہیے کہ درخت لگائے ، پانی ضائع نہ کریں اورماحول کو صاف ستھرا رکھے۔اپنے خطاب میں وائس چانسلر پروفیسر نیاز احمد اختر نے کہا کہ پاک فوج اور عوام نے بے شمار قربانیاں دے کر ملک میں امن قائم کیا۔

انہوں نے کہا کہ جدید رجحانات کو فروغ دینے اور معاشرتی مسائل کے حل کیلئے مہذب شہریوں کی پیدا کرنا اعلیٰ تعلیمی اداروں کی ذمہ داری ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اب بحران سے باہر نکل چکا ہے، نوجوان ملکی ترقی کے لئے کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں گورننس اور تعلیم سے متعلق مسائل کا سدباب کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیوں کی سطح پر انتہا پسندی کا کوئی وجود نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں امن کے قیام کیلئے اداروں کو میرٹ اور ایمانداری کو اپنانے کی ضرورت ہے۔ سلمان عابد نے کہا کہ کسی بھی بیانیہ کو فروغ دینے کیلئے اداروں کا کردار قابل ستائش ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں ایک دوسرے کے نقطہ نظر سے اتفاق کرکے اختلافات کو کم کرنے کیلئے اقدامات کرنے چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ برداشت کے کلچر کو فروغ دے کر بھائی چارے کی فضاء قائم کر کے دوسروں کے خلاف پائی جانے والی غلط فہمیوں کو ختم کیا جا سکتا ہے ۔

ڈاکٹر ساجد رشید احمد نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی امن کی سفیر اور داعی ہے اور امن و برداشت کے کلچر کے بارے میں آگاہی فراہم کرنے میں ہمارے طلبہ اپنا کردار ادا کرر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو صلاحیتوں میں اضافہ کیلئے ہم نصابی سرگرمیوں کے ذرائع فراہم کئے جا رہے ہیں تاکہ وہ اپنی توانائیاں مثبت اندازمیںگزار سکیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی ایک امن پسند قوم ہے اور اس تاثر کو اجاگر کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اگلے چھ ماہ کیلئے ایسا جامع پرگرام ترتیب دیا گیا ہے جو طلبہ کی ہم نصابی سرگرمیوں کے ذریعے امن کو فروغ دینے کی کوششوں میں حوصلہ افزائی کرے گا۔ شکیل جاذب نے کہا کہ انتہاپسندی کی حوصلہ شکنی کیلئے حکومت اور معاشرے کو مل کر کام کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی تہذیب سے جڑے رہنے اور اپنی غلطیوں کو سدھارنے کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے ۔ بعد ازاں معزز مہمانوں کو یادگاری تحائف پیش کئے گئے۔