آج ”ڈومور“کہنے والےہم سے مدد مانگ رہے ہیں، عمران خان

شروع سے کہتا رہا کہ ہمیں ڈومورنہیں کرنا چاہیے، کبھی کسی کی جنگ نہیں لڑیں گے، ہم سب امن چاہتے ہیں اور اپنا بھرپوردفاع کرسکتے ہیں، بحرانوں سے نکلنے کیلئے ریاست مدینہ کے اصولوں کی پیروی ضروری ہے۔ وزیراعظم عمران خان کا تقریب سے خطاب

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعہ دسمبر 16:53

آج ”ڈومور“کہنے والےہم سے مدد مانگ رہے ہیں، عمران خان
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔07 دسمبر 2018ء) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ آج ”ڈومور“کہنے والے مدد مانگ رہے ہیں، شروع سے کہتا رہا کہ ہمیں ڈومور نہیں کرنا چاہیے، کبھی کسی کی جنگ نہیں لڑیں گے،ہم سب امن چاہتے ہیں اور اپنا بھرپور دفاع کرسکتے ہیں، بحرانوں سے نکلنے کیلئے ریاست مدینہ کے اصولوں کی پیروی ضروری ہے، قوم نظریے سے ہوتی ہے نظریہ مر جائے توقوم بھی مرجاتی ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے طلباء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قوم نظریے سے ہوتی ہے نظریہ مر جائے توقوم بھی مرجاتی ہے۔قائد اعظم ہمارے سیاسی لیڈر اور علامہ اقبال ہمارے نظریاتی لیڈر تھے۔قائد اعظم نے ہندوستان میں مسلم اور ہندوکمیونٹی کو متحد کرنے کی کوشش بھی کی۔ لیکن قائداعظم دلبرداشتہ ہوکرباہر چلے گئے۔

(جاری ہے)

قائداعظم نے محسوس کیا کہ مسلمانوں کوایک الگ ملک چاہیے تو وہ علامہ اقبال کے کہنے پر واپس آگئے۔

قائداعظم نے کانگریس کے لیڈروں کا ڈٹ کرمقابلہ کیا۔بھارت میں آج 20کروڑ مسلمانوں کا کوئی لیڈر نہیں ہے۔بھارت میں مسلمانوں کو ہندوؤں کی طرح مساوی حقوق حاصل نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ صحیح معنوں میں ریاست کیا ہوتی ہے ؟ تو ریاست وہ ہوتی ہے جیسے مدینہ کی رہاست تھی۔مدینہ کی ریاست کی بنیاد نبی پاک ﷺ نے رکھی۔آپ ﷺ صرف اللہ کے پیغمبر نہیں بلکہ دنیا کے لیڈر بھی تھے۔

جس طرح ہمارے نبی ﷺ کا تاریخ میں ذکر ہے اس طرح باقی پیغمبرو ں کا ذکر نہیں ہے۔ہم نے ریاست مدینہ کو اس لیے بھی فالو کرنا ہے کہ اللہ نے ہمیں کہا نبی پاک ﷺ کے اصولوں پر چلنا ہے۔ریاست مدینہ میں سب سے بڑا اصول عدل اور انصاف تھا۔مدینہ کی ریاست جمہوری ریاست تھی۔ ہماری ممالک نے ریاست مدینہ کے اصولوں کوفالو نہیں کیا۔جس سے مسلمان پیچھے چلے گئے۔

جبکہ مغرب والوں نے نچلے طبقات کواوپراٹھا دیا۔ ہم جمہوریت سے شروع ہوئے اور بادشاہت کی طرف چلے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے پسماندہ علاقوں کو اوپر اٹھانا ہے۔ خواتین کیلئے قانون سازی کریں گے جس میں ان کوجائیداد میں حصہ ملے گا۔نبی پاک ﷺ نے 625ھ میں رومن بادشاہ کو خط لکھا کہ ہم آپ کو اللہ کا پیغام دے رہے ہیں۔ ذرا سوچیں چھوٹی سی ریاست اور اتنی خودداری؟ ہمیں بھی انہی اصولوں پر چلنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے لیڈروں نے آج خود تاثر دیا کہ ہم نے سپر پاور کی جنگ نہ لڑی توملک تباہ ہوجائے گا۔ہم کبھی کسی کی جنگ نہیں لڑیں گے۔ ہم سب سے امن چاہتے ہیں۔ افغانستان میں ہمیں کہا گیا کہ ڈومور، ہماری جنگ لڑو۔ ہمیں ڈومور کہنے والے آج ہم سے افغانستان میں مدد مانگ رہے ہیں۔ شروع سے کہتا رہا کہ ہمیں ڈومور نہیں کرنا چاہیے۔ میں نے ہمیشہ کہا کہ افغانستان میں جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔اللہ نے پاکستان کوبہت سی نعمتوں سے نوازا ہے۔ ہم سب امن چاہتے ہیں اور اپنا بھرپور دفاع کرسکتے ہیں۔