احسن اقبال کی وزیراعظم کے قائداعظم سے متعلق بیان پرتنقید

قائد اعظم بڑے وکیل تھے اور بادشاہ کی طرح رہتے تھے، وزیراعظم عمران خان کا خطاب، آج زندہ ہوتے توشاید نئے پاکستان میں اثاثوں کی انکوائری بھگت رہے ہوتے۔مرکزی رہنماء ن لیگ احسن اقبال کا ردعمل

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعہ دسمبر 17:09

احسن اقبال کی وزیراعظم کے قائداعظم سے متعلق بیان پرتنقید
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔07 دسمبر 2018ء) پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنماء احسن اقبال نے وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ قائد اعظم آج زندہ ہوتے توشاید نئے پاکستان میں اثاثوں کی انکوائری بھگت رہے ہوتے۔انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر وزیراعظم عمران خان کے بلوچستان کے طلباء سے خطاب کے دوران بانی پاکستان قائداعظم سے متعلق بیان پر اپنے ردعمل میں کہا کہ آج زندہ ہوتے توشاید نئے پاکستان میں اثاثوں کی انکوائری بھگت رہے ہوتے۔

عمران خان نے خطاب کے دوران کہا تھا کہ قائد اعظم بڑے وکیل تھے اور بادشاہ کی طرح رہتے تھے۔
جس پر احسن اقبال نے اپنے ردعمل میں کہا کہ آج زندہ ہوتے توشاید نئے پاکستان میں اثاثوں کی انکوائری بھگت رہے ہوتے۔

(جاری ہے)

واضح رہے وزیراعظم عمران خان نے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے طلباء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قوم نظریے سے ہوتی ہے نظریہ مر جائے توقوم بھی مرجاتی ہے۔

قائد اعظم بڑے وکیل تھے اور بادشاہ کی طرح رہتے تھے۔ قائد اعظم ہمارے سیاسی لیڈر اور علامہ اقبال ہمارے نظریاتی لیڈر تھے۔ قائد اعظم نے ہندوستان میں مسلم اور ہندوکمیونٹی کو متحد کرنے کی کوشش بھی کی۔ لیکن قائداعظم دلبرداشتہ ہوکرباہر چلے گئے۔ قائداعظم نے محسوس کیا کہ مسلمانوں کوایک الگ ملک چاہیے تو وہ علامہ اقبال کے کہنے پر واپس آگئے۔

قائداعظم نے کانگریس کے لیڈروں کا ڈٹ کرمقابلہ کیا۔ بھارت میں آج 20 کروڑ مسلمانوں کا کوئی لیڈر نہیں ہے۔بھارت میں مسلمانوں کو ہندوؤں کی طرح مساوی حقوق حاصل نہیں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ریاست مدینہ کو اس لیے بھی فالو کرنا ہے کہ اللہ نے ہمیں کہا نبی پاک ﷺ کے اصولوں پر چلنا ہے۔ریاست مدینہ میں سب سے بڑا اصول عدل اور انصاف تھا۔مدینہ کی ریاست جمہوری ریاست تھی۔ ہماری ممالک نے ریاست مدینہ کے اصولوں کوفالو نہیں کیا۔جس سے مسلمان پیچھے چلے گئے۔جبکہ مغرب والوں نے نچلے طبقات کواوپراٹھا دیا۔ ہم جمہوریت سے شروع ہوئے اور بادشاہت کی طرف چلے گئے۔