وزیراعظم عمران خان نے اپنے کھلاڑیوں کا احتساب بھی شروع کر دیا

پیر کووزیراعظم فرداََ فرداََ ہر وزیر،مشیر اور معاون خصوصی کی گارگردگی کا جائزہ لیں گے، پر وزارت اور ڈویژن کو بریفنگ کے لیے دس منٹ دئیے جائیں گے ،5 منٹ سوالات اور جوابات کے لیے رکھے جائیں گے

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان جمعہ دسمبر 17:30

وزیراعظم عمران خان نے اپنے کھلاڑیوں کا احتساب بھی شروع کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 دسمبر2018ء) وزیراعظم عمران خان نے اپنے کھلاڑیوں کا احتساب بھی شروع کر دیا۔وفاقی کابینہ کے پیر کو طلب کیے گئے اجلاس میں وزارتوں اور ڈویژنوں کی کارگردگی پر بریفنگ لی جائے گی۔پر وزارت اور ڈویژن کو بریفنگ کے لیے دس منٹ دئیے جائیں گے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت کے100 دن میں کسی وزیر اور مشیر نے کیا کارگردگی دکھائی؟ وزیراعظم عمران خان نے کابینہ کا خصوصی اجلاس پیر کی صبح ساڑھے دس بجے وزیراعظم آفس اسلام آباد میں طلب کیا ہے۔

اجلاس میں وزارتوں اور ڈیژنوں کو اپنی کارگردگی دکھانے کا موقع دیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم فرداََ فرداََ ہر وزیر،مشیر اور معاون خصوصی کی گارگردگی کا جائزہ لیں گے۔پر وزارت اور ڈویژن کو بریفنگ کے لیے دس منٹ دئیے جائیں گے اور بریفنگ کے بعد 5 منٹ سوالات اور جوابات کے لیے رکھے جائیں گے۔

(جاری ہے)

مخلتف وزارتوں اور ڈویژنوں کی کارگردگی رپورٹ 27 نومبر کو وزیراعظم کو جمع کروائی گئیں تھیں۔

واضح رہے وزیراعظم عمران خان نے وزراءکی پہلے سو دنوں کی کارگردگی قوم کے سامنے لانے کا فیصلہ کرتے ہوئے وزارتوں کو پہلے مرحلے کی کارگردگی کی رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کی تھی۔جب کہ عمران خان پہلے بھی اس بات کا اعلان کر چکے ہیں کہ اگر کوئی وزیر کام نہیں کر رہا تو وہ کرپشن کے ضمرے میں آ رہا ہے۔کہ وزراء کی کاگردگی کو باقاعدہ اعداد و شمار کے لحاظ سے دیکھا گیا جس کے مطابق تین وزاتوں کی کارگردگی بہتر رہی۔

جن میں وزارت داخلہ،وزارت خزانہ اور وازرت اطلاعات شامل ہیں۔جس میں وزارت داخلہ کی کارگردگی 43 فیصد،وزارت خزانہ 13 فیصد اور وزیر اطلاعات کی گارگردگی 11 فیصد رہی۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کیا ان تین وزاتوں کے علاوہ کسی کے پاس کارگردگی دکھانے کو کچھ ہے؟۔ وزیراعظم نے کئی وزراء کی کارگردگی پر تحفظات کا اظہار کیا۔ عمران خان نے کہا کہ تین ماہ بعد میں ایک بار پھر سے رپورٹ چیک کروں گا اور کارگردگی نہ دکھانے والوں کو اپنے عہدے سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔