میرے جانے کے بعد ڈیمز تحریک کو بند نہ ہونے دیا جائے ،ْچیف جسٹس

عملدرآمد کب اور کیسے ہوگا تفصیلات بتائیں، ان پڑھ آدمی بھی کہتا ہے کہ ڈیم ضروری ہے، ڈیم مہم پاکستان کیلئے گیم چینجر ہے ،ْ ریمارکس

جمعہ دسمبر 18:55

میرے جانے کے بعد ڈیمز تحریک کو بند نہ ہونے دیا جائے ،ْچیف جسٹس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 دسمبر2018ء) چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے ہیں کہ میرے جانے کے بعد ڈیمز تحریک کو بند نہ ہونے دیا جائے۔ جمعہ کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے واٹر سمپوزیم کی سفارشات پر عملدرآمد سے متعلق کیس کی سماعت کی۔سماعت کے دوران سیکرٹری آبی وسائل نے بتایا کہ سمپوزیم کی سفارشات پر عملدرآمد کیلئے اعلیٰ سطح کمیٹی تشکیل دی، وزیر اعظم عمران خان کمیٹی کے سربراہ جبکہ وزیر اعلیٰ اور متعلقہ حکام رکن ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سمپوزیم کی سفارشات کو واٹر پالیسی کے ساتھ منسلک کر رہے ہیں ،ْ چاروں صوبوں سے پانی سے متعلق منصوبہ بندی مانگی ہے۔سیکرٹری آبی وسائل نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ڈیم کے لیے وہ کام کر دکھایا جو صوبوں سے نہیں ہوسکتا تھا، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اصل معاملہ تو فنڈنگ کا ہے۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس نے کہا کہ عملدرآمد کب اور کیسے ہوگا تفصیلات بتائیں، ان پڑھ آدمی بھی کہتا ہے کہ ڈیم ضروری ہے، ڈیم مہم پاکستان کیلئے گیم چینجر ہے۔

اس پر سیکرٹری آبی وسائل نے بتایا کہ سمپوزیم کی سفارشات پر حکومت ہر صورت عمل کرے گی، جس پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ ڈیمز کے کنٹریکٹر کون ہوں گے اور ڈیمز کے لیے فنڈنگ کیسے ہوگی اور تعمیر کب شروع ہوگی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت نے ود ہولڈنگ ٹیکس کو ختم کیا ہوا ہے، اگر یہ بحال کردیں تو 36 ارب روپے سالانہ آمدنی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ پانی کی کمپنیاں ماہانہ 7 ارب لیٹر پانی زمین سے نکالتی ہیں جبکہ 3 گناہ زیادہ پانی ضائع کرتی ہیں، اس معاملے پر عدالتی حکم سے حکومتی خزانے میں 28 ارب روپے سالانہ جمع ہوں گے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ حکومت بتائے ڈیمز فنڈنگ کے لیے بانڈز بنانے کی تفصیل کیا ہے۔اس پر سیکرٹری آبی وسائل نے کہا کہ عدالتی حکم سے بہت بڑا کام ہوا ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ڈیم فنڈز کے قیام کا مقصد تحریک پیدا کرنا تھا، اس پر سیکریٹری نے جواب دیا کہ پوری قوم میں ڈیم تحریک پیدا ہوچکی ہے۔سیکرٹری کے جواب پر چیف جسٹس نے کہا کہ میرے جانے کے بعد اس تحریک کو بند نہ ہونے دیا جائے جس پر انہوں نے کہا کہ ہم اس پیغام کو بڑھانے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

آبی وسائل کے سیکرٹری نے کہا کہ سمپوزیم کی سفارشات کا جائزہ نیشنل واٹر کونسل میں لیا گیا اور 15 مارچ سے مہمند ڈیم پر ٹھیکیدار کام شروع کردیں گے جبکہ جون میں دیامر بھاشا ڈیم پر بھی تعمیراتی کام شروع ہوجائے گا۔اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان کے درمیان حدود کا تنازع حل ہوگیا ہے جس پر سیکریٹری نے بتایا کہ بعض معاملات پر ان کیمرا بریفنگ دینا چاہتا ہوں۔بعد ازاں عدالت نے سمپوزیم کی سفارشات کا معاملہ ڈیمز عمل درآمد بینچ کو بھجواتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔