(ن) لیگ اب زیادہ قوت کیساتھ سامنے آئےگی، حمزہ شہباز

حکمرانوں کی جھوٹ کی فصیلیں گررہی ہیں، سچ قوم کے سامنے آرہا ہے،(ن) لیگ کی اصل طاقت نظریاتی کارکنان ہیں، بتایا جائےکارکنان پر تشدد کس کو خوش کرنے کیلئے کیا گیا؟ مرکزی رہنماء ن لیگ حمزہ شہباز کی گفتگو

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعہ دسمبر 18:36

(ن) لیگ اب زیادہ قوت کیساتھ سامنے آئےگی، حمزہ شہباز
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔07 دسمبر 2018ء) پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز نے کہا ہے کہ (ن) لیگ اب زیادہ قوت کے ساتھ سامنے آئے گی،حکمرانوں کی جھوٹ کی فصیلیں گررہی ہیں، سچ قوم کے سامنے آرہا ہے،(ن) لیگ کی اصل طاقت نظریاتی کارکنان ہیں، نشانہ بننے والے کارکنوں کے جذبے کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ وہ آج یہاں ملاقات کرنے والے پارٹی کارکنان سے گفتگو کر رہے تھے۔

ملاقات میں حمزہ شہباز نے گزشتہ روزلاٹھی چارج کا نشانہ بننے والے کارکنوں کے جذبے کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی اصل طاقت عوام اور اس کے مخلص، پرعزم اور نظریاتی کارکنان ہیں۔ کارکن ہمارا اثاثہ ہے۔ بتایا جائے کارکنان پر تشدد کس کو خوش کرنے کیلئے کیا گیا؟ نوازشریف اور شہباز شریف کو اللہ رب العزت ایک بار پھر سرخرو کرچکا ہے۔

(جاری ہے)

اللہ تعالی کے فضل، عوام کی دعاؤں اور کارکنوں کی محنت وہمت سے پاکستان مسلم لیگ (ن) پہلے سے بھی زیادہ قوت کے ساتھ سامنے آئے گی۔ حمزہ شہباز نے کہا کہ جمہوریت کی مضبوطی کے لئے کارکنوں کی قربانیاں اور کردار ناقابل فراموش ہے۔ مشکل دور پارٹی قیادت کے ساتھ کارکنوں کے عزم، نظریاتی وابستگی اور نئی کامیابیوں کی طرف تربیت کا دور ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی کے فضل وکرم سے جھوٹ کی فصیلیں گررہی ہیں، سچ قوم کے سامنے آرہا ہے۔

واضح رہے گزشتہ روز شہباز شریف کو انتہائی سخت سکیورٹی میں سنٹرل جیل منتقل کر دیا گیا۔احتساب عدالت میں پیشی کے دوران وکلا ء کی ایک بڑی تعداد بھی موجود تھی جنہیں کمرہ عدالت میں جانے سے روکا گیا جس پر پولیس اور وکلا ء میں تکرار ہوئی اور وکلا ء نے کمرہ عدالت کے باہر نعرے بازی کی۔اس موقع پر شہباز شریف نے کمرہ عدالت کی کھڑکی سے ہاتھ جوڑ کر وکلا ء کو خاموش رہنے کی ہدایت کی۔

مسلم لیگ (ن) کی قیادت کی ہدایت پر لیگی اراکین اسمبلی ، رہنمائوں اور کارکنوں کی ایک بڑی تعداد بھی اظہار یکجہتی کیلئے پہنچے تاہم پولیس کی طرف سے رکاوٹیں کھڑی ہونے کے باعث کارکن احتساب عدالت کے قریب یا احاطہ عدالت میں نہ پہنچ سکے ۔ اس موقع پر کارکنوں کی جانب سے آگے بڑھنے کی کوشش میں پولیس اہلکاروں کے درمیان دھکم پیل بھی ہوئی ۔

لیگی کارکنوں کی جانب سے رکاوٹیں ہٹانے کی کوشش پرپولیس کی جانب سے لاٹھی چارج کیا گیا جس سے دو کارکن زخمی ہو گئے ۔پولیس نے ہنگامہ آرائی کرنے والے متعددکارکنوں کو حراست میں لے لیا جنہیں بعد ازاں چھوڑ دیا گیا۔مسلم لیگ (ن) کے صدر پرویز ملک نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے خواتین سمیت کارکنوں پر تشدد کیا ،تین کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ متعدد لا پتہ ہیں۔

شہباز شریف کی پیشی کے موقع پر پولیس کی جانب سے لوئر مال روڈ کی دونوں سڑکوں کو ایم اے او کالج سے پی ایم جی چوک تک کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا۔جبکہ جوڈیشل کمپلیکس جانے والے تمام راستوں اور گلیوں میں پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی ۔سماعت کے ختم ہونے اور شہبازشریف کو واپس لے جانے تک پولیس اور اینٹی رائٹ دستوں نے سیکرٹریٹ چوک میں لوہے کی مضبوط جالیوں کی حفاظتی دیوار قائم رکھی ۔سڑکوں اور راستوں کی بندش سے سکول ،کالجز اور دفاتر جانے والے طلبہ اور سرکاری اور نجی ملازمین کو بھی شدید مشکلات کا سامنا رہا۔پولیس کی جانب سے جوڈیشل کمپلیکس کے اطراف میں قائم دکانیں، ورکشاپس اورر پٹرول پمپس بھی بند کروا دیئے گئے۔