کرپشن قومی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، انسداد بدعنوانی کے ادارے مالیاتی بے قاعدگیوں کی روک تھام کو یقینی بنائیں تاکہ عوام دوست نئے پاکستان کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا جا سکے،مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں استحصال سے زیادہ کرپشن کا ہاتھ تھا، امید ہے نئے پاکستان کا نظریہ کامیابی سے ہمکنار ہو گا

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا ’’ہمارا ایمان کرپشن سے فری پاکستان‘‘ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب نیب تحقیقات کے عمل میں کسی سے کوئی ڈکٹیٹیشن نہیں لے گا، نیب صرف تحقیقات کرتی ہے ، کسی پارٹی یا گروپ کو نشانہ بنانا یا اس کی حمایت کرنا مقصد نہیں، یہ کوئی مغلیہ سلطنت نہیں، نیب کو کسی بھی بدعنوانی کی تحقیقات کے لئے کسی بھی شخص سے پوچھنے کا قانونی حق ہے،نیب کی سزائوں کی شرح 70 فیصد بڑھ چکی ہے چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کا ایوان صدر میں سیمینار سے خطاب

اتوار دسمبر 18:30

اسلام آباد۔ 9 دسمبر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 دسمبر2018ء) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کرپشن کو قومی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے بدعنوانی کے انسداد کے لئے قائم اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ مالیاتی بے قاعدگیوں کی روک تھام کو یقینی بنائے تاکہ عوام دوست نئے پاکستان کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا جا سکے۔ یہ بات انہوں نے اتوار کو یہاں ایوان صدر میں ’’ہمارا ایمان کرپشن سے فری پاکستان‘‘ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

سیمینار کا انعقاد قومی احتساب بیورو (نیب) نے انسداد بدعنوانی کے عالمی دن کے موقع پر کیا تھا۔ صدر مملکت نے کہا کہ کرپشن سے پاک ملک کا ایجنڈا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس موقع پر چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال، پراسیکوٹر جنرل احتساب اصغر حیدر، منشیات اور جرائم کے انسداد کے لئے اقوام متحدہ کے ادارہ کے کنٹری نمائندہ سیزر گودیس اور ملک بھر سے احتساب افسران بھی موجود تھے۔

(جاری ہے)

صدرمملکت ڈاکٹرعارف علوی نے کہا کہ بدعنوانی پرقابو پائے بغیر پاکستان ترقی کے منازل طے نہیں کرسکتا، پاکستان کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ کرپشن ہے، مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں استحصال سے زیادہ کرپشن کا ہاتھ تھا۔ صدر مملکت نے کہاکہ ملک سے کرپشن کے خاتمے کے طویل جدوجہد میں ان کا بھی کرداررہاہے ۔ صدرمملکت نے کہاکہ طویل عرصہ تک لوگوں میں کرپشن کے حوالے سے حساسیت پیدانہیں ہورہی تھی، مجھے خوشی ہے کہ کرپشن کے خاتمے کی طویل جدوجہد میں میرا بھی ایک کرداررہا ہے۔

صدر نے کہاکہ بدعنوانی تھی، ہے اورمستقبل میں بھی ہوگی ، حکومت اورادارے کرپشن کم کرسکتے ہیں لیکن اس پر مکمل طورپرقابوپانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ خداخوفی اوراحساس ذمہ داری ایسی خصوصیات ہیں جو کرپشن کے خاتمے میں کلیدی کرداراداکرسکتے ہیں، خداخوفی اوراحساس ذمہ داری اگر صحیح معنوں میں ہوں تو کسی قانون اورعدالت کی ضرورت نہیں رہتی۔

صدر نے کہاکہ حکومت اورحکمران کوسچا اورامانت دارہونا چاہئیے۔ انہوں نے کہاکہ اگر قانون ہوں اوراس پرعمل درآمد نہ ہو تو اس قانون کی حیثیت کاغذ کے ٹکڑے کے سوا کچھ نہیں ہوتی۔ صدر نے کہا کہ کوئی بھی معاشرہ بدعنوانی سے پاک ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتا کیونکہ کرپشن مختلف سطح پر موجود ہوتی ہے۔ صدر نے کہا کہ قانون کی حکمرانی نہ ہونے کی وجہ سے معاشرے پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، غیر جانبداری، اہلیت اور حکمت بدعنوانی کے خاتمے میں اہم ہیں۔

صدر مملکت نے کہا کہ کسی کے اثاثوں کی بنیاد پر تحقیقات نہ صرف اسلامی بلکہ دنیا بھر میں مروجہ اصول ہیں، دنیا میں وائٹ کالر جرائم کے خلاف تحقیقات عمومی طریقہ کار ہوتا ہے۔ صدر نے کہا کہ قانون کے عدم نفاذ کی وجہ سے بدعنوانی اور لاقانونیت پھیلتی ہے، صدر نے طاقتور قومی احتساب بیورو کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے زور دیا کہ نیب کے ادارے کو پراسیکیوشن اور سزائوں میں اضافے کے لئے کام کرنا ہو گا۔

صدر نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں بدعنوان لوگوں کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا، مجھے امید ہے کہ ادارے کرپٹ عناصر کے خلاف اقدامات کریں گے تو ملک میں نمایاں تبدیلی آئے گی، بدقسمتی سے لوگوں نے پاکستان سے اربوں ڈالر لوٹے اور ان کی منی لانڈرنگ کی جبکہ ملک کی گلیوں میں بچے بھیک مانگتے ہیں جبکہ حکومت ملکی معیشت کی سانسیں چلانے کے لئے فنڈز جمع کرنے کی کوششوں میں لگی ہوتی ہے۔

صدر نے امید ظاہر کی کہ نئے پاکستان کا نظریہ کامیابی سے ہمکنار ہو گا جہاں پر غریبوں کو اپنے بچوں اور خاندان کی تعلیم اور صحت کے حوالے سے تشویش نہیں ہو گی اور انہیں روزگار کے یکساں مواقع دستیاب ہوں گے۔ قبل ازیں صدر نے یادگاری ڈاک ٹکٹ اور پچاس روپے کے سکے کا اجراء کیا جن پر انسداد بدعنوانی کے حوالے سے پیغامات درج تھے۔ صدر نے نیب کے بہترین افسران میں توصیفی سرٹیفکیٹس اور مہمان مقررین میں یادگاری شیلڈز تقسیم کیں۔

چیئرمین نیب نے بھی صدر مملکت کو یادگاری شیلڈ پیش کی۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاویداقبال نے ادارے کی کارکردگی کو اجاگر کیا اور اپنے دور میں اٹھائے گئے اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ نیب کو اس کے انسداد بدعنوانی کے کردار کی وجہ سے ہمیشہ ناپسند کیا گیا جس نے دنیا میں ملک کی درجہ بندی میں قابل ذکر بہتری لائی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر شخص بدعنوانی کا خاتمہ چاہتا ہے لیکن کہتا ہے کہ اس سے کوئی سوال نہ پوچھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو بدعنوانی سے پاک کرنے کے لئے نیب نے شخصیت کے بجائے کیس کو دیکھنے کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔ تاہم انہوں نے ماضی کے برعکس موجودہ حکومت کے نیب کی خود مختاری میں کردار کا اعتراف کیا ۔ چیئرمین نیب نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ ان کا ادارہ تحقیقات کے عمل میں کسی سے کوئی ڈکٹیٹیشن نہیں لے گا۔

انہوں نے کہا کہ نیب نے صرف تحقیقات کرتی ہے اور اس کا کام کسی پارٹی یا گروپ کو نشانہ بنانا یا اس کی حمایت کرنا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ حکومت یا موجودہ حکومت کے کسی لین دین کی اگر کوئی تحقیقات ہوتی ہیں تو اس پر کسی کو شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر نیب یہ سوال پوچھ رہی ہے کہ 95 ارب ڈالر کہاں خرچ ہوئی جبکہ ہسپتالوں، سکولوں اور کالجوں کی حالت اس کے برعکس ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ کوئی مغلیہ سلطنت نہیں ہے، نیب کو کسی بھی بدعنوانی کی تحقیقات کے لئے کسی بھی شخص سے پوچھنے کا قانونی حق ہے۔ چیئرمین نیب نے پاکستان میں عام آدمی کی زندگی کا ان لوگوں کی زندگی سے موازنہ پیش کیا جن کا ڈرامائی انداز میں طرز زندگی تبدیل ہو جاتا ہے اور ایک موٹرسائیکل سے وہ دبئی میں جائیدادیں خرید لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی پراپیگنڈا نیب کو ذمہ داریوں کی انجام دہی کے عزم سے متزلزل نہیں کر سکتا ۔

انہوں نے اس تاثر کو زائل کیا کہ نیب کی کارروائیوں کی وجہ سے بیوروکریسی یا کاروباری برادری کے مابین کوئی خوف ہے۔ تاہم انہوں نے بیورو کریٹس کو تلقین کی کہ قانون کی پاسداری کریں اور شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار نہ بنیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب کی سزائوں کی شرح 70 فیصد بڑھ چکی ہے اور یہ ادارہ کے لئے کوئی معنی نہیں رکھتی کہ جس کے خلاف تحقیقات ہو رہی ہوں، وہ سابق وزیراعظم یا کوئی بھی ہو۔

نیب کی موثر پراسیکیوشن کے باعث احتساب عدالت کی طرف سے مضاربہ کیس میں 10 ارب روپے کے ریکارڈ جرمانے عائد کئے جانے کے حوالے سے چیئرمین نے کہا کہ ادارے نے گزشتہ برس 13.64 ارب روپے برآمد بھی کئے اور متاثرہ فریقین کو ادا بھی کئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ یو این او ڈی سی کے کنٹری نمائندے نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا پیغام پڑھ کر سنایا اور کہا عالمی جی ڈی پی کا 5 فیصد یا 2.7 ٹریلین ڈالر سالانہ بدعنوانی کی نظر ہو جاتا ہے۔

انہوں نے شفافیت کے فروغ اور چوری شدہ اثاثوں کی برآمدگی کے لئے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیسجلیٹو ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپرنسی (پلڈاٹ) کے صدر احمد بلال محبوب نے نیب کی کوششوں کی تعریف کی اور کہا کہ نیب کی کارروائیوں سے غیر جانبداری ظاہر ہوتی ہے۔ انہوں نے بدعنوانی کے خاتمہ کے لئے کارروائیاں جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ احتسابی عل کی آج بہت زیادہ اہمیت ہے جس سے نیب کی ذمہ داریاں بھی کئی گنا بڑھ گئی ہیں۔