چاوموس تہوارکو اس سال جوش و خروش سے منانے کیلئے تمام تراقدامات کئے جائیں گے،محمدعاطف خان

اتوار دسمبر 18:50

پشاور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 دسمبر2018ء) خیبر پختونخوا کے سینئر وزیر برائے سیاحت ، ثقافت ، آثارقدیمہ ، کھیل و امورنوجوانان محمد عاطف خان نے کیلاش قبیلے کی تہوار چاوموس کیلئے محکمہ سیاحت کے حکام کو تمام تر سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ چاوموس تہوارکو اس سال جوش و خروش سے منانے کیلئے تمام تراقدامات کئے جائیں گے ۔

یہ ہدایت انہوں نے کیلاش قبیلے کی تہوار چاوموس کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دی ۔ چترال سے تعلق رکھنے والے ممبر صوبائی اسمبلی وزیر زادہ ، ایڈیشنل سیکرٹری سیاحت بابر خان ، منیجنگ ڈائریکٹر برائے سیاحت مشتاق احمد ، جنرل منیجر محکمہ سیاحت سید علی شاہ اور ڈائریکٹر آرکیالوجی ڈاکٹر صمد خان بھی اجلاس میں شریک تھے ۔

(جاری ہے)

سینئر وزیر نے اس موقع پر کہا کہ چترال کے وادیوں رمبور ، بریر اور بمبوریت میں آباد کیلاش قبیلہ اپنی ایک منفرد ثقافت اور طرز زندگی رکھتی ہے ، ان کی ثقافت کو زندہ رکھنے اور فروغ دینے کے لئے حکومت ہر ممکن کوشش کر رہی ہے ۔

انہو ںنے محکمہ سیاحت کے حکام کو ہدایت کی کہ کیلاش قبیلے کی جاری تہوار چاوموس کے لئے فول پروف سکیورٹی اور لائٹنگ سمیت تمام تر انتظامات یقینی بنایا جائے تاکہ قبیلے کے لوگ جوش و خروش سے تہوار منا سکیں ۔ سینئر وزیر نے کہا کہ موجودہ حکومت سیاحت کے فروغ کے لئے سنجیدہ اقدامات اٹھا رہی ہے اور سیاحت کے فروغ میں چترال او رکیلاش قبیلہ اپنی منفرد ثقافت اور طرز زندگی کیوجہ سے اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ حکومت نے چترال میں سیاحت کو فروغ دینے اور کیلاش کی ثقافت کو اجاگر کرنے کے لئے 56کروڑ روپے پیکج کا اعلان کیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ کیلاش قبیلے کی تہوار دیکھنے کے لئے ملکی اور غیر ملکی سیاح بڑی تعداد میں چترال کا رخ کرتے ہیں جس سے نہ صرف سیاحت کے فروغ میں مدد مل رہی ہے بلکہ صوبے کی ایک مثبت رخ بھی دنیا کے سامنے آتی ہے ۔ سینئر وزیر نے کہا کہ کیلاش قبیلے کی تاریخ اور ثقافت کو زندگہ رکھنے کے لئے حکومت عملی اقدامات اٹھا رہی ہے اور اس ضمن میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے جو کیلاش کی ثقافت کو محفوظ بنانے کے حوالے سے ایک مہینے کے اندر سفارشات پیش کرے گی ۔ اس کے علاوہ رمبور، بمبوریت اور بریر میں نئے تعمیرات پر مکمل پابندی لگائی گئی ہے تاکہ کیلاش کے ثقافتی ورثے کو محفوظ بنایا جا سکے۔