اٹک کے نواحی علاقہ میں نوسربازی کا بڑ اسکینڈل سامنے آ گیا، شہریوں کی25کروڑ روپے ڈوب گئے

3سگے بھائی، ضیاء عباس، شفقت نواز اور ضیغم عباس نے عوامی ویلفیئر سنٹر کے نام پر لوگوں سے رقم لیکرماہانہ منا فع دینے کا لالچ دیا ، تقریباً 25کروڑ روپے جمع ہونے پر رفو چکر ہو گئے ، متاثرین کی پریس کانفرنس

اتوار دسمبر 19:00

اٹک۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 دسمبر2018ء) اٹک کے نواحی علاقے شین باغ میں عوامی ویلفیئر سنٹر کے نام پر نوسرباز لوگوں کو تقریباً 25کروڑ روپے سے محروم کر گئے، متاثرین میں بیوہ خواتین ، یتیم اور غریب لوگ شامل ہیں جنہیں ان کی عمر بھر کی کمائی سے محروم کر دیا گیا․ نوسربازوں کے گروہ میں تین سگے بھائی شامل ہیں موضع شین باغ میں متاثرین نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ 3سگے بھائی، ضیاء عباس، شفقت نواز اور ضیغم عباس نے کچھ عرصہ قبل عوامی ویلفیئر سنٹر کے نام پر لوگوں سے ایک لاکھ روپے وصول کر کے 8ہزار روپے ماہانہ ادا کرنے شروع کیی․ کچھ عرصہ تک ماہانہ اقساط ادا کی جاتی رہیں ․ دن بدن لوگوں کا اعتماد بڑھتا گیا اور لگ بھگ 7سو افراد نے اپنی تمام جمع پونجی ان کے حوالے کر دی․ نو سرباز تقریباً 25کروڑ روپے کی رقم جمع کر کے رفو چکر ہو گئی․ متاثرین نے بتایا کہ ان نو سربازوں سے متعلق متعدد بار تھانہ صدر میں پیش ہو چکے ہیں جبکہ ڈی پی او کو بھی درخواست دی تھی جس پر بھی کوئی ایکشن نہیں لیا گیا ۔

(جاری ہے)

نوسربازوں میں سے ایک بھائی سرکاری ملازم ہے اٹک میں موجود ہونے کے باوجود پولیس نے اس کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی اس موقع پرمتاثرین نے اپنی ڈوبی ہوئی رقم بھی بتائی جس میں عطا حسین 80لاکھ، سعیدحسین 68لاکھ، ضمیر حسین بخاری 28لاکھ، افضال بخاری ساڑھی4لاکھ، حبدار حیدری 22لاکھ کے علاوہ فیاض حیدری، شہزاد حسین، نیاز حسین شاہ ، اقبال بخاری، افضال شاہ سمیت متعدد بیوہ خواتین بھی شامل تھیں․ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ان نوسربازوں نے متاثرین کے جذبات کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے ایک جھوٹی ایف آئی آر درج کروائی جس میں انہوں نے اپنے گھر میں ڈیڑھ کروڑ روپے کی چوری کی داستان بتائی جس کی تفتیش کے دوران پولیس نے اسے جھوٹ قرار دیا․ متاثرین نے وزیرِ اعظم پاکستان، چیف جسٹس آف پاکستان ، وزیرِ اعلیٰ پنجاب، آئی جی پنجاب، آر پی او راولپنڈی اور ڈی پی او اٹک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نوسربازوں کے خلاف فوری کاروائی کر کے ہماری لوٹی ہوئی رقم واپس دلائی جا سکی․ تا کہ ہم اپنے بچوں کی روزی کا بندو بست کر سکیں۔