امریکہ وہی بات کہہ رہا ہے جو تحریک انصاف اورعمران خان کا مؤقف ہے ،ْشاہ محمود قریشی

افغان طالبان کو ہتھیار پھینک کر امن کا راستہ اختیار کر نا ہوگا ،ْوزیر خزانہ اسد عمر مشکل معاشی صورتحال کو بہتر کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کررہے ہیں ،ْکشمیر کے مسئلے پر پوری قوم اور تمام سیاسی جماعت متفق ہیں ،ْآئندہ برس فروری میں لندن میں مسئلہ کشمیر پر ایک اجتماع کیا جائے گا ،ْسابق بھارتی کرکٹر سدھو کے سر کی قیمت مقرر کرنا انتہائی افسوس ناک عمل ہے ،ْڈالر کی قدر میں اضافے کو موجودہ حکومت کیساتھ جوڑنے کا تاثر بالکل غلط ہے ،ْڈالر کی قدر میں اضافے کی وجوحات کو دیکھنا ہوگا ،ْوزرا کی تبدیلی صرف باتیں حقیقت نہیں ،ْوزیر خارجہ کی میڈیا سے بات چیت

اتوار دسمبر 19:10

امریکہ وہی بات کہہ رہا ہے جو تحریک انصاف اورعمران خان کا مؤقف ہے ،ْشاہ ..
ملتان(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 دسمبر2018ء) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ جب ہم نے حکومت سنبھالی تو امریکہ کیساتھ تعلقات میں تناؤ تھا اور اب امریکہ وہی بات کہہ رہا ہے جو تحریک انصاف اور عمران خان کہتے آئے ہیں ،ْ افغان طالبان کو ہتھیار پھینک کر امن کا راستہ اختیار کر نا ہوگا ،ْوزیر خزانہ اسد عمر مشکل معاشی صورتحال کو بہتر کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کررہے ہیں ،ْکشمیر کے مسئلے پر پوری قوم اور تمام سیاسی جماعت متفق ہیں ،ْآئندہ برس فروری میں لندن میں مسئلہ کشمیر پر ایک اجتماع کیا جائے گا ،ْسابق بھارتی کرکٹر سدھو کے سر کی قیمت مقرر کرنا انتہائی افسوس ناک عمل ہے ،ْڈالر کی قدر میں اضافے کو موجودہ حکومت کیساتھ جوڑنے کا تاثر بالکل غلط ہے ،ْڈالر کی قدر میں اضافے کی وجوحات کو دیکھنا ہوگا ،ْوزرا کی تبدیلی صرف باتیں حقیقت نہیں ۔

(جاری ہے)

اتوار کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ عمران خان کو طالبان خان کہا جاتا تھا ،ْآج تمام قوتیں اس بات پر متفق ہوگئی ہیں کہ مصالحتی عمل ہی بہترین راستہ ہے ،ْ افغان طالبان کو ہتھیار رکھتے ہوئے امن کا راستہ اختیار کرنا ہوگا، ہم چاہتے ہیں افغانستان میں تمام فریق مل کر بیٹھیں اور پاکستان صرف معاونت فراہم کرے گا۔معاونت سے متعلق بات کو واضح کرتے ہوئے شاہ محمود نے کہا کہ پاکستان کا معاونت کا مقصد افغانستان میں امن کا قیام ہے کیونکہ پاکستان سمجھتا ہے کہ اگر افغانستان میں امن نہیں ہوگا تو پاکستان بھی اس سے متاثر ہوگا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ امریکہ نے اپنے فیصلوں پر نظرثانی کی، افغان حکومت جو طالبان کے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں تھی وہ ماسکو میں افغان طالبان کے ساتھ بیٹھی۔انہوں نے کہا کہ جب تک افغانستان میں امن واستحکام نہیں ہوگا پاکستان بھی متاثر ہوگا۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان کہہ رہا تھا کہ افغان تنازع طاقت سے حل نہیں ہوسکتا، اگر امریکا افغانستان میں دیرپا امن دیکھنا چاہتا ہے تو وہاں موجود حکومت اور دیگر افغانیوں کے درمیان سیاسی معاہدے کرنے ہوں گے جبکہ ان کے درمیان مصالحت اور مفاہمت کی کوشش بھی کرنی ہوگی۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ معیشت کئی دہائیوں کے مسائل کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہے ،ْ اگر یہ تاثر ہے کہ معاشی مسائل تین ماہ میں پیدا ہوئے ہیں تو ایسا تاثر بالکل غلط ہے۔انہوں نے کہا کہ برآمدات بہتر ہورہی ہیں،مالی مسائل سے نکلیں گے تو روپیہ مستحکم ہوگا،یہ تاثر بالکل درست نہیں کہ سارا بگاڑ 3 ماہ میں پیدا ہوا ہے ،ْیہ کئی دہائیوں سے چلا آ رہا ہے ہم بہتری کی کوشش کر رہے ہیں ،ْ ہماری سعودی عرب، یو اے ای، چین اور ملائیشیا میں اچھی نشستیں ہوئی ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ڈالر کی قدر میں اضافے کو موجودہ حکومت کیساتھ جوڑنے کا تاثر بالکل غلط ہے تاہم ڈالر کی قدر میں اضافے کی وجوحات کو دیکھنا ہوگا۔وزیر خارجہ نے کہاکہ وزیر خزانہ اسد عمر مشکل معاشی صورتحال کو بہتر کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جی ڈی پی کا خسارہ بڑھ چکا تھا جو 6.6 فیصد تھا ،ْ اسی وجہ سے آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ کشمیر کے مسئلے پر پوری قوم اور تمام سیاسی جماعت متفق ہیں ،ْ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بھی کشمیری عوام پر کیے جانے والے مظالم کو اجاگر کیا گیا، آئندہ برس فروری میں لندن میں مسئلہ کشمیر پر ایک اجتماع کیا جائے گا۔وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے سابق بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو کے سر کی قیمت مقرر کرنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ بھارتی ریاست پنجاب کے وزیرِ بلدیات نوجوت سنگھ سدھو نے دونوں ممالک کے درمیان دوریاں ختم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کیا۔

شاہ محمود قریشی نے کہاکہ بھارت نے منظوری کے بعد ہی اپنے 2 وزرا کو کرتار پور کوریڈور کے افتتاح کی تقریب کے سلسلے میں پاکستان بھیجا تھا۔کرتار پور راہدار کے سنگ بنیاد سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیرِ خارجہ نے کہا کہ دنیا پاکستان کے کرتارپور راہدای کے فیصلے کو سراہا رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس بلا کر راہداری منصوبے کی منظوری دی گئی تھی۔بیرون ملک تجارت سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ جتنی پاکستان کی برآمدات بڑھیں گی اتنے ہی زرمبادلہ کے ذخائر بڑھیں گے اور پاکستان پر دباؤ بھی کم ہوگا، تاہم پاکستان کی برآمدات میں اضافہ ہورہا ہے۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزرا کی تبدیلی صرف باتیں حقیقت نہیں ہیں۔