جماعت اسلامی اقامت دین کی تحریک ہے ،ْ ہمارا مقصد رضائے الہیٰ کا حصول ہے ،ْسراج الحق

کراچی میں بڑی قربانیاں دی ہیں ،ْ کٹھن حالات میں بھی دعوت دین اور خدمت کا فریضہ انجام دیا ،ْ تقریب حلف برداری سے خطاب تقریب میں 10عبوری امراء اضلاع نے اپنی ذمہ داری کا حلف لیا ،ْ محمد حسین محنتی ، حافظ نعیم الرحمن نے بھی خطاب کیا

اتوار دسمبر 19:10

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 دسمبر2018ء) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سرا ج الحق نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی اقامت دین کی تحریک ہے اور ہمارا مقصد اس تحریک اور جدوجہد میں شریک ہوکر رضائے الہیٰ کا حصول ہے، کراچی منی پاکستان اور عالم اسلام کا ایک اہم اور بڑا شہر ہے ،کراچی میں جماعت اسلامی کے کارکنوں نے بڑی قربانیاں دی ہیں ، انتہائی مشکل اور کٹھن حالات میں بھی دعوت دین اور خلق خدا کی خدمت کا فریضہ انجام دیا ہے ، یہ جدوجہد جاری رہے گی ۔

ان خیالات کا اظہارانہوں نے ادارہ نورحق میں جماعت اسلامی کراچی کی تنظیمی تشکیل نو کے بعد مقرر کیے جانے والے 10عبوری امراء اضلاع کی تقریب حلف برداری کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ تقریب سے جماعت اسلامی سندھ کے امیر محمد حسین محنتی ، کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن اور سکریٹری عبد الوہاب نے بھی خطاب کیا۔

(جاری ہے)

تقریب میں ضلعی امراء محمد اسلام ، ، توفیق الدین صدیقی ،عبد الجمیل خان ، ، محمد یونس بارائی ،سیف الدین ایڈوکیٹ ، سید عبد الرشید ،محمد اسحاق خان ، محمد یوسف ،فاروق نعمت اللہ اورمنعم ظفر خان نے حلف پڑھ کر اپنی ذمہ داری کا حلف لیا ، اس موقع پر نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان اسد اللہ بھٹو و دیگر بھی موجود تھے ۔

سراج الحق نے عبوری امراء کے لیے استقامت اور کامیابی کی دعا کرتے ہوئے کہاکہ رب کریم تمام ذمہ داران کو اس عہد کے تمام تقاضوں کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ انہوں نے کہاکہ اقامت دین کا کام ایک عظیم اور مقدس کام ہے ، حضرت آدم ؑ سے لے کر نبی کریم ؐ کے زمانے تک تمام انبیاء کرام اقامت دین کا کام کرتے رہے اور آج یہ کام پوری امت پر فرض ہے کہ معاشرے میں اقامت دین کی جدوجہد کی جائے ۔

موجودہ دور میں انسان مادہ پرستی کی زندگی اور مال کمانے میں مصروف ہے لیکن غلامان رسول ؐ اور اقامت دین کے مجاہد دین کی اشاعت اور رضائے الہیٰ کے حصول میں لگے رہتے ہیں اور یہی ہمارے نبی ؐ کی شان تھی کہ جو دنیا سے بے نیاز ہوکر مخلوق کو متحد ومتفق کرنے اور دین کے غلبے کی جدوجہد کرتے رہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہماری لڑائی کسی کی ذات کے لیے یا صرف اقتدار کے لیے نہیں بلکہ اللہ کے دین کو غالب کرنے کے لیے ہے ، اللہ تعالیٰ ہماری کاوشوں اور جدوجہد کو قبول کرے یہی ہمارے لیے آخرت میں نجات اور جنت کے حصول کا ذریعہ ہے ، انہوں نے کہاکہ معاشرے میں بے شمار لوگ صلاحیت، مال و دولت اور علم کے لحاظ سے موجود ہیں ،لیکن اللہ کی مہربانی ہے کہ اس نے ہمیں اس کام کے لیے منتخب کیا ۔

انہوں نے کہاکہ ملکی اور بیرونی سطح پر چیلنجز کا مقابلہ منظم اور متحد ہو کر ہی کیا جاسکتا ہے ، آپ کی صلاحیتیں اللہ کی امانت ہیں ان کو بہتر اور خوب سے خوب تر بنایا جائے ، راتوں کو جاگ کر اللہ کے حضور مدد اور نصرت طلب کریں اور غلطیوں ، کوتاہیوں اور نفرتوں سے درگزر کرنے کی دعا کریں ۔انہوں نے کہاکہ آنے والا کل اللہ کے دین کا ہوگا اور یہ ناممکن نہیں ، اللہ کا وعدہ ہے کہ دین غالب ہوکر رہے گا ۔