مقبوضہ کشمیر ‘ بھارتی فوجیوں نے مزید تین نوجوان شہید کر دیے‘ انسانی حقوق کے عالمی دن پر مقبوضہ علاقے میں ہڑتال کی جائیگی

اتوار دسمبر 20:10

سری نگر۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 دسمبر2018ء) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوںنے اپنی ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی کے دوران سرینگر کے علاقے مجہ گنڈ میں ایک کم عمر لڑکے سمیت 3نوجوان شہید کر دیے۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق بھارتی فوج کی راشٹریہ رائفلز اور سپیشل آپریشن گروپ نے نوجوانوں کو اٹھارہ گھنٹے کی طویل محاصرے اور تلاشی کی ایک مشترکہ کارروائی کے دوران شہید کیا۔

تلاشی آپریشن گزشتہ رات شروع کیا گیا تھا۔ شہید ہونے والے کم عمر لڑکے کی شناخت ضلع بانڈی پورہ کے علاقے حاجن کے رہائشی مدثر رشید پرے کے طور پر ہوئی ہے۔ فوجیوں نے علاقے میں آپریشن کے دوران پانچ مکانات بھی گولہ باری کر کے تباہ کر دیے۔ نوجوانوں کی شہادت پر مجہ گنڈ اور اسکے ارد گرد کے علاقوں میںزبر دست مظاہرے کئے گئے ۔

(جاری ہے)

لوگوں کو مساجد کے لائوڈ سپیکروں کے ذریعے گھروں سے باہر آکر فوجی آپریشن اور نوجوانوں کی شہادت پر احتجاج کیلئے کہا جاتا رہا۔

بھارتی فورسز نے مظاہرین پر پیلٹ برسائے اور گولیا ں چلائیں جسکے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ پانچ زخمی نوجوانوں کو سرینگر کے صورہ اور ایس ایم ایچ ایس ہسپتالوں میں داخل کیا گیا۔ قبل ازیں اسی علاقے میں ایک حملے میں بھارتی فورسز کے پانچ اہلکار زخمی ہو گئے تھے ۔دریں اثناء مشترکہ حریت قیادت کی کال پر کل انسانی حقوق کے عالمی دن پر مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال کی جائے گی۔

ہڑتال کا مقصد عالمی برادری کی توجہ بھارتی فورسز کی طرف سے مقبوضہ علاقے میں جار ی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی طرف مبذول کرانا ہے۔ تحریک حریت جموںوکشمیر کے چیئرمین محمد اشرف صحرائی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میںجیلوں میں نظربند کشمیریوں کی حالت زار پر شدید تشویش کا اظہار کیاہے۔ انہوں نے کہاکہ اقوام متحدہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی طرف سے جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں روکنے میں ناکا م ہوچکی ہے۔

عوامی مجلس عمل کے کارکنوں نے سرینگر کے علاقے احمد نگر میں مشعل برداراحتجاجی مظاہرہ کیا۔ ایوان صنعت وتجارت کشمیر نے بھی انسانی حقوق کے عالمی دن کے سلسلے میں سرینگر کے پریس انکلیومیں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ کشمیر کونسل یورپی یونین نے انسانی حقو ق کے عالمی دن کے سلسلے میں برسلز میں ایک سیمینار کا انعقادکیا جس میں مقررین نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے حوالے سے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمشنر کی حالیہ رپورٹ میں اٹھائے گئے مطالبات پر عملدرا ٓمد پر زور دیا ۔

ادھر کانگریس کے سینئر رہنما اور سابق بھارتی وزیر پروفیسر سیف الدین سوز نے دولت مشترکہ کے انسانی حقوق کے ادارے کے ڈائریکٹر سنجوئی ہزاریکا کے نام ایک مراسلے میں کہا ہے کہ کالے قانون آر مڈفورسز سپیشل پاورز ایکٹ کا نفاذ جموںوکشمیر میںقتل وغارت اور تباہی کا باعث بن رہا ہے۔