چیئرمین نیب نے موجودہ حکومت کی تعریفوں کے پل باندھ دیے

موجودہ حکومت کوفری ہینڈ دینے کا کریڈٹ جاتا ہے، حکومت نے یہ نہیں کہا کہ نیب کے دانت نال دیے جائیں، ناخن تراش دیے جائیں یا حجامت کردی جائے، پہلی مرتبہ نیب کے راستے میں کسی قسم کی کوئی مزاحمت دیکھنے میں نہیں آئی۔چیئرمین نیب جسٹس (ر)جاوید اقبال کا خطاب

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ اتوار دسمبر 20:15

چیئرمین نیب نے موجودہ حکومت کی تعریفوں کے پل باندھ دیے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔09 دسمبر 2018ء) چیئرمین نیب جسٹس (ر)جاوید اقبال نے حکومت کی تعریفوں کے پل باندھ دیے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کوفری ہینڈ دینے کا کریڈٹ جاتا ہے، حکومت نے یہ نہیں کہا کہ نیب کے دانت نال دیے جائیں، ناخن تراش دیے جائیں یا حجامت کردی جائے۔ پہلی مرتبہ نیب کے راستے میں کسی قسم کی کوئی مزاحمت دیکھنے میں نہیں آئی۔

قومی احتساب بیورو (نیب) نے انسداد بدعنوانی کے عالمی دن کے موقع پرسیمینار کا انعقاد کیا۔ایوان صدر میں ’’ہمارا ایمان کرپشن سے فری پاکستان‘‘ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بھی خطاب کیا۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاویداقبال نےکہا کہ موجودہ حکومت کوکریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے مکمل تعاون کیا ، حکومت نے یہ نہیں کہا کہ نیب کے دانت نال دیے جائیں۔

(جاری ہے)

نیب کے ناخن تراش دیے جائیں ، نیب کی حجامت کردی جائے۔پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ انہوں نے نیب کو خودمختارادارہ تسلیم کیا اور اس کی حاکمیت اور آزادانہ کاروائی کے راستے میں کسی قسم کی کوئی مزاحمت دیکھنے میں نہیں آئی۔ چیئرمین نیب نے اپنے دور میں اٹھائے گئے اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ نیب کو اس کے انسداد بدعنوانی کے کردار کی وجہ سے ہمیشہ ناپسند کیا گیا جس نے دنیا میں ملک کی درجہ بندی میں قابل ذکر بہتری لائی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر شخص بدعنوانی کا خاتمہ چاہتا ہے لیکن کہتا ہے کہ اس سے کوئی سوال نہ پوچھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو بدعنوانی سے پاک کرنے کے لئے نیب نے شخصیت کے بجائے کیس کو دیکھنے کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔ تاہم انہوں نے ماضی کے برعکس موجودہ حکومت کے نیب کی خود مختاری میں کردار کا اعتراف کیا ۔ چیئرمین نیب نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ ان کا ادارہ تحقیقات کے عمل میں کسی سے کوئی ڈکٹیٹیشن نہیں لے گا۔

انہوں نے کہا کہ نیب نے صرف تحقیقات کرتی ہے اور اس کا کام کسی پارٹی یا گروپ کو نشانہ بنانا یا اس کی حمایت کرنا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ حکومت یا موجودہ حکومت کے کسی لین دین کی اگر کوئی تحقیقات ہوتی ہیں تو اس پر کسی کو شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر نیب یہ سوال پوچھ رہی ہے کہ 95 ارب ڈالر کہاں خرچ ہوئی جبکہ ہسپتالوں، سکولوں اور کالجوں کی حالت اس کے برعکس ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ کوئی مغلیہ سلطنت نہیں ہے، نیب کو کسی بھی بدعنوانی کی تحقیقات کے لئے کسی بھی شخص سے پوچھنے کا قانونی حق ہے۔ چیئرمین نیب نے پاکستان میں عام آدمی کی زندگی کا ان لوگوں کی زندگی سے موازنہ پیش کیا جن کا ڈرامائی انداز میں طرز زندگی تبدیل ہو جاتا ہے اور ایک موٹرسائیکل سے وہ دبئی میں جائیدادیں خرید لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی پراپیگنڈا نیب کو ذمہ داریوں کی انجام دہی کے عزم سے متزلزل نہیں کر سکتا ۔

انہوں نے اس تاثر کو زائل کیا کہ نیب کی کارروائیوں کی وجہ سے بیوروکریسی یا کاروباری برادری کے مابین کوئی خوف ہے۔ تاہم انہوں نے بیورو کریٹس کو تلقین کی کہ قانون کی پاسداری کریں اور شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار نہ بنیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب کی سزائوں کی شرح 70 فیصد بڑھ چکی ہے اور یہ ادارہ کے لئے کوئی معنی نہیں رکھتی کہ جس کے خلاف تحقیقات ہو رہی ہوں، وہ سابق وزیراعظم یا کوئی بھی ہو۔

نیب کی موثر پراسیکیوشن کے باعث احتساب عدالت کی طرف سے مضاربہ کیس میں 10 ارب روپے کے ریکارڈ جرمانے عائد کئے جانے کے حوالے سے چیئرمین نے کہا کہ ادارے نے گزشتہ برس 13.64 ارب روپے برآمد بھی کئے اور متاثرہ فریقین کو ادا بھی کئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ یو این او ڈی سی کے کنٹری نمائندے نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا پیغام پڑھ کر سنایا اور کہا عالمی جی ڈی پی کا 5 فیصد یا 2.7 ٹریلین ڈالر سالانہ بدعنوانی کی نظر ہو جاتا ہے۔

انہوں نے شفافیت کے فروغ اور چوری شدہ اثاثوں کی برآمدگی کے لئے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیسجلیٹو ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپرنسی (پلڈاٹ) کے صدر احمد بلال محبوب نے نیب کی کوششوں کی تعریف کی اور کہا کہ نیب کی کارروائیوں سے غیر جانبداری ظاہر ہوتی ہے۔ انہوں نے بدعنوانی کے خاتمہ کے لئے کارروائیاں جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ احتسابی عل کی آج بہت زیادہ اہمیت ہے جس سے نیب کی ذمہ داریاں بھی کئی گنا بڑھ گئی ہیں۔