پانی کو ذخیرہ کرنے کے بروقت اقدامات وقت کی ضرورت ہیں‘ شعبہ تحفظ اراضیات پنجاب منی ڈیمز اور سمال ڈیمز کے قیام میں مصروف ہے، ڈائریکٹر شعبہ تحفظ اراضیات ملک غلام اکبر

اتوار دسمبر 20:20

راولپنڈی09دسمبر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 دسمبر2018ء) ڈائریکٹر شعبہ تحفظ اراضیات راولپنڈی ملک غلام اکبر نے کہا ہے کہ پانی کو ذخیرہ کرنے کے بروقت اقدامات وقت کی ضرورت ہیں ، پانی کے نئے ذخائر کے قیام کے بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو ملک میں پانی کا بحران شدت اختیار کرسکتا ہے ، پاکستان ان ممالک میں سے ہے جہاں دستیاب پانی کا ایک ایک قطرہ بچانا از حد ضروری ہے ، پاکستان کا پانی کی کمی کے چیلنجز کا سامنا کرنے والے ممالک میں ساتواں نمبر ہے، پاکستان میں دستیاب پانی کا 93 فیصد زرعی مقاصد جبکہ7 فیصد روزمرہ استعمال میں آتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے ایک انٹرویو میں کیا ۔ڈائریکٹر شعبہ تحفظ اراضیات محکمہ زراعت پنجاب غلام اکبر ملک نے قومی خبر ایجنسی سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ شعبہ تحفظ اراضیات محکمہ زراعت پنجاب اور پنجاب حکومت مختلف علاقوں میں منی ڈیمز اور سمال ڈیمز کے قیام کی کوششوں میں مصروف ہے اور سائل کنزرویشن پروگرام کے تحت 26,243 ایکڑ زمین قابل کاشت بنائی گئی جبکہ 26,557 ایکڑ زمین کی حفاظتی دیوار یں تعمیر کرنے کے ساتھ ساتھ 80,782 ایکڑ اراضی کے زمینی کٹائو کی روک تھام کے لیے گلی پلگنگ سپل ویز بنائے گئے اور 21,016 کے سپرز بنائے گئے اور 28 مٹی کے پشتے بنائے گئے ۔

(جاری ہے)

ڈائریکٹر شعبہ تحفظ اراضیات محکمہ زراعت پنجاب غلام اکبر ملک نے سرکاری خبر رساں ادارے سے بات چیت کرتے ہوئے مزید بتایاکہ زمین کی بحالی کے لیے مجموعی طور پر 53,520 ایکڑ رقبہ پر درخت لگائے گئے ۔انہوں نے بتایاکہ مالی سال 1977-78 سے مالی سال 2017-18 تک 7,30,184 ایکڑ بنجر اور بے آباد زمین کی لیولنگ کے ذریعے اسے قابل کاشت بنایا گیا۔غلام اکبر ملک نے اے پی پی کو بتایاکہ پنجاب حکومت نے گذشتہ دو برس کے عرصہ میں پوٹھوہار ریجن میں مجموعی طور پر 1504 سٹرکچر بشمول337 گلی پلگنگ ،353 واٹر ڈسپوزل آئوٹ لیٹس ،298 حفاظتی دیواریں بنائی گئیں ۔

ان سکیموں کی تعمیر پر کسانوں کو تقریباً 80فی صد سبسڈی دی گئی ۔انہوں نے بتایاکہ پوٹھوہار ریجن میں پانی کے ذخائر اور زمینی کٹائو کے ڈھانچوں کی تعمیر کی بدولت 32,190 ایکڑ اراضی کو قابل کاشت بنایا گیا ۔ اس کے علاوہ رعائتی قیمت پر کاشتکاروں کی ناہموار زمین کو بلڈوزروں کے ذریعے ہموار کر کے قابل کاشت بنا یا گیا۔ انہو ں نے اے پی پی کو بتایاکہ منی ڈیمز اور تالابوں کی تعمیر سے موسمیاتی تبدیلیوں پر مثبت اثرات مرتب ہوئے اور ان اقدامات کی بدولت زیر زمین پانی کی سطح بلند ہو نا شروع ہو گئی ہے جبکہ ان علاقوںمیں روزگار کے مواقع بڑھ رہے ہیں اور ماہی پروری اور گلہ بانی کے شعبے کو تقویت مل رہی ہے ۔

یہ اقدامات دیہی ترقی کے لئے بہت بڑی مثبت تبدیلی کی حیثیت رکھتے ہیں۔انہوں نے بتایاکہ اس کے علاوہ بھی محکمہ نے 334.50 ایکڑ اراضی پر پودے لگا کر اسے سرسبز بنایا ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایاکہ منی ڈیم 40ایکڑ اراضی پر تعمیر کیا جاتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ خطہ پوٹھوہار کا سب سے بڑا مسئلہ زمینی کٹائو اور بارشی پانی کا ضیاع ہے کیونکہ پوٹھوہار میں بارشی پانی کو ذخیرہ کرنے کے ناکافی وسائل کے باعث سالانہ 3.5ملین ایکڑ فٹ ضائع ہوجاتا ہے اور بڑے پیمانے پر زمینی کٹائو سے زرخیز زمین ناکارہ ہو جاتی ہے ۔

متعلقہ عنوان :