چیف جسٹس کا جہانیاں میں ماں بیٹی کے بیہمانہ قتل کا نوٹس

آئی جی پنجاب سے 3روز میں رپورٹ طلب،چیف جسٹس نے سوشل میڈیا پروائرل خبرپرنوٹس لیا،ماں بیٹی کوشوہر اور باپ کے قتل کے مقدمے کی پیروی کیلئے پیشی کے بعد قتل کیا گیا،ترجمان سپریم کورٹ

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ اتوار دسمبر 20:57

چیف جسٹس کا جہانیاں میں ماں بیٹی کے بیہمانہ قتل کا نوٹس
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔09 دسمبر 2018ء) چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس میاں ثاقب نثار نے جہانیاں میں عدالت کے باہر ماں بیٹی کے بیہمانہ قتل کا نوٹس لے لیا، ماں بیٹی شوہر اور باپ کے قتل کے مقدمے کی پیروی کے بعد واپس جارہی تھیں،مخالفین نے قتل کردیا، چیف جسٹس نے سوشل میڈیا پر وائرل خبرکا نوٹس لے لیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے جہانیاں میں ماں اور بیٹی کے قتل کا نوٹس لے لیا۔

جہانیاں میں ماں اور بیٹی کو عدالت کے باہر مخالفین نے بے دردی کے ساتھ اس وقت قتل کردیا جب یہ دونوں ماں اور بیٹی اپنے شوہر اور باپ کے قتل کے مقدمے میں پیشی کے بعد واپس جارہی تھیں۔ملزمان قتل کرنے کے بعد موقعے سے فرار ہوگئے۔جبکہ پولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔

(جاری ہے)

تاہم چیف جسٹس سپریم کورٹ ثاقب نثارنے سوشل میڈیا پروائرل خبر کا نوٹس لے لیا۔

چیف جسٹس نے آئی جی پنجاب سے 3روز میں رپورٹ طلب کرلی۔ ترجمان سپریم کورٹ کے مطابق ماں بیٹی کواس وقت قتل کیا گیا جب وہ پیشی کے بعد واپس آرہی تھیں۔ دوسری جانب پاکپتن کے علاقے چک محمد پور مہندی والامیں چارپائی کے بننے کی اجرت مانگنے پر زمیندار اور اس کے بیٹے نے فائرنگ کرکے 70 سالہ بوڑھے شخص کو قتل کر دیا۔ چک محمد پور مہندی والا 70 سالہ مقتول مزدور وریام کا بیٹا یعقوب ملزم زمیندارافضل کے پاس ملازم تھا ۔

اس نے یعقوب کو اپنے باپ وریام کو چارپائی بننے کے لئے بلایا۔ وریام نے چارپائی بننے کے بعد اجرت طلب کی تو ملزم زمیندارافضل اور اس کے بیٹے ذیشان نے فائرنگ کرکے 70 سالہ وریام کو قتل کر دیا۔پولیس مقتول وریام کے بیٹے یوسف کے بیان پر ملزم زمیندارافضل اور اس کے ملزم بیٹے ذیشان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔