چیف جسٹس کی مخدوش طبی سہولیات اور ہسپتالوں کی حالت زار پرتشویش درست ہے‘امیر العظیم

عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات میسر نہیں،ناقص صفائی اور مفت ادویات کی سہولت بھی نام تک محدود ہے سرکاری ہسپتالوں میں انسانیت کی تذلیل کی جاتی ہے،عملے کابے رحمانہ سلوک کسی سے ڈھکاچھپانہیں‘عوامی وفود سے گفتگو

اتوار دسمبر 21:10

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 دسمبر2018ء) امیرجماعت اسلامی صوبہ وسطی پنجاب امیر العظیم نے کہاہے کہ چیف جسٹس کی مخدوش طبی سہولیات اور ہسپتالوں کی حالت زار پرتشویش درست ہے۔تمام سرکاری ہسپتالوں کی صورتحال انتہائی خراب ہے۔عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات ہی میسر نہیں۔ایک بیڈ پرتین تین مریض لٹائے جاتے ہیں۔ہسپتالوں میں مکمل آلات تک نہیں۔

مریضوں کے ساتھ دوردراز سے آئے ہوئے ان کے لواحقین بھی پریشانی اور ذہنی اذیت میں مبتلاہوتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روزلاہور میں عوامی وفود سے گفتگوکرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہاکہ تمام سرکاری ہسپتالوں میں صفائی کے انتظامات انتہائی ناقص ہیں۔مفت ادویات دینے کے حکومتی بورڈ تونظر آتے ہیں مگرمعمولی سی معمولی دوائی بھی ہسپتالوں کے میڈیکل اسٹورز پر نہیں ملتی بلکہ پرائیویٹ میڈیکل اسٹورزپرجانے کے مشورے دیئے جاتے ہیں۔

(جاری ہے)

محکمہ صحت کے افسران کی عدم توجہی کے باعث ہسپتالوں میں قائم شکایات سیل پربھی غریب عوام کی کوئی شنوائی نہیں ہوتی۔عوام بے یارومددگار کھلے آسمان کے نیچے اپنے مریضوں کے ساتھ علاج معالجے کے لیے پڑے نظر آتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ عوام کو صحت کی سہولیات فراہم کرناحکومت کااولین فریضہ ہوتاہے مگر المیہ یہ ہے کہ ماضی کے حکمرانوں نے اس حوالے سے ٹھوس اقدامات نہیں کیے اور موجودہ حکمران بھی محض ڈنگ ٹپائو پالیسیوں کا سہارالے کر معاملات کو چلارہے ہیں۔

صحت کے حوالے سے مختص کیاجانے والابجٹ ضروریات کے پیش نظر بڑھایاجانا چاہئے اور اس میں ہونے والی خردبرداور کرپشن کامکمل خاتمہ کیاجائے۔انہوں نے کہاکہ مریضوں کے ساتھ ڈاکٹرز اور ہسپتالوں کے دیگر عملے کارویہ کسی سے ڈھکاچھپا نہیں ہے ۔جس نوعیت کا بے رحمانہ سلوک مریضوں کے ساتھ روارکھاجاتاہے اس کابھی ادراک کیاجاناچاہئے۔سرکاری ہسپتالوں کی حالت زارحکومت اور انتظامیہ کی کوتاہی کامنہ بولتاثبوت ہے۔مریضوں کی سہولت کے لیے لگائی جانے والی لفٹس بھی اکثروبیشترخراب رہتی ہیں۔امیر العظیم نے مزیدکہاکہ جب تک عوام کوصحت کی بہترین سہولیات فراہم نہیں کی جائیں گی تب تک بہتری کی امید نہیں کی جاسکتی ۔حکومت کو اس حوالے سے سنجیدگی سے ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔