جنوبی پنجاب صوبہ اولین ترجیح ہے، صوبے کے قیام کیلئے بلوچستان اور کے پی کے کو کوئی اعتراض نہیں، سندھ اور اپر پنجاب سے تھوڑے سے تحفظات سامنے آسکتے،وزیرخارجہ

اتوار دسمبر 21:30

ملتان۔9 دسمبر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 دسمبر2018ء) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہاہے کہ جنوبی پنجاب صوبہ اولین ترجیح ہے۔ جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کیلئے بلوچستان اور کے پی کے کو کوئی اعتراض نہیں۔ البتہ سندھ اور اپر پنجاب سے تھوڑی سی مخالفت ہو سکتی ہے۔ان خیالات کااظہار انہوںنے اتوارکے روز آواری ہوٹل کی افتتاحی تقریب سے خطاب کے دوران کیا۔

انہوںنے کہاکہ تحریک انصاف جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کیلئے مخلص ہے اور اس مقصد کیلئے اتفاق رائے پیدا کرنے کیلئے کوشش کررہی ہے۔ جنوبی پنجاب کے عوام کی حالت بہتر کرنے کیلئے ترقیاتی فنڈ علیحدہ مختص کرنے اور سب سیکٹریٹ کے قیام سمیت جو کچھ ممکن ہوا ہم کررہے ہیں۔ انشاء اللہ جنوبی پنجاب صوبہ تحریک انصاف کے دور میں ہی پایہ تکمیل کو پہنچے گا۔

(جاری ہے)

وزیر خارجہ نے ملتان میں آواری ہوٹل کے قیام کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ آواری ہوٹل کا قیام ملتان کی ترقی میں ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔ ہوٹل کی افتتاحی تقریب میں بزرگ صنعت کار خواجہ محمود، خواجہ محمد یونس، خواجہ فاضل ، فیصل مختیار، میاں عامر نسیم سمیت معززین شہر کی ایک بہت بڑی تعداد موجود تھی۔ بعد ازاں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے چیف ایگزیکٹو آواری ملتان خواجہ جلال الدین رومی کے ہمراہ آواری ہوٹل کا افتتاح کیا۔

قبل ازیں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمودقریشی نے ملتان میں مصروف دن گزارا۔انہوں نے این اے 156 کی یونین کونسل 64 کا دورہ کیا اور آفریدی پٹھان برادری سے ملاقات کی اور الیکشن میں تعاون پر شکریہ ادا کیا۔ تحریک انصاف کے ہمراہ یوسف ڈمرا کی رہائش گاہ پر اپنے اعزاز میں منعقدہ استقبالیہ میں شرکت کی اور اہلیان علاقہ سے ملاقات کی۔ کارڈیالوجی انسٹیٹیوٹ ملتان میں اکبر بھٹہ کی عیادت کی۔جماعت اہلسنت کے مرکزی رہنما سید مظہر سعید کاظمی کی رہائش گاہ پر گئے اور ان کی عیادت کی۔ بعد ازاں مخدوم شاہ محمود قریشی بذریعہ طیارہ اسلام آباد روانہ ہوگئے۔