مصنوعی ذہانت اور نئے رحجانات سے آگاہی جدید دور کی دنیا میں ترقی کے لئے اہم ہے

صدر مملکت عارف علوی کا اقراء یونیورسٹی میں ’’مصنوعی ذہانت اور کمپیوٹر کا استعمال‘‘ کے عنوان سے منعقدہ تقریب سے خطاب

پیر دسمبر 00:00

کراچی۔ 9 دسمبر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 دسمبر2018ء) صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت اور نئے رحجانات سے آگاہی جدید دور کی دنیا میں ترقی کے لئے اہم ہے، ہمیں ملک میں علم اور مصنوعی ذہانت کے فروغ اور متعارف کرانے کے لئے اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ نوجوان اس کے ثمرات سے مستفید ہوں، غربت کے خاتمے کے لئے تعلیم ناگزیر ہے کیونکہ جدید معیشت میں جدید مہارتوں کی ضرورت ہوگی ، چوتھا صنعتی انقلاب آ رہاہے جس میں کئی کاموں میں مشینین انسانوں کی جگہ لیں گی، چوتھے صنعتی انقلاب کے اجزاء میں کمپیوٹر، سینسرز اور دیگر جدید ٹیکنالوجی شامل ہیں ، لوگ مصنوعی ذہانت کے استعمال سے اپنے کام کی جگہ سے ہزاروں میل دور بیٹھ کر روزی کما رہے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بحیثیت مہمان خصوصی اتوار کو اقراء یونیورسٹی میں ’’مصنوعی ذہانت اور کمپیوٹر کا استعمال‘‘ کے عنوان سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

اس موقع پر صدر مملکت نے اقراء یونیورسٹی کے زیر اہتمام پریزیڈینشل انیشیٹیو برائے آرٹیفیشل انٹیلیجنس اینڈ کمپیوٹنگ پروگرام کا افتتاح کیا۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہر قدم پر تیزی سے تبدیلیاں آ رہی ہیں اس وقت چوتھا صنعتی انقلاب چل رہا ہے جس میں انسان اور مشین کا یکجا ہونا ضروری ہے،کمپیوٹر سائنس اور فزیکل سائنسز کی ایک فوج تیار کرنا چاہتے ہیں تاکہ پاکستان ترقی کر سکے اور وہ وقت آئے گا جب ہم صنعتی انقلاب کے حوالے سے نمایاں پوزیشن پر ہوں گے ۔

صدر مملکت نے کہا کہ آٹومیٹک چیزوں کا دور ختم اور اب انسان اور مشین کا دور شروع ہو رہا ہے۔ عارف علوی نے کہا کہ پاکستانی نوجوانوں کو جدید دور کے آلات سے آراستہ ہونے کے لئے سخت محنت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپ میں اگلے پانچ سال میں اسی فیصد لوگ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے روشناس ہو جائیں گے جبکہ پاکستان میں صرف دس سے گیارہ فیصد لوگ اس ٹیکنالوجی سے آگاہ ہوں گے ۔

انہوں نے کہا کہ بحیثیت مجموعی قوم کو انسانیت کے راستے پر مالا مال دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کمپیوٹر سائنس اور فزیکل سائنسز کی ایک فوج تیار کرنا چاہتے ہیں تاکہ پاکستان ترقی کر سکے اور امید کرتے ہیں کہ ہماری کاوش اور آپ کی محنت سے پاکستان کو مسائل سے نکالنے میں کامیاب ہو جائیں گے یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان اس ریس میں قدم رکھنے کے لئے تیار ہے۔

چیئرمین اقراء یونیورسٹی حنید حسین لاکھانی نے کہا کہ اقراء یونیورسٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس اینڈ کمپیوٹنگ پروگرام میں طلبا وطالبات کو مفت جدید تعلیم سے آراستہ کیا جائے، ابتدا میں تین کورسز کا آغاز کیا جا رہا ہے جن میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور بلاک چین سے متعلق پروگرام شامل ہیں ۔ ضیا اللہ خان نے کہا کہ پاکستان کو ٹیکنالوجی میں جن چیلنجز کا سامناہے اس سے نمٹنے کے لئے اس پراجیکٹ کی اشد ضرورت تھی۔

سی ای او پینا کلاڈ پرائیویٹ ضیا اللہ خان نے کہا کہ یہ پروگرام صدر مملکت کا ہے اس لئے اس کا معیار اور امتحان بھی سخت ہوں گے۔ تقریب میں چیئرمین اقراء یونیورسٹی حنید حسین لاکھانی، چیئرمین پاکستان اسٹاک ایکسچنج سلیمان مہدی، صدر سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ یوسف لاکھانی، سی ای او پینا کلاڈ پرائیویٹ ضیاء اللہ خان بھی موجود تھے۔