نوٹ-: یہ پیغام 10 دسمبر کی صبح سے قبل شائع یا نشر نہ کیا جائے

بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے تصور کی روشنی میں پاکستان ایک جمہوری اور ترقی پسند ریاست ہے،پاکستانی مساوات، قانون کی حکمرانی، ہر ایک کیلئے احترام اور انصاف پر مبنی معاشرے کے خواہشمند ہیں، ہم ایک مضبوط جمہوریت، قانون کی حکمرانی، آزاد عدلیہ اور آزاد میڈیا کے ساتھ ساتھ ایک فعال سول سوسائٹی کیلئے پرعزم ہیں، موجودہ حکومت انسانی حقوق کے حوالہ سے اپنی ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ ہے وزیراعظم عمران خان کاانسانی حقوق کے عالمی دن پرپیغام

پیر دسمبر 00:40

اسلام آباد۔9 دسمبر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 دسمبر2018ء) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے تصور کی روشنی میں پاکستان ایک جمہوری اور ترقی پسند ریاست ہے،پاکستانی مساوات، قانون کی حکمرانی، ہر ایک کیلئے احترام اور انصاف پر مبنی معاشرے کے خواہشمند ہیں، ہم ایک مضبوط جمہوریت، قانون کی حکمرانی، آزاد عدلیہ اور آزاد میڈیا کے ساتھ ساتھ ایک فعال سول سوسائٹی کیلئے پرعزم ہیں، موجودہ حکومت انسانی حقوق کے حوالہ سے اپنی ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ ہے۔

اتوارکوانسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی برادری کے ساتھ انسانی حقوق کا دن مناتے ہوئے فخر محسوس کر رہا ہے، یہ دن انسانی حقوق کے تحفظ اور فروغ کے عالمی عزم کا اعتراف کرتا ہے، یہ دن ’’وقار، آزادی، مساوات اور انصاف ہر ایک کیلئے‘‘ کے تحت منایا جا رہا ہے، ہمارے بانی رہنما قائد اعظم محمد علی جناح کے تصور کی روشنی میں پاکستان ایک جمہوری اور ترقی پسند ریاست ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ پاکستانی مساوات، قانون کی حکمرانی، ہر ایک کیلئے احترام اور انصاف پر مبنی معاشرے کے خواہشمند ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم ایک مضبوط جمہوریت، قانون کی حکمرانی، آزاد عدلیہ اور آزاد میڈیا کے ساتھ ساتھ ایک فعال سول سوسائٹی کیلئے پرعزم ہیں۔ موجودہ حکومت انسانی حقوق کے حوالہ سے اپنی ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ ہے۔ قانون سازی اور پالیسی اقدامات، عالمی معاہدوں کی رپورٹس کے دفاع اور پیش کرنے، وفاق سے نچلی سطح تک انسانی حقوق کے ڈھانچے کا قیام، نیشنل ایکشن پلان اور مالیاتی شمولیت کی تذویرات، ادارہ جاتی اصلاحات، صنف کی بنیاد پراختیارات، تحفظ اطفال اور سماجی حلقوں کی فراہمی موجودہ حکومت کے انسانی حقوق کے شعبہ میں اٹھائے گئے چند اقدامات ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت پاکستان اپنے تمام شہریوں اور عالمی برادری کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہے، دنیا کی تمام اقوام کی طرح ہمیں بھی چیلنجوں کا سامنا ہے تاہم ہم ایک مضبوط عزم کے ساتھ ان چینلجوں سے نمٹ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کا وژن انسانی حقوق کو قومی دھارے میں لانا یقینی بنانے کیلئے توجہ مرکوز کرنا ہے، انہوں نے کہاکہ ہم خواتین اور معاشرے کے پسے ہوئے طبقات کے ساتھ امتیاز کے حل کیلئے کام کر رہے ہیں، انہیں آئین کے تحت حاصل اختیارات کا تحفظ یقینی بنانے اور ترقی کیلئے سماجی ، اقتصادی ماحول کے قابل بنانے کیلئے اقدامات اٹھا رہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ آزاد کمیشنز ، عدالتوں کو بااختیار بنا کر، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے نمٹنے کیلئے کام ، حراساں کئے جانے کی روک تھام کیلئے محتسب دفاتر اور 2020ء تک بنکنگ کے نظام میں خواتین کی تعداد بڑھانے سمیت دیگر اقدامات قر کام ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ٹریٹی ایمپلیمنٹیشن سیل معاہدوں پر موثر عملدرآمد یقینی بنانے کیلئے اور اس کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومتیں اور ٹاسک فورس ہمارے ٹھوس اقدامات کی عکاسی ہے۔

وزیراعظم نے کہ وزارت انسانی حقوق کے کام کو سراہے جانے کی ضرورت ہے، گزشتہ تین ماہ کے دوران اس وزارت نے پاکستان میں انسانی حقوق کے تحفظ اور فروغ کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائے ہیں، اس میں پالیسیاں اور خواتین کو بااختیار بنانے کے ساتھ ساتھ صنف کی بنیاد پر تشدد اور بچوں سے زیادتی کے نو نئے قوانین شامل ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ وزارت نے ورثہ میں خواتین میں حق کے حوالے سے سٹڈی مکمل کی ہے ،وراثت اور ان کی اپنی جائیداد کے حق سے کسی خاتون کو محروم نہ رکھنے کو یقینی بنانے کیلئے تمام متعلقہ فریقین سے مل کر کام کر رہی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ گورننس صرف ریاستی مشینری کو کسی ملک کی سرحدیں محفوظ رکھنے اور امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول میں رکھنے کا نام نہیں۔ اقوام کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے سے امتیاز اور عدم مساوات کا خاتمہ کریں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں مل کر معاشرے کے بنیادی حقوق سے محروم اور پسے ہوئے طبقات کے استحصال ختم کرکے انہیں عزت اور برابری کی بنیاد پر زندگی کا حق دینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت اس تصورکو ٹھوس حقیقت میں بدلنے کیلئے پرعزم ہے۔