پیرا گون ہائوسنگ سکینڈل: عبوری ضمانت میں توسیع کی استدعا مسترد

نیب نے خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی کو حراست میں لے لیا ایک ہی گھر کا نمبر 3، 3 افراد کو الاٹ کیا گیا،وکیل نیب ،قرآن پاک پر حلف دیتا ہوں کہ ایک گھر ایک ہی بندے کو الاٹ کیا گیا ،خواجہ سعد رفیق کا عدالت میں بیان

منگل دسمبر 16:29

پیرا گون ہائوسنگ سکینڈل: عبوری ضمانت میں توسیع کی استدعا مسترد
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 دسمبر2018ء) قومی احتساب بیورو (نیب) نے پیراگون ہاؤسنگ سکینڈل میں خواجہ برادران، خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق، کو ضمانت مسترد ہونے پر لاہور ہائیکورٹ سے حراست میں لے لیا۔منگل کے روز مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق نے پیراگون ہاؤسنگ اسکینڈل میں نیب کو ان کی گرفتاری سے روکنے سے متعلق لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دی تھی، اس سلسلے میں وہ عدالت عالیہ میں پیش ہوئے۔

خواجہ برادران نے اپنے وکیل کے ذریعے عبوری ضمانت میں 13 دسمبر تک توسیع کرنے کی درخواست کی، جسے لاہور ہائیکورٹ نے مسترد کردیا۔عدالت کی جانب سے ضمانت میں توسیع کی درخواست مسترد کیے جانے پر نیب نے احاطہ عدالت سے خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق کو حراست میں لے لیا۔

(جاری ہے)

لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس طارق محمود عباسی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے خواجہ برادران کی جانب سے پیراگون ہاؤسنگ سوسائٹی میں بے ضابطگیوں کے خلاف دائر عبوری ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی۔

دوران سماعت نیب پراسیکیوٹر نے دلائل دیئے، نیب کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ نیب قانون کے مطابق خواجہ برادران کے خلاف کارروائی کر رہا ہے، خواجہ برادران کا پیراگون سے بالکل تعلق ہے،انہوں نے کہا کہ خواجہ سعد رفیق کی اہلیہ نے قیصر امین بٹ سے مل کر پیراگون ہاؤسنگ سٹی میں پارٹنر شپ کی، پیراگون ہاؤسنگ سوسائٹی سے خواجہ برادران کو بھی پیسے آتے رہے، خواجہ برادران نے مانا ہے کہ انہوں نے کروڑوں روپے کمیشن کے طور پر لیے۔

نیب کے وکیل کا کہنا تھا کہ خواجہ سعد رفیق کے بہنوئی بھی اس معاملے میں پارٹنر ہیں، اگر کوئی رقم چوری اور ڈکیتی سے حاصل کی جائے اور ٹیکس ریٹرن میں اسکا ذکر کر دیا جائے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ رقم درست ہے۔انہوں نے کہا کہ شاہد بٹ نے نیب کو بیان دیا کہ خواجہ سعد رفیق ہر اجلاس میں آتے تھے اور الاٹمنٹ لیٹر لوگوں کو جاری کرتے تھے، خواجہ برداران کے خلاف تب انکوائری شروع ہوئی جب مسلم لیگ (ن) کی حکومت تھی۔

نیب کے وکیل نے عدالت عالیہ کو بتایا کہ چیئرمین نیب جج رہ چکے ہیں ان کی کسی کے ساتھ نہ دشمنی ہے نہ دوستی، وہ قانون کے مطابق کام کرتے ہیں اور انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کی ضمانت خارج ہونی چاہیے۔اس موقع پر خواجہ برادران کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ایگزیکٹو بلڈرز کے کل منافع سے صرف 6 فیصد خواجہ برادران نے لیا، خواجہ سعد رفیق اور سلمان رفیق نے جو کمایا، وہ ٹیکس ریٹرنز میں ڈکلیر کردیا۔

نیب وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ایک ہی گھر کا نمبر 3، 3 افراد کو الاٹ کیا گیاجس پر خواجہ سعد رفیق نے عدالت سے بات کرنے کی اجازت مانگتے ہوئے کہا کہ میں قرآن پاک پر حلف دیتا ہوں کہ ایک گھر ایک ہی بندے کو الاٹ کیا گیا ہے۔خواجہ برادران کے وکلائ نے موقف اختیار کیا کہ پیراگون ہاؤسنگ کیس کے ایک ملزم کو گرفتار کرکے 164 کا بیان ریکارڈ کروایا گیا ہے جبکہ بیان کی کاپی بھی نہیں دی جا رہی۔

جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ شواہد کی نقل تو آپ کو نہیں دی جاسکتی۔ سماعت کے دوران نیب تحقیقات ڈی جی نیب لاہور سے تبدیل کروانے سے متعلق خواجہ برادران کی درخواست کا معاملہ بھی زیرغور آیا۔واضح رہے کہ خواجہ برادران نے چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال سے اپنا کیس کسی اور بیورو منتقل کرنے کی درخواست کی تھی، جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ نیب لاہور سے تفتیش کسی غیر جانبدار بیورو کو منتقل کی جائے کیوں کہ ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم کی موجودگی میں غیر جانبدار تفتیش کی توقع نہیں۔

تاہم آج سماعت کے دوران نیب وکیل نے عدالت عالیہ کو بتایا کہ چیئرمین نیب نے خواجہ برادران کی درخواست پر فیصلہ کرتے ہوئے اسے مسترد کردیا ہے۔عدالت نے خواجہ برادران کی درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے ان کی ضمانت مسترد کردی، جس کے بعد عدالت میں موجود نیب کے نمائندوں نے خواجہ برادران کو حراست میں لے لیا۔