سہ فریقی پروگرام کے سینئر حکام کا 13 واں اجلاس

اجلاس میں علاقائی نمائندے افغانستان سے منشیات کی سمگلنگ کی موثر روک تھام کے طریقوں پر تبادلہ خیالات کیا گیا

منگل دسمبر 16:55

سہ فریقی پروگرام کے سینئر حکام کا 13 واں اجلاس
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 دسمبر2018ء) اسلامی جمہوریہ افغانستان، ایران اور پاکستان کے انسداد منشیات حکام کے درمیان دو روزہ اجلاس میریٹ ہوٹل اسلام آباد میں شروع ہو گیا ہے۔ ’’سہ فریقی پروگرام کے سینئر حکام کے 13 ویں اجلاس‘‘ کی میزبانی کے فرائض وزارت انسداد منشیات، حکومت پاکستان انجام دے رہی ہے جس میں علاقائی نمائندے افغانستان سے منشیات کی سمگلنگ کی موثر روک تھام کے طریقوں پر تبادلہ خیالات کر رہے ہیں۔

اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزارت انسداد منشیات، حکومت پاکستان کے سیکرٹری عارف نواز خان نے کہا کہ ان کی سربراہی میں علاقائی نمائندے، علاقائی تعاون کے ان مختلف انتظامات پر ہونے والی پیشرفت پر روشنی ڈالیں گے جن پر سہ فریقی پروگرام کے تحت تینوں ممالک اتفاق کر چکے ہیں۔

(جاری ہے)

ان میں معلومات کے تبادلے، منصوبہ بندی اور منشیات کی روک تھام کی سرگرمیوں اور سرحدی رابطہ دفاتر (بی ایل اوز) کے قیام سمیت علاقائی سطح پر جوابی اقدامات بہتر بنانا بھی شامل ہے۔

سینئر حکام کے 13 ویں اجلاس کی شریک سربراہی کے فرائض پاکستان میں یو این او ڈی سی کے نمائندہ جناب سیزر گوئیڈس انجام دے رہے ہیں۔ اپنے افتتاحی کلمات میں جناب سیزر گوئیڈس نے کہا کہ ’’ہمارا یقین ہے کہ اشتراک عمل کی اس سٹریٹجک کارروائی کے فریم ورک کے تحت بڑے پیمانے پر منشیات کی آمدورفت کے تدارک کے لئے علاقائی پارٹنرشپ کا استحکام زندگیاں بچانے اور ان کا معیار بہتر بنانے کے اہم ذریعہ کا کام دے سکتا ہے‘‘۔

سہ فریقی پروگرام کے سینئر حکام کے اجلاس میں پاکستانی وفد کی سربراہی کے فرائض انسداد منشیات فورس کے ڈائریکٹر جنرل، میجر جنرل عارف ملک انجام دے رہے ہیں جبکہ افغانستان اور ایران کے وفود کی قیادت دونوں ملکوں کے متعلقہ ڈائریکٹر جنرل صاحبان کر رہے ہیں۔ یو این او ڈی سی کنٹری آفس ایران کے نمائندہ اور افغانستان و ہمسایہ ممالک کے لئے یو این او ڈی سی کے علاقائی پروگرام کے سربراہ ممتاز مندوبین میں شامل ہیں۔

2007 میں اپنی سرگرمیوں کے آغاز سے یو این او ڈی سی کی معاونت سے قائم ہونے والا یہ سہ فریقی فورم علاقائی سوچ کے تحت انسداد منشیات کی سرگرمیوں میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔ اس پروگرام کو ’پیرس پیکٹ انیشئیٹو‘ اور افغانستان کے لئے اس کی ’رینبو سٹریٹجی‘ کی حمایت حاصل ہے جس میں پوپی کی سپلائی، اسمگلنگ اور استعمال کم کرنے کے لئے کئی طرح کے پروگرام شامل ہیں۔

یو این او ڈی سی اس فورم کے سلسلے میں تکنیکی معاونت فراہم کر رہا ہے اور انسداد منشیات کے علاقائی حکام کی استعداد بہتر بنانے کے فرائض انجام دیتا ہے۔ تینوں ممالک ایک طویل عرصے منشیات کی لعنت کے خلاف سرگرم ہیں اور اس جدوجہد کی بھاری قیمت ادا کر چکے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے متعدد افسران و اہلکار اور کئی عام شہری منشیات کی سمگلنگ کے خلاف جنگ اپنی جانیں قربان کر چکے ہیں۔ سینئر حکام کے اجلاس سے تینوں ممالک کو ایک جامع اور متوازن سوچ پر عمل کرتے ہوئے مشترکہ مشکلات کے حل تلاش کرنے میں مدد ملے گی۔ اجلاس کے دوران مشترکہ ذمہ داری کے اصول کے تحت علاقائی تعاون بہتر بنانے پر بھی تبادلہ خیالات کیا جائے گا۔