اپوزیشن کی حکومت کو نوازشریف منصوبوں کے آڈٹ کی آفر

نوازشریف کے پیراز کے آڈٹ کواپوزیشن لیڈر چیئرنہیں کرےگا، گزشتہ ادوار کے منصوبوں کےآڈٹ کی سربراہی پی ٹی آئی کرلے، لیکن چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی قائد حزب اختلاف ہی ہوگا۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کا اتفاق

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ منگل دسمبر 16:47

اپوزیشن کی حکومت کو نوازشریف منصوبوں کے آڈٹ کی آفر
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔11 دسمبر 2018ء) اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کو نوازشریف منصوبوں کے آڈٹ کی آفرکردی۔ قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے کہا کہ چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی قائد حزب اختلاف ہی ہوگا، نوازشریف کے پیراز کے آڈٹ کواپوزیشن لیڈر چیئر نہیں کرے گا،گزشتہ ادوار کے منصوبوں کےآڈٹ کی سربراہی پی ٹی آئی کرلے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اپوزیشن جماعتوں کے مشترکہ اجلاس کے بعد چیئرمین پی اے سی کی تعیناتی کے معاملے پر اپوزیشن لیڈر شہبازشریف نے اسپیکر قومی اسمبلی سے ون ٹوون ملاقات کی۔

جس میں چیئرمین پی اے سی قائد حزب اختلاف کو لگانے اور نیب کی سیاسی انتقامی کاروائیوں کیخلاف شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ شہبازشریف نے کہا کہ ہم ملک کو قوم کی ترقی اور خوشحالی کیلئے ایوان کا وقت ضائع نہیں کریں گے۔

(جاری ہے)

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہبازشریف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حمزہ شہبازکے معاملے پر زیادتی ہوئی ہے۔ ملک میں سویلین ڈکٹیٹرشپ ہے۔

حکومت کی سفاکیت کی مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کے مشاورتی اجلاس میں ایوان میں متفقہ حکمت عملی اپنانے سے متعلق لائحہ عمل ترتیب دیا گیا ہے۔ شہبازشریف نے کہا کہ ایوان کا وقت ضائع ہونے سے بچائیں گے اور اپنی ذمہ داری پوری کریں گے۔انہوں نے خواجہ برادران کی گرفتاری پرتحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نیازی اور نیب کا غیرمقدس الائنس ہے۔

مالم جبہ کیس میں ابھی تک کسی کوہاتھ نہیں لگایا گیا۔ ہائیکورٹ کے حکم کے باجود کیس ٹھپ کردیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو سے متعلق بتایا گیا جب کمپنی بنی توان کی عمرایک سال تھی۔چنیوٹ آئرن کا خزانہ پرویز مشرف کے دور میں لٹایا گیا۔ شہبازشریف نے کہا کہ چیئرمین پی اے سی کیلئے حمایت کرنے پرپیپلزپارٹی کا شکر گزار ہوں۔اپوزیشن نے واضح کردیا کہ پی اے سی کا چیئرمین قائد حزب اختلاف ہوگا۔

چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے معاملے پر حکومت بہانے ڈھونڈ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ نوازشریف کے پیراز کے آڈٹ کیلئے کمیٹی کو اپوزیشن لیڈر چیئر نہیں کرے گا۔گزشتہ ادوار کے منصوبوں کیلئے سب کمیٹی بنا دی جائے اس کی سربراہی پی ٹی آئی کرلے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے کہا کہ باپ کے بعد بیٹے کیخلاف کاروائی سیاسی انتقام ہے۔ دوسری جانب خواجہ بردران کی گرفتاری کے بعد مسلم لیگ ن اور اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس ہوا۔

جس میں آئندہ کی حکمت عملی سے متعلق غور کیا گیا۔اس موقع پر رکن قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق کی ایوان میں حاضری کو یقینی بنانے کیلئے اسپیکر قومی اسمبلی کو درخواست بھی جمع کروادی گئی۔درخواست میں خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈرجاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کوخواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈرکیلئے درخواست ن لیگی رہنماؤں شیزافاطمہ اور مائزہ حمید نے جمع کروائی۔