منشیات کے خاتمے کیلئے خطے کے تمام ممالک کو مل کر کام کرنا ہوگا،

منشیات کی سمگلنگ روکنے کے لئے معلومات کے تبادلے اور سرحدی انتظام کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے، پاکستان ایران اور افغانستان منشیات کی سمگلنگ کی روک تھام کیلئے مل کرکام کر رہے ہیں وفاقی وزیر برائے انسداد منشیات سردارعلی محمد خان مہر کا افغانستان، ایران اور پاکستان کیسینئر حکام کے اجلاس سے خطاب

منگل دسمبر 17:03

منشیات کے خاتمے کیلئے خطے کے تمام ممالک کو مل کر کام کرنا ہوگا،
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 دسمبر2018ء) وفاقی وزیر برائے انسداد منشیات سردارعلی محمد خان مہر نے کہا ہے کہ منشیات کے خاتمے کے لئے خطے کے تمام ممالک کو مل کر کام کرنا ہوگا، منشیات کی سمگلنگ روکنے کے لئے معلومات کے تبادلے اور سرحدی انتظام کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے، پاکستان ایران اور افغانستان منشیات کی سمگلنگ کی روک تھام کے لئے مل کرکام کر رہے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو افغانستان، ایران اور پاکستان کے سہ فریقی پروگرام کے سینئر حکام کے 13ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کو منشیات سے پاک کرنے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں ۔ بچوں کے سنہرے مستقبل کے لئے منشیات کا خاتمہ ہماری اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ منشیات سے پاک معاشرہ ہی ترقی کی ضمانت ہے ۔

(جاری ہے)

پاکستان کے منشیات کے خاتمے کے حوالے سے اقدامات کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے۔ اس سے پہلے ایران اور افغانستان کے وفود کا خیر مقدم کرتے ہوئے وفاقی سیکرٹری برائے وزارت انسداد منشیات عارف نواز خان نے کہا کہ اس کانفرنس میں علاقائی نمائندے علاقائی تعاون کے ان مختلف انتظامات پر ہونے والی پیشرفت پر غور کریں گے جن پر سہ فریقی پروگرام کے تحت تینوں ممالک اتفاق کرچکے ہیں، ان میں معلومات کے تبادلے منصوبہ بندی اور منشیات کی روک تھام کی سرگرمیوں اور سرحدی رابطہ دفاتر کے قیام سمیت علاقائی سطح پر اقدامات بہتر بنانا ہے۔

یو این او ڈی سی کے نمائندے سیزر گورڈس نے کہا کہ اشتراک عمل کی اس سٹریٹیجک کاروائی کے فریم ورک کے تحت بڑے پیمانے پر منشیات کی آمد ورفت کے تدار ک کیلئے علاقائی پارٹنرشپ کا استحکام زندگیاں بچانے اور ان کا معیار بہتر بنانے کے اہم ذریعہ کا کام دے سکتا ہے۔ اجلاس میں پاکستانی وفد کی سربراہی انسداد منشیات فورس کے ڈائریکٹرجنرل میجر جنرل عارف ملک کررہے ہیں جبکہ افغانستان اور ایران کے وفود کی قیادت دونوں ملکوں کے متعلقہ محکموں کے ڈائریکٹرجنرلز کررہے ہیں۔

یو این او ڈی سی کنٹری آفس ایران کے نمائندے اور افغانستان و ہمسایہ ممالک کے لئے یو این او ڈی سی کے علاقائی پروگرام کے سربراہان مندوبین میں شامل ہیں۔ سینئر حکام کے اجلاس سے تینوں ممالک کے ایک جامع اور متوازن سوچ پر عمل کرتے ہوئے مشترکہ مشکلات کا حل تلاش کرنے میں مدد ملے گی۔ اجلاس کے دوران مشترکہ ذمہ داری کے اصول کے تحت علاقائی تعاون بہتر بنانے پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔