وفاقی کابینہ کا اجلاس تو ساڑھے گیارہ شروع ہوالیکن وزیراعظم کب پہنچے؟

اجلاس کا باقاعدہ آغاز تو ساڑھے گیارہ بجے ہوا تاہم عمران خان دو گھنٹے پہلے سے بیٹھے تھے

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان منگل دسمبر 17:03

وفاقی کابینہ کا اجلاس تو ساڑھے گیارہ شروع ہوالیکن وزیراعظم کب پہنچے؟
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 11 دسمبر 2018ء) :گذشتہ روز وفاقی کابینہ کا ایک طویل اجلاس ہوا تھا جو ابھی بھی زیر بحث ہے اسی حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی عامر متین کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ کا اجلاس بغیر کسی ایمرجنسی کے کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ بغیر کسی ایمرجنسی کے وفاقی کابینہ کے اتنے طویل اجلاس ہوں۔

عامر متین کا مزید کہنا تھا کہ اجلاس کا باقاعدہ آغاز تو ساڑھے گیارہ بجے ہوا تاہم عمران خان دو گھنٹے پہلے سے بیٹھے تھے اور پھر باری باری حساب دو پیارے بچوں والا سلسلہ شروع ہوا۔اجلاس میں تمام وزراء نے اپنی اپنی کارگردگی سے متعلق رپورٹ پیش کی۔اس طرح وزراء سے ان کی کارگردگی کا حساب لینا بہت اچھی بات ہے کیونکہ ماضی میں بھی ایسے وعدے کیے گئے تھے،ماضی میں نواز شریف بھی کہا کرتے تھے کہ ہم بھی تین ماہ بعد وزیروں کی کارگردگی کا جائزہ لیں گے۔

(جاری ہے)

اور وزیراعظم عمران خان نے نہ صرف وزراء کا حساب لیا بلکہ آئندہ کے لیے ڈیڈلائن بھی دی۔پیر کو کابینہ کے خصوصی اجلاس سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیرِ اطلاعات چوہدری فواد حسین نے کہا کہ وفاقی کابینہ کا اجلاس 9 گھنٹے جاری رہا۔ وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین نے بتایا کہ کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم نے کہا کہ موجودہ حکومت نے ایک نہایت مشکل وقت میں حکومت سنبھالی ہے، آج ملک تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے، پاکستان آج خطہ کے دوسرے ممالک کے مقابلہ میں بھی بہت سارے شعبوں میں پیچھے رہ گیا ہے، ایسے حالات میں کچھ نہ کرنا یا معمول کے مطابق کارروائی آپشن نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس ملک میں غریب کی حالتِ زار کی بہتری کی بات اکثر ہوتی رہی ہے لیکن سابقہ حکومتوں اور موجودہ حکومت میں یہ فرق ہے کہ ہم نے ملک اور عوام کی حالت کی بہتری کی بات محض ووٹ حاصل کرنے کیلئے نہیں کی بلکہ ہم دل سے اس پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے کینسر ہسپتال اور نمل یونیورسٹی کے قیام کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر نیت ٹھیک ہو اور ارادے مضبوط ہوں تو کوئی چیز ناممکن نہیں۔